• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مہنگائی و معاشی بدحالی کے اسباب اور اُن کا حل

مفتی محمد راشد ڈسکوی

(گزشتہ سے پیوستہ)

حصولِ برکت والے اسباب کو اختیار کرنا:۔ بلاشبہ شریعتِ اسلامیہ نے حصولِ برکت کے بہت سے آداب وذرائع متعین کیے ہیں، جنہیں بروئے کار لاکر ایک انسان برکت جیسی نعمت سے محظوظ ہوسکتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ اگر آج بھی برکتوں کا نزول ہو تو ملک، صوبہ اور شہر غربت و افلاس اور مہنگائی جیسی مصیبتوں سے محفوظ ہوجائے گا ، ہر شخص آرام و سکون کی زندگی بسر کرنے لگے گا اور برکت کی وجہ سے اس کے مال ودولت ہی اس کے لیے کافی ہوں گے اور در در ہاتھ پھیلانے سے محفوظ ہوگا، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جن افعال کو شریعت میں باعثِ برکت قرار دیا گیا ہے، ان کی پابندی کریں اور ان کی انجام دہی کی کوششیں کریں۔حضرت حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بیچنے اور خریدنے والے اگر سچ بولیں گے اور (عیب و ہنر کو)صاف صاف بیان کر دیں گے تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی، اور اگروہ جھوٹ بولیں گے اور عیب کو چھپائیں گے تو ان کی خرید و فروخت کی برکت جاتی رہے گی۔‘‘ (سنن نسائی، : ۴۴۶۲)

مہنگی اشیاء کا بدل استعمال کرنا:۔سیدنا علی بن ابی طالب ؓکے زمانۂ خلافت میں مکے کے اندر کسی موقعے سے زبیب (کشمش)کی قیمت بڑھ گئی۔ لوگوں نے خط لکھ کر کوفے میں موجود حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے اس کا شکوہ کیا، تو انہوں نے یہ رائے تجویز فرمائی کہ تم لوگ کشمش کے بدلے کھجور استعمال کیا کرو، کیونکہ جب تم ایسا کروگے تو مانگ کی کمی سے کشمش کی قیمت گرجائے گی اور وہ سستی ہوجائے گی۔ (اگر سستی نہ بھی ہوتو کھجور اس کا بہترین متبادل ہے۔) (تاریخ ابن معین، ج:۳، ص:۱۱۳)

مہنگی اشیاء کا استعمال ہی ترک کر دینا:۔ ایک بار حضرت ابراہیم بن ادہم ؒسے کہا گیا کہ گوشت کی قیمت میں حد درجہ اضافہ ہوگیا۔ حضرت ابراہیم بن ادہم ؒ نے ان کی بات سننے کے بعد کہا: اگر اس کا بھاؤ چڑھ گیاہے تو کم کردو۔ لوگوں نے کہا: ہم تو ضرورت مند ہیں، گوشت ہمارے پاس کہاں ہے کہ ہم اس کی قیمت کم کردیں؟ ابراہیم بن ادہمؒ نے کہا ، دراصل میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اس کا استعمال کم کردو، یعنی:تم اسے خریدنا ہی چھوڑ دو، کیونکہ جب اس کا استعمال کم ہوجائے گا تو اس کی قیمت بذاتِ خود کم ہوجائے گی۔ (حلیۃ الاولیاء، ج: ۸، ص:۳۲)

اللہ کی طرف رجوع اور اعمال میں بڑھوتری اختیار کرنا:۔ کسی اللہ والے نے کہا کہ مانا مہنگائی ہوگئی ہے تو نعوذباللہ کیا اللہ پاک کے خزانے بھی ختم ہوگئے ہیں؟ تواپنی دعاؤں اور نبی اکرم ﷺکے بتائے ہوئے اعمال کی مقدارکیوں نہیں بڑھاتے؟ انہوں نے بڑی زبردست بات کی، ذرا سوچیں تو سہی، کیا ہم سب نے اپنی مالی پریشانی یا کسی بھی پریشانی میں نبی اکرمﷺ کے بتائے ہوئے اعمال اور اپنی دعاؤں کی مقدار میں اضافہ کیا ؟ اسے اس طرح سمجھیں اگر کسی کو بخار، یعنی ہلکی حرارت ہوجائے تو وہ عام دوا استعمال کرتا ہے، مگر اسی شخص کو اگر ٹائیفائڈ ہو جائے تو پھر وہ اینٹی بائیوٹک لیتا ہے اور اسے کھانے کا ناغہ نہیں کرتا، کیوں کہ اسے معلوم ہے کہ ناغہ کرنے سے اس دوا کا اثر ختم ہو جاتا ہے ۔ میں اسے یوں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اعمال کی اینٹی بائیوٹک چاہیے پابندی کے ساتھ۔ وہ اعمال جو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ اپنی اُمت کو بتا کر گئے، ان میں سے کچھ کا ذیل میں ذکر کیا جا رہا ہے، اگر ہو سکے تو پابندی کریں، مستقل مزاجی کے ساتھ، اور عمل کرنا نہ چھوڑیں، ان شا اللہ! ان اعمال کی برکت آپ کی زندگی میں بہت واضح طور پر نظر آئے گی:

٭… فرض نماز کی ہر حال میں لازمی پابندی کریں، جتنا ممکن ہو اللہ کی راہ میں خرچ کریں، اللہ تعالیٰ آپ کو بہت دے گا۔٭… فجر کی نماز کے بعد سو بار ’’سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم، استغفراللہ‘‘ پڑھیں۔٭… دن کے شروع میں ’’یٰس‘‘ پڑھ کر دعا کریں (اللہ پاک آ پ کے سارے دن کے کام بنا دے گا۔ (حدیث)٭…چاشت کی نماز سے بھی رزق میں برکت ہوتی ہے۔٭… رات کو روزانہ مغرب کے بعد سورۂ واقعہ پڑھیں، گھر میں کبھی فاقہ نہیں ہوگا۔(حدیث)٭… کوشش کریں روزانہ صلوٰۃ الحاجت پڑھ کر رزق میں برکت مانگیں۔٭… ہر وقت باوضو رہیں (اللہ پاک رزق بڑھا دے گا) ۔(حدیث)٭… اللہ پاک کا چلتے پھرتے ذکر کریں، اللہ پاک کو اپنی پریشانیاں بتائیں (وہ سب جانتا ہے، لیکن اسے یہ پسند ہے کہ بندہ اللہ کے سامنے اپنی حاجات رکھے)اور بولیں کہ:اے اللہ ! آپ کے علاوہ کوئی میری پریشانیاں حل نہیں کرسکتا، میری مدد کریں، مجھے اکیلا نہ چھوڑیں، یعنی: اپنی دعا کی طاقت کو بڑھائیں۔

اسی طرح مہنگائی مہنگائی کرنے سے مہنگائی کم نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کے عملی علاج کی کچھ تدابیر اختیار کرنے کی کوشش کر لی جائے تو ان شاء اللہ انسان سکون میں آ جائے گا، مثلاً :٭ ہر کسی کو چاہیے کہ صرف ضروری اشیاء کی خریداری پر اکتفا کرے، بلا وجہ زائد از ضرورت اشیاء کی خریداری نہ کرے اور اسی پر قناعت کرے، تا کہ قرض وغیرہ لینے کی نوبت نہ آئے۔ ٭اپنے آپ کو اور بال بچّوں کو سادہ غذا اور سادگی کے ساتھ زندگی گزارنے کا عادی بنائیں، اس سے دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کے چکر لگانے اور ڈاکٹروں کی فیسوں اور دواؤں پر آنے والے خرچ سے بھی بچت ہوگی۔

آپ یقین کریں آپ کی طرف سے ذکر کردہ اعمال کی پابندی، آپ کی زندگی میں ان اعمال کی برکت لائے گی ان شاء اللہ، اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ ان اعمال کی برکت آپ کے پیاروں کی زندگی میں آئے تو انہیں بھی ان اعمال کا پابند بنانے کی کوشش کریں۔

اقراء سے مزید