مفتی محمد راشد ڈسکوی
اللہ سے حالات درست کرنے کے لیے ایک عمل اللہ تعالیٰ کے ہی رازق ہونے کا یقین رکھنا ہے کہ ہر ہر ذی روح کا رزق اس کے ذمے ہے، جیسا کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں :’’ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! گرانی (مہنگائی) بڑھ گئی ہے، لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیجیے، تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے، اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو (اس لیے میں بھاؤ مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہوں)۔‘‘(سنن ابو داؤد،:۳۴۵۱)
حضرت ابو حازم ؒکے پاس کچھ لوگ آئے اور عرض کیا: ’’اے ابو حازم! تم دیکھتے نہیں کہ مہنگائی کس قدر بڑھ گئی ہے؟ (ہمیں اِن حالات میں کیا کرنا چاہیے؟) ابو حازم ؒ نے جواب دیا کہ تمہیں غم میں ڈالنے والی چیز کیا ہے؟ (اس بات پر یقین رکھو کہ) بے شک ،وہ ذات جو ہمیں کشادگی والے حالات میں رزق دیتی تھی ،وہی ذات اب تنگی اور مہنگائی والے حالات میں رزق دے گی (اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بس اس کی نافرمانی سے بچتے ہوئے اس کی فرماں برداری میں لگے رہو) ۔ ‘‘ (حلیۃ الاولیاء، ج: ۳، ص:۲۳۹)
حضرت ابو العباس سلمی ؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت بشر بن حارث ؒکو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’جب تمہیں مہنگائی کا حد سے بڑھ جانا فکر میں ڈالے تو تم اپنی موت کو یاد کر لیا کرو، یہ (موت کا غم اور فکر) تم سے مہنگائی کا غم دور کر دے گا۔‘‘(حلیۃ الاولیاء، ج: ۸، ص:۳۴۷)
دوسرا عمل توبہ و استغفار کرنے کا ہے، اور تیسرا: اپنے روزگار کے حصول میں چاہے وہ تجارت کے ذریعے ہو، یا شرکت و مضاربت کے ذریعے، اجارے کا معاملہ ہو یا مزارعت کا، ہر ذریعۂ معاش میں شریعت کے بیان کردہ راہنما اصولوں کو سامنے رکھیں، اور مہنگائی کے حالات میں صحابہ کرام ؓ کے طرزِ عمل اور ارشادات وفرمودات کے مطابق اپنا عمل بنائیں۔
یاد رکھیں کہ دنیا کے تمام مصائب اور مسائل سے خلاصی کا سب سے پہلا حل یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کرے، سچے دل سے ان پر ندامت کا اظہار کرے، اور اللہ سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ ان کے ترک کا عزمِ مصمم کرے، تو اس سے اللہ اپنے بندوں سے خوش ہوکر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے گا، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی زبانی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ اور (اس سمجھانے میں ) میں نے (ان سے یہ ) کہا کہ تم اپنے پروردگار سے گناہ بخشواؤ، بےشک، وہ بڑابخشنے والا ہے، تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، اور تمہاری مال اور اولاد سے مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا۔‘‘ (سورۃ النوح: ۱۰ -۱۲)
تجارت کے اسلامی اصولوں کی پابندی:۔ انسانی زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح خرید و فروخت کے میدان میں بھی اسلام کے ذکر کردہ اصول اتنے شاندار ہیں کہ انہیں اپنا لینے کی صورت میں معاشی میدان میں مہنگائی جیسی مصیبت سے عافیت حاصل کی جاسکتی ہے، ذیل میں اسلامی تجارت کے بعض اصول ذکر کیے جاتے ہیں:
دھوکا دہی سے بچنا:۔ موجودہ دور میں اکثر تجارتوں کی بنیاد ہی دھوکا دہی پر مشتمل ہوتی ہے۔اشیائے خوردونوش ہوں یا لباس اور آرائش وزیبائش کی خریداری، تاجر پیشہ حضرات فریب دینے سے باز نہیں رہتے۔ سامان کا عیب پوشیدہ رکھ کر معمولی مقدار کے منافع کی جگہ کئی گنا منافع لے لیا جاتا ہے، تجارت کی منڈی میں اسے ہاتھ کی صفائی اور فن تصور کیا جاتا ہے، حالانکہ اسلام نے اس حرکت سے بڑی سختی سے روکا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے :رسول اللہﷺ نے ایک جگہ سے گزرتے ہوئے ایک ڈھیر اناج کا دیکھا، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو انگلیوں پر تری آ گئی۔ آپﷺ نے پوچھا: اے اناج کے مالک!یہ کیا ہے؟ وہ بولا: پانی پڑ گیا تھا یا رسول اللہﷺ! آپ ﷺنے فرمایا: پھر تو نے اس بھیگے اناج کو اوپر کیوں نہ رکھا کہ لوگ دیکھ لیتے، جو شخص فریب کرے، دھوکہ دے، وہ مجھ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔‘‘(صحیح مسلم، : ۲۸۴)
خریداری کے ارادے کے بغیر قیمت لگانے کی ممانعت:۔ آپ کسی دکان پر جائیں، کبھی مشاہدہ ہوگا کہ اس دکان پر آپ کے علاوہ دیگر کئی لوگ بھی پہنچتے ہیں اور جس چیز کو آپ خریدنا چاہتے ہیں، وہ افراد خریدار بن کر اس کی قیمت بڑھانے لگتے ہیں، اس عمل کو شریعت کی اصطلاح میں ’’نجش‘‘ کہتے ہیں۔ درحقیقت یہ دکان داروں کی سازش ہوتی ہے، تاکہ آپ مطلوب سامان کو زیادہ قیمت دے کر خرید لیں، حالانکہ اس حرکت سے اللہ کے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر ؓکہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے بیعِ نجش سے منع فرمایا ہے ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث: ۲۱۷۳)
’’بیع نجش ‘‘ یہ ہوتی ہے کہ آدمی بیچنے والے سے سازش کر کے مال کی قیمت بڑھا دے، اس حال میں کہ خود اس کا خریدنا منظور نہ ہو، تاکہ دوسرے خریدار دھوکہ کھائیں اور قیمت بڑھا کر اس مال کو خرید لیں، اس زمانہ میں نیلام میں اکثر لوگ ایسا کیا کرتے ہیں اور اس فعل کو گناہ نہیں سمجھتے، جب کہ یہ کام حرام اور ناجائز ہے، اور ایسی سازش کے نتیجے میں اگر خریدار اس مال کی اتنی قیمت دیدے جتنی حقیقت میں اس مال کی نہیں بنتی تو اس کو اختیار ہے کہ وہ اس بیع کو فسخ کر دے، اور سامان واپس کر کے اپنا پیسہ لے لے۔
بازار میں پہنچنے سے پہلے قافلہ والوں کے سامان کو خریدنے کی ممانعت:۔حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تجارتی قافلے سے (مال) خریدنے کے لیے (شہر، یا منڈی وغیرہ سے) باہر نکل کر نہ ملو، اور تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے، نہ بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرو اور نہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے۔‘‘(سنن نسائی، : ۴۵۰۱)
علمائے کرام اس ممانعت کی حکمت یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ فعل بازار میں اس خاص سامان کی قلت کا سبب بنتا ہے اور وہ چیز مہنگی ہوجاتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ : ’’رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ آگے جا کر قافلے سے ملا جائے، یہاں تک کہ وہ خود بازار آئے (اور وہاں کا نرخ (بھاؤ) معلوم کر لے)۔‘‘ (سنن نسائی، ۴۵۰۳)
حضرت انسؓ سے روایت ہے: ’’ نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ: شہری دیہاتی کا سامان بیچے، اگرچہ وہ اس کا باپ یا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (سنن نسائی، ۴۴۹۷)
اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے ایک دوسری حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: ’’ لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ رزق (روزی) فراہم کرتا ہے۔‘‘ (سنن نسائی، : ۴۵۰۰)
ذخیرہ اندوزی کی ممانعت:۔ سابقہ سطور میں گزراکہ مہنگائی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ضرورت کی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی بھی ہے کہ تجار بھلے وقتوں میں کسی چیز کو خرید کر اپنے پاس اس انتظار میں روک لیں کہ جب وہ چیز بازار میں مہنگی ہو جائے گی تو اسے فروخت کریں گے، واضح رہے کہ شریعت نے تاجروں کو اس سے روکا ہے۔ حضرت معمر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا’’گناہ گار ہی احتکار (ذخیرہ اندوزی)کرتا ہے۔‘‘(سنن ترمذی، : ۱۲۶۷) (جاری ہے)