• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی فلمی صنعت میں کراچی کے کردار کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی ہو یا حال فلمی صنعت کی ترقی میں اس شہر نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی کراچی میں بین الاقوامی معیار کی فلمیں بن رہی ہیں، گوکہ ان کی رفتار بہت سُست ہے، مگر ہر اداکار کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ کراچی میں کام کرے۔ ماضی میں اس شہر نے فلمی صنعت کو بہت سے نام ور فن کاروں سے نوازا، جنہوں نے ایک عرصے تک فلمی صنعت پر راج کیا۔ 

کمال، محمد علی، زیبا، وحید مراد، شمیم آرا، ندیم، بابرہ شریف، دیبا کے علاوہ بے شمار فن کار کراچی سے تعلق رکھتے تھے اور فلمی دنیا میں سپراسٹار بن کر ابھرے۔ ان ہی فن کاروں میں ایک نام فلم اسٹار ممتاز کا بھی ہے، جو کراچی میں پیدا ہوئیں اور لاہور جاکر ایک نامور فلمی ہیروئن بنیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’کراچی میرا اپنا شہر ہے، یہاں میں پیدا ہوئی۔ کراچی کے مداحوں نے جو پیار دیا، وہ میں کبھی بھلا نہیں سکتی۔‘‘

اداکارہ ممتاز 70ء کے عشرے میں انجم کے نام سے فلمی دنیا میں متعارف ہوئیں، ان کا اصل نام رفعت ہے۔1971ء میں ہدایت کار ایس ٹی زیدی کی اُردو فلم ’’سلام ِمحبت‘‘ ان کی پہلی فلم تھی۔ اس فلم میں محمد علی اور زیبا نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ تقریباً 200فلموں میں ممتاز نے اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کی آخری ریلیز ہونے والی فلم ’’گھائل‘‘ تھی جو 1997ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کے ہدایت کار حسنین تھے۔ 

ممتاز کو اصل شہرت فلم ’’ضدی‘‘ کے آئٹم سونگ ’’چھڈ میری بیٹری نہ مروڑ‘‘ اور بنارسی ٹھگ کے گانے ’’اَکھ لڑی بدوبدی‘‘ سے ملی۔ ان دونوں گانوں پر ان کا رقص دیدنی تھا۔ وہ مقبولیت کے اس زینے پرجا پہنچیں کہ اُردو اور پنجابی فلموں میں بہ طور ہیروئن کاسٹ ہونے لگیں۔ اُس دور کے اردو اور پنجابی فلموں کے کام یاب ہیروز کے مقابل بہ طور ہیروئن پسند کی گئیں، جس کی نظیر تلاش کرنا مشکل ہے۔ 

اداکار محمد علی کے ساتھ فلم حیدر علی، وحید مراد کے دشمن اور محبت زندگی ہے، ندیم کے ساتھ جب جب پھول کھلے، امبر، شاہد کے مقابل شکار، جادو ، منور ظریف کے ساتھ پیار کا موسم، نوکرووہٹی دا، سینئر اداکار سدھیر کے ساتھ لاٹری، یوسف خان کے ساتھ جبرو، شریف بدمعاش، سلطان راہی کے ساتھ سدھا رستہ، چڑھدا سورج اور علی اعجاز کے ساتھ دبئی چلو، سالا صاحب اور دھی رانی، جیسی یادگار فلموں میں بہ طور ہیروئن آئیں اور کام یاب رہیں۔

ایک زمانے میں ممتاز، اپنے دور کی حسین اور گلیمرل اداکارہ ہونے کی وجہ سے فلم بین کی اوّلین پسند رہیں۔ خواتین بھی انہیں بے حد پسند کرتی تھیں۔ حسن و رعنائی کا ایک دل فریب مرکب، جو اپنے گلابی چہرے کی بدولت دیگر اداکاراؤں میں اپنے نام کی طرح ممتاز نظر آتی تھیں۔ ممتاز کا فلمی نام انہیں اداکارہ شمیم آرا نے دیا تھا، جنہیں وہ اپنی محسن اور استاد مانتی ہیں۔ کسی اداکارہ کی ہنر مندی یہی ہے کہ وہ کچھ لاجواب کام کرکے دکھائے، جو فی الحقیقت اس کے امکان میں نہ ہو۔ 

ظاہر ہے کہ کسی کردار کی ہوبہو نقالی کے لیے اسے محض اپنی طرزِ گفتگو اور بڑی حد تک اپنے چہرے کے اتار چڑھائو ہی سے کام لینا ہوتا ہے اور انسانی جذبات کی غمازی کے لیے چہرے اور زبان کے علاوہ جس چیز سے بہترین کام لیا جاسکتا ہے۔ وہ ہیں آنکھیں، بلاشبہ کسی اداکارہ کے لیے آنکھوں کا مناسب استعمال کرلینا ہی اس کی اداکاری کی معراج ہے اور یہ ملکہ اداکارہ ممتاز کو حاصل تھا۔ 

فلم شِکار میں انہوں نے کوئی مکالمہ ادا نہیں کیا، مگر اپنی آنکھوں سے اس قدراعلیٰ کام لیا کہ اس کی آنکھیں ہی اس کی زبان بن گئیں۔ اداکاری کا یہ عنصر ان سے پہلے کسی اور اداکارہ میں نظر نہیں آیا۔ نغمہ نگار مسرور انور نے ممتاز کی آنکھوں سے متعلق فلم ’’محبت زندگی ہے‘‘ میں ایک نغمہ کیا خُوب لکھا تھا، جس کے بول تھے ’’تیری آنکھوں کو جب دیکھا کنول کہنے کو جا چاہا‘‘ ممتاز کی خُوب صورت بولتی آنکھوں نے اُس دور کے حکمرانوں کی بھی نیندیں خراب کردی تھیں۔

ممتاز کے زیادہ تر فلمی کردار آج بھی دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ ممتاز کے لیے وجود میں آئے تھے۔ اگر انہیں کسی فلم میں شاہانہ کردار دیا گیا، تو ان کے چہرے کی تمکنت اور وقار دیدنی ہوتا، تاریخی فلم حیدر علی میں راج کماری شکیلہ کا شاہانہ کردار ان لفظوں کی صدیق اور سند پیش کرتا ہے۔ فلم انتظار اور محبت زندگی ہے، میں ان کے ماڈرن کردار اور ڈریسز نے سینما کے اسکرین پرنت نئے فیشن متعارف کروائے۔ ان پر فلمایا ہوا ایک گانا کا ’’تت تورو تارا تارا‘‘ اس قدر مقبول ہوا کہ لوگ انہیں تت تو رو تارا گرل کہنے لگے۔

ممتاز جن دنوں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کر رہی تھیں، تو ایک روز فلم ’’سلامِ محبت‘‘ کے سیٹ پر انہیں معروف انقلابی مصنف، فلم ساز اور ہدایت کار ریاض شاہد نے دیکھا تو کہا کہ یہ لڑکی ایک دن بہت بڑی اداکارہ بنے گی، کچھ عرصے بعد ان کی یہ پیش گوئی ان کی فلموں کی کام یابی سے درست ثابت ہوئی۔

ممتاز 70ء کی دہائی میں پاکستانی باکس آفس کی سپرہٹ ہیروئن تسلیم کی گئیں۔ پورے ملک میں ان کے حُسن و فن کے چرچے عام ہوئے۔ کراچی میں پیدا ہونے والی اس اداکارہ نے نہ صرف اُردو فلموں میں شہرت پائی، بلکہ وہ پنجابی زبان کی فلموں میں ہیں بے حد کام یاب رہیں۔ ایک طرف باکس آفس پر ان کی اُردو فلمیں، رنگیلا اور منور ظریف، دشمن، شکار بُھول، تم سلامت رہو، تلاش انتظار دیدار، روشنی، محبت زندگی ہے، جب جب پھول کھلے، صورت اور سیرت، پیار کا موسم، ان داتا، منزل، کوشش، امبر، خوشبو ، ذرا سی بات وغیرہ سپر ہٹ ہوئیں، تو دوسری جانب پنجابی سینما پر ان کے رقص اور اداکاری کی دھوم ضدی، بنارسی ٹھگ، لاٹری، سدھا رستہ، جادو، نوکر ووہٹی دا، شریف بدمعاش، شوکن میلے دی، دبئی چلو، سوہرا تے جوئی، مسٹر افلاطون، سالا صاحب، دادا سکندر، وریام، دوبیگھ زمین، نوکر تے مالک، بائوجی، دلاں دے سودے، راکا، کالا سمندر، بالا گاڈی اور دھی رانی جیسی پنجابی فلمیں کام یاب ہوئیں۔

کراچی میں جب ممتاز کی کوئی اُردو یا پنجابی فلم ریلیز ہوتی تھی، تو مرد و خواتین کی بڑی تعداد اُسے دیکھنے آتی تھی۔ اُن دنوں کراچی پورے ملک میں سینما ہائوسز کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ کراچی کے نشاط سینما جو ایک اہم اور خوب صورت سینما تھا، اس پر ممتاز کی سب سے پہلی فلم دشمن 1974ء میں ریلیز ہوئی تھی، جس نے شان دار گولڈن جوبلی منائی تھی۔ دشمن کے بعد فلم کوشش جب اس سینما کے اسکرین پر 1976ء میں ریلیز ہوئی، تو ممتاز پرفلمائے ہوئے گانوں نے ہرعام و خاص پراس رقص کا سحر عام کردیا۔ اس فلم میں ’’مہندی لگے گی میرے ہاتھ پھرڈینگ ڈینگ،ڈینگ‘‘ ،’’مرادوں والی رات ہے‘‘ اور سدابہار سپرہٹ گیت ’’بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں‘‘ نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ یہ وہ گانا ہے، جسے آج بھی لوگ کاپی کرتے ہیں۔ 

اس گانے سے کراچی کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ اس گانے کو کراچی کے اولڈ سٹی لیاری اور رنچھوڑ لائن کے ہوٹل میں لوگ بڑے شوق سے سنتے تھے۔ لیاری کے ڈانسرز مکرانی لڑکے اس گانے کی دھن پر اپنے فن کا مظاہرہ کرکے لوگوں کو بے حد محظوظ کرتے تھے۔ ایم اے جناح روڈ پر پلازہ سینما کی یادیں آج بھی فلم بینوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔ اس سینما پر ممتاز کی فلم فرض پہلی بار ریلیز ہوئی تھی۔ اس کے بعد یہاں تم سلامت رہو، دیدار، تلاش اور زنجیر نامی فلموں نے کام یاب بزنس کیا۔ 

صدر میں واقعہ اوڈین سینما کے خُوب صورت اسکرین پر پنجابی فلم لاٹری، بھول، شرارت، جیو اور جینے دو، پنجابی فلم جبرو، دبئی چلو، شاہین اوردو بیگھ زمین نامی فلموں نے بہت شان دار کام یابی حاصل کی۔ کراچی کے ایک اور مشہور سینما گوڈین پر ممتاز کی جن فلموں شاندار بزنس کیا اُن میں ’’جب جب پھول کھے‘‘،ہار گیا انسان، صورت اور سیرت، شوکن میلے دی،اَن داتا کے نام شامل ہیں۔ کوہ نور سینما کا شمار پاکستان کے چند خوب صورت سینما ہائوسز میں ہوتا تھا ، بیان ممتاز کی سب سے پہلی فلم احساس ریلیز ہوئی تھی،جس میں شبنم اور ندیم نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ 

اس کے بعد ایکشن فلم ’’شکار‘‘ میوزیکل فلم ’’روشنی‘‘، ’’پرستش‘‘، ’’امبر‘‘ نے سپرہٹ بزنس کر کے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ کراچی کے قدیم ناز سینما میں فلم بنارسی ٹھگ نے شاندار گولڈن جوبلی منائی تھی۔ پیار کا موسم، جس میں منور ظریف نے ممتاز کے ہیرو کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ سپر ہٹ کامیڈی میوزیکل فلم میں اسی سینما کے پردے کی زینت بنی تھی۔ بمبینو سینما کا شمار بھی کراچی کے اعلیٰ درجے کے سینما ہاؤسز میں ہوتا تھا۔ یہاں اداکارہ ممتاز کی سب سے پہلی فلم ’’انتظار‘‘ پیش کی گئی تھی، جس میں ممتاز کی اداکاری اور رقص، فلم کی ہائی لائٹ ثابت ہوئے تھے۔ 

فلم میں جب ممتاز پر فلمایا ہوا گانا ’’میں موم کی گڑیا ہوں میں موم کی گڑیا ہوں‘‘ آتا تو پورے سینما ہال میں فلم بین اس گانے پر تالیوں سے اپنی محبتوں کا اظہار کرتے تھے۔ عظیم تاریخی فلم حیدر علی کو بھی اس سینما کے خوب صورت اسکرین پر پیش کیاگیا تھا۔ بمبینو کے ساتھ لیرک سینما بھی ہوا کرتا تھا، جہاں ممتاز کی یادگار فلم ’’خوشبو‘‘ جس میں اداکار شاہد اور رانی نے ممتاز کے والدین کے کردار ادا کئے تھے، شان دار کام یابی حاصل کی۔ ذرا سی بات اور کندن بھی اس سینما کی کام یاب فلمیں تھیں، جس میں ممتاز کے کردار بے حد پسند کئے گئے تھے۔

کراچی کا قدیم سینما جوبلی جہاں ممتاز کی یادگار نغماتی سپرہٹ فلم جادو کی کام یابی نے نئے ریکارڈ قائم کیے تھے۔ اس پنجابی سپرہٹ فلم کو خصوصاً خواتین فلم بین نے ممتاز کی بے ساختہ اداکاری اور دل کش رقص کی وجہ سے بہت پسند کی۔ فلم میں جب سپرہٹ گانا ’’جادوگرا او جادوگرا‘‘ تو اس کی بین کی دھن پر ممتاز کے رقص پر فلم بین سکوں کی بارش کردیتے تھے۔ جادو کے علاوہ ضدی، شریف بدمعاش، جینے کی راہ، نامی فلمیں ہیں ممتاز کے حوالے سے بے حد کام یاب اور یادگار ثابت ہوئیں۔ کراچی کی ممتاز کی فلمی کرداروں اور ڈانسر کے حوالے سے چند مشہور سینما ہائوسز کی مختصر یادیں دہرائی گئیں۔

کراچی کی ممتاز آج کل اپنے شہر میں ہیں اور اپنی بے پناہ یادوں کے دھند لکوں کے ساتھ ماضی کو یاد کرکے بے حد خوش نظر آرہی ہیں۔ ماضی کی یہ گلابی رنگت والی اداکارہ جس کے جلوئوں نے فلم بینوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیا تھا۔ وہ فن اداکاری کی وہ امبر تھیں، جہاں انجم چمکتے ہیں اور ان چمکتے ہوئے انجم نے انہیں فن کی دنیا میں وہ رفعت بلندی عطا کی، جہاں وہ ممتاز کہلائیں۔ ممتاز کے مداح آج بھی انہیں فلموں اور ڈراموں میں دیکھنے کے متمنی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کراچی کی یہ ممتاز اپنے چاہنے والوں کی اس خواہش پر اسکرین پر جلوہ ہوتی ہیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید