• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیکب آباد، جمس سٹی اسکین اور MRI منصوبہ کھٹائی میں، لاگت کروڑوں سے اربوں روپے میں تبدیل

جیکب آباد (نامہ نگار) جمس جیکب آباد میں سٹی اسکین اور ایم آر آئی منصوبہ کھٹائی میں، لاگت 12کروڑ سے بڑھ کر 4سو ملین تک پہنچ گئی،ایک سال سے کا بندکرکے ٹھیکیدار غائب، شہری علاج سے محروم تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے معروف جمس ہسپتال میں سٹی اسکین اور ایم آر آئی بلاک کی تعمیر ایک سال سے التوا کا شکار ہے۔ ٹھیکیدار کام ادھورا چھوڑ کر غائب ہو چکا ہے جبکہ صوبائی محکمہ عمارات (پراونشل بلڈنگز) مقررہ معیار اور مدت میں منصوبہ مکمل کرانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ ذرائع کے مطابق منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً ساڑھے 12کروڑ روپے بتائی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اسے نظرِ ثانی کرکے 300سے 400ملین روپے تک بڑھا دیا گیا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ خطیر رقم کے اضافے کے باوجود تعمیراتی کام مکمل نہ ہو سکا اور سائٹ پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سٹی اسکین اور ایم آر آئی جیسی بنیادی تشخیصی سہولیات نہ ہونے کے باعث مریضوں کو سکھر، لاڑکانہ اور دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ غریب مریضوں پر اضافی مالی بوجھ بھی پڑتا ہے۔ ایمرجنسی کیسز میں تاخیر مریضوں کی جان کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔مزید برآں جمس کے بورڈ آف گورنرز (بی او جی) ممبران پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہریوں کا الزام ہے کہ بی او جی نے منصوبے کی نگرانی، فنڈز کے شفاف استعمال اور بروقت تکمیل کے لیے مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔ ایک سال سے کام بند ہونے کے باوجود نہ تو ٹھیکیدار کے خلاف کوئی سخت کارروائی عمل میں لائی گئی اور نہ ہی متبادل انتظام کیا گیا۔

ملک بھر سے سے مزید