کراچی (ٹی وی رپورٹ) چیئرمین نیب آفتاب سلطان کے استعفیٰ دینے پر جیو کی خصوصی نشریات میں گفتگوکرتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا ہےکہ آفتاب سلطان نے جسٹس جاوید اقبال بننے سے انکار کر دیاتھا،اب نام نہاد اپوزیشن لیڈر سے مل کرکوئی سمجھوتا کرنے والا ہی چیئرمین نیب لایا جائے گا۔
آفتاب سلطان ایک اچھی ساکھ کے مالک ہیں وہ کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے تھے جو قانون کے مطابق نہ ہو اس لیے انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ جاری نہیں رکھ سکتے۔
ایڈیٹر انویسٹی گیشن، دی نیوزانصار عباسی نےکہاکہ آفتاب سلطان کی جس وقت تقرری ہوئی تھی اس وقت بھی سب کو پتہ تھا وہ بہت اچھی ساکھ کے آفیسر ہیں لیکن بدقسمتی سے جیسے پاکستان میں ہوتا رہا ہے کہ ان سے کام لیا جائے جیسے جسٹس جاوید اقبال اپنے دور میں کرتے رہے انہوں نے جسٹس جاوید اقبال بننے سے انکار کر دیا میں کسی کی خواہش پر کسی کی گرفتاری نہیں کروں گا انہیں حکومت کی طرف سے بھی دباؤ تھا کچھ اور کوارٹرز کی طرف سے بھی دباؤ تھا بہت سے لوگ دباؤ ڈالر رہے تھے کہ گرفتاریاں کی جائیں کیسز بنائے جائیں اس سے انہوں نے انکار کر دیا اور تمام گرفتاری کی پاور اپنے پاس رکھی تاکہ ڈی جیز کو بھی کوئی استعمال نہ کرسکے یہ بھی اُن سے کہا گیا کہ کم از کم ڈی جیز کو ہماری مرضی کا لگا دیں تاکہ ان سے براہ راست کام لے لیا جائے انہوں نے کہا جب تک میں نیب کا چیئرمین ہوں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔
جسٹس جاوید اقبال کا دور نیب کا بدترین دور تھا اگر یہ اس دور کو دوبارہ لانا چاہ رہے ہیں تو اس کام کے لیے وہ تیار نہیں تھے انہون نے استعفیٰ دے دیا اور یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ان کی شہباز شریف سے میٹنگ بھی ہوئی اور انہوں نے ان سے کہا کہ میں اس ماحول میں کام نہیں کرسکتا اور وزیراعظم نے شاید ان کا استعفیٰ قبول بھی کر لیا ہے۔
یہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ اور مشرف کے ساتھ کام کرچکے ہیں اور ان کی اچھی ساکھ سے متعلق سب جانتے ہیں اور مشرف دور میں بھی جو جنرل مشرف نتائج چاہتے تھے وہ انہیں نہیں مل پا رہے تھے اس لیے ان کو ہٹا دیا گیا تھا۔