• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلفشار جاری رہا تو ایمرجنسی کے نفاذ کا آپشن موجود ہے

اسلام آباد (انصار عباسی) اگر ملک میں شورش جاری رہی تو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا آپشن موجود ہے۔ ملک کے آئین میں کہا گیا ہے کہ اگر ملک میں داخلی شورش صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر نکل جائے تو ایمرجنسی کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ 

آئین کے آرٹیکل 232؍ میں لکھا ہے کہ ’’اگر صدر مطمئن ہو کہ ایسی سنگین ہنگامی صورتحال موجود ہے جس میں پاکستان، اس کے کسی حصہ کی سلامتی کو جنگ یا بیرونی جارحیت کی وجہ سے، یا داخلی خلفشار کی بناء پر ایسا خطرہ لاحق ہے جس پر قابو پانا کسی صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہے تو ہنگامی حالت کا اعلان کر سکتے ہیں۔‘‘

ایسی صورتحال میں صدر مملکت کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر عمل کرنا ہوگا۔ تاہم، جہاں خلفشار صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو اس صوبے کی اسمبلی سے ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے ایک قرارداد منظور کرانا ہوگی۔ لیکن موجودہ صورتحال میں دونوں صوبوں (پنجاب اور خیبر پختونخوا) میں صوبائی اسمبلیاں موجود نہیں کیونکہ انہیں رواں سال کے اوائل میں تحلیل کر دیا گیا تھا، اور انہی دونوں صوبوں میں پی ٹی آئی کے مظاہرین پر تشدد ہو چکے ہیں اور ریاستی اداروں پر حملے کر رہے ہیں۔ 

آئین میں بتایا گیا ہے کہ اگر صدر مملکت اپنے تئیں کارروائی کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ دس روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنا ہوگا۔ جس وقت ایمرجنسی نافذ ہو، پارلیمنٹ کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی صوبے یا اس کے کسی حصے کیلئے کسی ایسے معاملے کی نسبت قوانین وضع کرے جو وفاقی قانون سازی کی فہرست میں درج نہ ہو۔ 

وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو اس طریقے کی بابت ہدایات دینے تک وسعت پذیر ہوگا جس کے مطابق اس صوبے کے عاملانہ اختیارات کو استعمال کیا جانا ہے۔ آئین میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب ہنگامی حالت کا اعلان نافذ العمل ہو تو پارلیمنٹ بذریعہ قانون قومی اسمبلی کی میعاد میں زیادہ سے زیادہ ایک سال کی توسیع کر سکے گی، اور وہ توسیع مذکورہ اعلان کے ساقط العمل ہو جانے کے بعد کسی صورت میں بھی6؍ ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔ 

ہنگامی حالت کا کوئی اعلان ایک مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا جو صدر کے اعلان کے جاری کیے جانے سے 30؍ دن کے اندر طلب کیا جائے گا اور وہ دو ماہ کے اختتام پر ساقط العمل ہو جائے گا تاوقتیکہ اس مدت کے ختم ہو جانے سے پہلے اسے مشترکہ اجلاس کی ایک قرارداد کے ذریعے منظور نہ کر لیا گیا ہو۔ 

آئین میں یہ بھی لکھا ہے کہ جس دوران ہنگامی حالت کا اعلان نافذ العمل ہو، صدر مملکت بذریعہ فرمان یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ آئین کے حصہ دوم کے باب اول کی رو سے عطا کردہ بنیادی حقوق میں سے ان کے نفاذ کیلئے جن کی فرمان میں صراحت کر دی جائے کسی عدالت سے رجوع کرنے کا حق اور کسی عدالت میں کوئی کارروائی جو اس طرح مصرحہ حقوق میں سے کسی کے نفاذ کیلئے ہو یا جس میں ان حقوق میں سے کسی کی خلاف ورزی کے متعلق کسی سوال کا تعین مطلوب ہو، اس مدت کیلئے معطل رہے گی جس کے دوران مذکورہ اعلان نافذ العمل رہے اور ایسا کوئی فرمان پورے پاکستان یا اس کے کسی حصے کے بارے میں صادر کیا جا سکے گا۔

اہم خبریں سے مزید