کراچی (اسد ابن حسن) قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے صنعت و پیداور کے اجلاس میں جوائنٹ سیکریٹری ندیم احسن نے پاکستان اسٹیل مل میں چوری ہونے والے سامان کی مالیت 10 ارب نہیں بلکہ 47 لاکھ روپے کا انکشاف کیا۔ واضح رہے کہ دس ارب کی انکوائری نمبر 44/2022 کی تحقیقات ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں ایک برس سے زیر التوا ہے۔ جبکہ آڈیٹر جنرل اف پاکستان کی اسپیشل آڈٹ رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر اسٹیل مل کا سامان چوری کیا گیا۔ یکم مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی خصوصی کمیٹی برائے بحالی ملازمین کے اجلاس میں بھی چئیرمین کمیٹی مندو خیل اور دیگر اراکین کمیٹی کی جانب سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر وزارت صنعت و پیداوار کے سیکریٹری سمیت دیگر افسران اور سی ای او پاکستان اسٹیل کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔