• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

درآمدات و برآمدات کی اجازت دینا وفاق کا دائرہ اختیار ہے، سپریم کورٹ، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم

اسلام آباد(صباح نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ درآمدات اور برآمدات کی اجازت دینا وفاقی حکومت کا دائرہ اختیار ہے ۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ آرٹیکل199کے تحت پشاور ہائی کورٹ کو کوئی ازخودنوٹس لے کر کسی چیز کی درآمد اور برآمد کے حوالہ سے حکم جاری کرنے یا اشیاء کی قیمتیں مقرر کرنیکا کوئی اختیار حاصل نہیں۔معزز ہائی کورٹ کوآئین کے آرٹیکل 199کے تحت اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے تھا اور ایسا حکم جاری نہیں کرنا چاہیئے تھا جو نہ صرف ازخود کاروائی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے بلکہ ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ اشیاء کی قیمتیں مقررکرنا ایگزیکٹو کااختیار ہے ۔عدالت نے پولٹری مصنوعات اور لائیو اسٹاک کی ایکسپورٹ کے حوالہ سے پابندی لگائے جانے کے خلاف دائر اپیل سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے 16ستمبر2021کو دیا گیا حکم کالعدم قراردے دیا۔ جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل دورکنی بنچ نے 27ستمبر2022کو ایم/ایس صادق پولٹری(پرائیویٹ)لمیٹڈ کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں خیبر پختونخوا حکومت کو بذریعہ چیف سیکرٹری فریق بنایا گیا تھاْ۔ سید رفاقت حسین شاہ بطورایڈووکیٹ آن ریکارڈ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میاں شفقت جان اور ضلعی ڈائریکٹر لائیواسٹاک پشاور ڈاکٹر کامران فرید پیش ہوئے۔سپریم کورٹ کی جانب سے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیاہے۔ آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجازالاحسن نے تحریر کیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے 16 ستمبر2021کو ایک حکم پاس کیا جس سے متاثر ہونے والے پرائیویٹ مدعا علیحان نے عدالتی حکم سے متاثر ہو کر پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے پولٹری اور ڈیری مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے اوران کی کوالٹی چیک کرنے اور ملاوٹ والے دودھ اورد یگرناقابل استعمال اشیاء کی فروخت کو روکنے کے کمیٹی بنانے اور تواتر کے ساتھ مارکیٹ کا دورہ کرنے کی ہدایت کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کیا۔درخواست گزاروں نے پشاور ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ لائیو اسٹاک اور ڈیری مصنوعات کی قیمتیں موجودہ پرائسنگ پالیسی کے مطابق طے کی جائیں۔عدالت نے صوبائی حکومت سے مختلف رپورٹس منگوائیں اور ہدایت کی کہ لائیو اسٹاک، ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کیلئے پالیسی بنائی جائے۔ عدالت کی جانب سے یہ حکم بھی دیا گیا کہ ڈیر ی اور پولٹری مصنوعات کی ایکسپورٹس پر اس وقت تک پابندی لگائی جائے جب تک ان اشیاء کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں۔ پشاور ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف متاثرہ درخواست گزار نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء نے درخواست گزار کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کو ازخود نوٹس لینے کے اختیارات حاصل نہیں لہذا ازخودنوٹس کے تحت اختیارات استعمال کرنا قانونی طور پر نامناسب ہے۔ وکلاء کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ عدالت عالیہ کو اپنی جانب سے کمیٹی کو فارمولا دے کراور قیمتیں مقرر کر کے پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی ۔عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ہم نے فریقین کے دلائل سنے ہیں اور ریکارڈ کا جائزہ لیاہے ۔ بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہائی کورٹ ازخود نوٹس کے اختیارات استعمال کرسکتی ہے اور ایسے پالیسی معاملات کے حوالہ سے احکامات جاری کرسکتی ہے جو ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے اپنے فیصلے میں قراردیا ہے کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹ کو ازخود نوٹس کے اختیارات حاصل نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 184-3کے تحت ازخود نوٹس کے تحت کاروائی کا اختیار سپریم کورٹ جوحاصل ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پرائیویٹ مدعا علیہان کی استدعا مصنوعات کی قیمتوں تک محدود تھی تاہم ہائی کورٹ نے ازخودکاروائی کے تحت بہت سے احکامات جاری کئے جن میں 25فروری2021اوریکم جوئی2021کے احکامات شامل ہیں جن کے تحت ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی ایکسپورٹس پر پابندی عائد کردی گئی۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ درآمدات اور برآمدات پر پابندی لگانا عدالتوں کا دائرہ اختیار نہیں بلکہ یہ ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ معزز ہائی کورٹ کوآئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیئے تھا اور ایسا حکم جاری نہیں کرنا چاہیئے تھا جو نہ صرف ازخود کاروائی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے بلکہ ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے کوئی ایسا قانون یا نظیر نہیں بتائی جس کے تحت اس نے ازخود کاروائی کا اختیار استعمال کیا۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ ہائی کورٹ کو قیمتوں کے تعین کا اختیار بھی حاصل نہیں تھا۔ فیصلے میں کہا گی ہے اگر ایکشن لینا ضروری بھی تھا تو پشاور ہائی کورٹ صرف یہ کرسکتی تھی کہ وہ حکومت کو ہدایت کرتی کہ قانون کے مطابق کیا کرنا چاہیئے،جو کہ متعلقہ حکام نہیں کررہے تھے۔ فیصلے میں قراردیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ آرٹیکل 199کے تحت قیمتوںکے تعین کا فارمولا تیار نہیں کرسکتی تھی، ایسا کرنے کی قانون میں اجازت نہیں او ر نہ ہی یہ عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے بلکہ یہ آئین میں درج اختیارات کے اصول کے بھی خلاف ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسے معاملہ کے حوالہ سے احکامات جاری کرنا جو ہائی کورٹ کے سامنے بھی نہیں تھا ، یہ عدالتی اختیارات سے تجاوز ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں قراردیا ہے کہ ہائی کورٹ صرف اسی مقدمہ میں مناسب اورقانون کے مطابق احکامات جاری کرسکتی ہے جو اس کے سامنے ہو۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کو نہ ہی قیمتوں کے تعین کا فارمولا دینے کا اختیار تھا اور نہ ہی اس پر عملدرآمد کے لئے کمیٹی بنانے کااختیا ر تھا۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ یہ معاملات ایگزیکٹو سے تعلق رکھتے ہیں اورانہیں پالیسی میکرز پر چھوڑ دینا چاہیئے کہ وہ انہیں کس طرح ریگولیٹ کرتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درآمدات اور برآمدات پر پابندی لگانا یاانہیں محدود کرنا وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ صوبائی حکومت کو ایسا کرنے کی ہدایات دینے کی کوئی قانونی اورآئینی بنیاد نہیں یا منظوری شامل نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے تحریری فیصلے میں قراردیا ہے کہ ہمارا خیال ہے کہ معزز ہائی کورٹ نے غلط طریقہ سے قانون کا اطلاق کیا ہے۔ ہائیکورٹ کے حکم میں دائرہ اختیار کی غلطیاں ہیں اوراس کی درستگی کیلئے مداخلت کی ضرورت ہے۔ ہم نے متعدد بار ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ بتائیں کہ کس طرح یہ قانونی طور پر درست ہے تاہم وہ یہ بتانے میں ناکام رہے۔ ہائیکورٹ کی جانب سے دیا گیا حکم برقرارنہیں رکھا جاسکتا۔ درج بالا وجوہات کی روشنی میں یہ پیٹیشن اپیل میں تبدیل کی جاتی ہے اور قابل سماعت قراردی جاتی ہے اور پشاورہائی کورٹ کی جانب سے 16ستمبر2021کو دیا گیا حکم کالعدم قراردیا جاتا ہے۔

ملک بھر سے سے مزید