ٹنڈوآدم (نامہ نگار) ٹنڈوآدم حیدرآباد روڈ پر قائم ایک معروف نجی بینک میں50سے زائد اکاؤنٹ ہولڈرز سے مبینہ طور پر17کروڑ روپے سے زائد رقم کے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ متاثرین کی شکایات کے بعد بینک انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے برانچ منیجر عباس مورجو، آپریشن منیجر عمیر قریشی، کیشیئر حسن اور کلرک شیریں شوکت خاصخیلی کو معطل کر دیا ہے جبکہ ان کی جگہ نیا عملہ تعینات کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات شہید بینظیر آباد کے سینئر افسر شرجیل کے سپرد کر دی گئی ہیں، جنہوں نے متاثرہ اکاؤنٹ ہولڈرز اور متعلقہ بینک عملے کے بیانات قلمبند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ تحقیقات کو صیغۂ راز میں رکھا جا رہا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ بینک عملے نے انشورنس پالیسی اور دیگر منافع بخش اسکیموں کا جھانسا دے کر رقوم وصول کیں۔ متعدد اکاؤنٹ ہولڈرز نے بینک عملے پر اعتماد کرتے ہوئے کروڑوں روپے نقد ادا کیے۔ الزام ہے کہ عملے کی جانب سے فرضی رسیدیں جاری کی گئیں اور رقوم متعلقہ اکاؤنٹس میں منتقل نہیں کی گئیںجس کے باعث متاثرین کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔