مفتی رفیق احمد بالاکوٹی
پیکر ِ علم و عمل، بلندپایہ عالم دین،علمی و تحقیقی ذوق کے حامل،مردِ قلندرمولانا مفتی محمد ولی درویشؒ جو اپنے دل میں اہل سنت اور پوری حنفیت کا در در رکھتے تھے، جو اپنی ذات میں ایک انجمن ، ایک ادارہ تھے، مسلک دیو بند کی اک خاموش تحریک تھے حق اور اہل حق کا دفاع جن کا مزاج تھا، حق گوئی و بے باکی جن کی فطرت تھی، جن کی ذات علم و عمل کی جامع تھی ، سنت پر عمل جن کا شعار تھا، صاف گوئی جن کا مزاج تھا، ہمیشہ باوقار رہنا جن کا انداز تھا، باطل کی تردید جن کا نصب العین تھا، بالخصوص ’’ سلف بیزار طبقہ‘‘ کا تعاقب اور ان کی سرکوبی جن کا مشن تھا، جنہیں دنیائے علم حضرت مولانا مفتی محمد ولی در ویش رحمہ اللہ کے نام سے جانتی ہے۔
آپ ایک طویل عرصہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں درس و تدریس کی دینی خدمات سے وابستہ رہے۔ ۵/ جمادی الاولیٰ ۱۴۲۰ھ کو اپنی درویشانہ زندگی کی آخری حسرت پوری کرنے امارت اسلامیہ افغانستان پہنچے۔ سرکاری مہمان کی حیثیت سے قندھار میں رات بسر فرمائی، اس رات حسب معمول تہجد کے لیے اٹھے، تہجد کے بعد طبیعت بوجھل محسوس ہونے پر لیٹ گئے، فجر کی اذان کے وقت اُٹھے، طبیعت میں گرانی محسوس ہونے لگی، ساتھ ہی سانس کی آمد ورفت معمول سے بڑھنے لگی تو وہاں پر موجود احباب ڈاکٹروں کی تلاش میں دوڑے، مگر انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ ڈاکٹروں کا مسئلہ نہیں، بلکہ فرشتہ اجل حاضر ہو چکا ہے،سانس اپنی مقدر ساعتیں تیزی سے پوری کر رہی ہے، جو ڈاکٹر کا انتظار کیے بغیر ہی پوری ہو گئیں، اور خدا کی زمین پر خدا کے نظام کے لیے جان دینے والوں کی دھرتی پر حضرت ولی درویش رحمہ اللہ نے بھی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔
حضرت استاذ مرحوم کو حق تعالیٰ نے زہد و تقویٰ کی دولت سے اس قدر نوازا تھا کہ ہمہ وقت، شب و روز یاد الٰہی سے معمور رہتے، کبھی اور ادواذکار میں مشغول نظر آتے کبھی تعلیم و تدریس اور کبھی نوافل و تسبیحات میں۔راقم الحروف حضرت مرحوم سے غائبانہ طور پر تو اس وقت سے متعارف تھا، جب جامعہ کی شاخ مدرسہ تعلیم الاسلام گلشن عمر میں زیر تعلیم تھا ،مگر بالمشافہ زیارت تب نصیب ہوئی، جب راقم درجہ سادسہ کے لیے شاخ سے مرکز پہنچا، اور درجہ سادسہ کا پہلا گھنٹہ تفسیر جلالین شریف کا تھا، اور وہ آپ سے متعلق تھا، یہی جلالین شریف کا درس جو تا دم واپسیں حضرت کا بہترین اور قابل رشک درس رہا۔ راقم نے حضرت کو بجزو علالت کے تدریس و تعلیم ، صف اول اور تکبیر اولیٰ سے کبھی پیچھے رہتے نہیں دیکھا، بلکہ آپ ہمیشہ صف اول اور تکبیر اولیٰ کا اہتمام کرتے۔
آپ کا یہ معمول تھا کہ فجر کی اذان سے قبل مسجد میں تشریف لاتے اور اذان سے قبل ہی مسجد کے صحن میں سوئے ہوئے طلبہ کو جگا کر قدیمی دار الاقامہ جس کے آپ ناظم تھے، دورۂ حدیث اور تخصصات کے طلبہ کو جگانے خود تشریف لے جاتے ، خدا ترسی اور تقویٰ کے نتیجے میں حق تعالیٰ شانہ نے رعب ودبدبہ کی دولت سے اس قدر نوازا تھا کہ آپ کی تشریف آوری کے بعد شاید ہی کوئی طالب علم سویا ہوا پایا جائے ، حضرت بنوری رحمہ اللہ کے بارے میں یہ شنید تھی کہ ان کی تشریف آوری سے قبل نہ اُٹھنے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں ہوا کرتا تھا، بعینہ اس خیال کی عملی تصویر حضرت استاذ مرحوم تھے، اٹھنے میں سستی کرنے والوں کو حیرانگی کے ساتھ یہ نصیحت آمیز سرزنش کرتے تھے کہ دورہ تخصص کے طالب علم ہو کر تمہیں جگانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے؟ غرضیکہ حضرت نماز با جماعت اور صف اول کے جس طرح خود پابند تھے، اپنے عزیز طلبہ کو اسی طرح دیکھنا چاہتے تھے، ان کی اس ترتیب اور تربیت کی بدولت نماز کے اوقات میں کوئی طالب علم سویا ہوا نہ پایا جاتا۔
نظام الاوقات کی پابندی ان کا شیوہ تھا، نماز کے اوقات کی ترتیب میں ’’رجل قلبہ معلق بالمسجد“ کا مصداق تھے۔ ہمیشہ جماعت کے وقت سے تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے تشریف لاتے یا کم از کم اذان آپ کو مسجد میں ہوتی، فجر کی نماز کے بعد اور ادواذکار کا مختصر معمول پھر حضرت بنوریؒ اور ان کے جانشینوں (رحمہم اللہ ) کے مزارات پر دعا و ایصال فرما کر ذکر وفکر کے بعد گھر تشریف لے جاتے ، گھنٹہ بجنے میں چند منٹ باقی ہوتے کہ پڑھانے کے لیے درس گاہ کی طرف آتے ہوئے دکھائی دیتے ، اگر پانچ دس منٹ کا وقت میسر آ جاتا تو مطالعہ کے لیے تخصص کی درس گاہ میں تشریف فرما ہو جاتے ، گھنٹہ بجتے ہی درس گاہ میں پہنچ جاتے ، پڑھانے کے بعد دوبارہ چھٹی تک اپنے مطالعہ میں مصروف ہو جاتے۔
چھٹی کے بعد گھر تشریف لے جاتے ، ظہر کی اذان ہوتے ہی مسجد میں آجاتے۔ ظہر کی نماز کے بعد مطالعہ کی ترتیب جاری رکھتے اور عصر کی نماز پڑھ کر گھر جاتے، کچھ وقت گھر میں گزارنے کے بعد جامعہ کے احاطے میں واقع کتب خانوں میں جدید شائع ہونے والی کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے نظر آتے، اور پھر نماز مغرب کے لیے مسجد میں آکر صف اول میں بیٹھ کر اوراد واذکار میں مشغول ہو جاتے ، مغرب کے بعد عشاء تک مطالعہ کی ترتیب رہتی، پھر گھر چلے جاتے۔ آپ نے اس ترتیب کا ہمیشہ خیال رکھا، تعطیل ہو یا تعلیم، اس ترتیب میں فرق نہ آتا۔
آپ کو حق تعالیٰ نے علمی ذوق کا وافر حصہ عطا فرمایا تھا، انہیں جب بھی دیکھا جاتا مطالعہ کرتے یا لکھتے ہوئے نظر آتے۔ اس قدر استغراق وانہماک سے مطالعہ فرما یا کرتے کہ کسی کی نشست و برخاست یا آمد ورفت کا احساس تک نہ رہتا۔ آپ درجہ تخصص کی درس گاہ میں مطالعہ کیا کرتے تھے۔ تخصص کے طلبہ کرام کے لیے آپ کا نام یا وجود مسعود ہی سہم وسنبھل کر بیٹھنے کوکافی ہوتا تھا، کسی گرفت یا سرزنش کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔
آپ ہمیشہ وقت کی قدر و قیمت کا احساس دلاتے رہتے اور علمی ذوق کی تشویق و تحریص آپ کا معمول تھا۔ علم سے لگاؤ اور شوق میں اسلاف کی حیرت انگیز یادیں دہراتے ۔ ترغیب اور تحدیث بالنعمت کے طور پر بیان فرماتے: میں نے زمانہ طالب علمی میں سیرت ابن ہشام کا تین مرتبہ مطالعہ کیا، اور یہ بھی فرماتے : جب درجہ ثالثہ میں تھا، اس وقت جامعہ کے کتب خانہ میں موجود سیرت کی تمام کتابوں کا مطالعہ کر چکا تھا، مطالعہ کا یہی ذوق ہمیشہ انہیں دامن گیر رہا، جمعرات ہو یا کوئی بھی چھٹی کا دن، آپ کے معمولات میں فرق نہ آتا۔ بدستور مصروف عمل نظر آتے ، جب بھی کوئی اچھی کتاب کتب خانوں میں پہنچتی آپ اسے حاصل کرنے کی کوشش فرماتے، باوجود یہ کہ ظاہری اسباب ووسائل بھی اتنے نہ تھے۔
قناعت وکفایت شعاری آپ کا طرہ امتیاز تھا، اپنی معاشی زندگی میں اقتصاد و میانہ روی کے شرعی اصولوں پر پوری طرح کار بند تھے اور اپنی روحانی اولاد، طلبہ کرام کو بھی اس کی ترغیب وتلقین فرماتے اور اس پر زور دیتے کہ تم فضول خرچیاں مت کیا کرو، اپنے اخراجات کو ابھی سے کنٹرول کرو، میں ہمیشہ اپنے اخراجات کو دائرہ اعتدال میں رکھتا ہوں، یہ نہیں کہ ذرا آسودگی آجائے تو پاؤں پھیلانا شروع کردوں، اور خستہ حالی ہو تو معمول سے گھٹا دوں، بلکہ اقتصاد و اعتدال میرا معمول ہے، تمہارے لیے بھی اسے مفید سمجھتا ہوں ،اسی زریں اصول کی برکات تھیں کہ آپ عمر بھر صرف جامعہ کے محدود مشاہرے پر اپنا وقت گزار کر راہی آخرت ہو گئے، مگر دنیا میں کسی کو آپ کی معاشی زندگی کے بارے کچھ آگاہی نہ ہو سکی۔
مولانا محمد ولی درویش ؒ حمیت اسلامی سے سرشار اور مسلک احناف کے گرویدہ تھے، اہل السنت والجماعت یا اکابر دیوبند کے سیاسی ، روحانی اور نظریاتی سلسلوں سے بے پناہ عقیدت ومحبت رکھتے تھے، چونکہ جامعہ کی تعلیمی اساس بھی یہی ہے، اس لیے نظریاتی و اعتقادی لحاظ سے طلبہ کرام کو اکابر سے تعلق و وابستگی کا ہمیشہ درس دیتے تھے۔
حضرات احناف یا اکابر کی شان میں گستاخانہ روش سے آپ کو سخت کڑھن ہوتی اور ایسے لوگوں کی بے باکی پر سیخ پا ہو جاتے، یوں تو جامعہ خالصتاً دینی ادارہ ہے، دینی شغف رکھنے والا ہر اہل ومستحق مسلمان طالب علم، جامعہ میں تعلیم حاصل کر سکتا ہے، گو وہ جامعہ کے اساتذہ کرام اور ان کے عمومی ذوق ومزاج اور خیالات سے پوری طرح متفق نہ بھی ہو، مگر وہ دائرہ ادب و احترام میں رہتے ہوئے استفادہ کرنا چاہتا تو اس کے لیے دل میں جگہ ہوتی ، اور آپ وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے، لیکن کسی قسم کی نازیبا حرکت یا گستاخانہ زبان استعمال کرنے کو قابل مواخذہ تصور فرماتے۔
خوب تنبیہ فرماتے اور انہیں اس قسم کی حرکات کے ناقابل برداشت ہونے کا احساس دلاتے ، آپ اپنے تلامذہ کی اصلاح و تربیت کا عظیم جذبہ رکھتے تھے، ہر طالب علم کے نظریات و خیالات کو بھانپ لیتے تھے۔ ایسے واقعات بھی موجود ہیں کہ وہ داخلہ ہونے سے قبل ہی اپنی مومنانہ فراست سے بعض طلبہ کی نظریاتی سرحدوں سے مطلع ہو جاتے، دیگر اساتذہ کرام کی موجودگی میں اس کا اظہار بھی فرماتے اور وقت آنے پر سب حضرات ان کی پیش گوئی سے متفق ہو جاتے۔
آپ طلبہ کی اصلاح و تربیت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر بجالاتے ، بالفاظ دیگر آپ فرق باطلہ کے خلاف "دعوت وارشاد کا چلتا پھرتا شعبہ تھے۔ ماضی قریب میں آپ نےطلبہ میں تحقیقی علمی ذوق پیدا کرنے کے لیے مختلف تحقیقی عنوانات تجویز فرما کرطلبہ کو اس کی تیاری کروائی اور انہی عنوانات پر تقریری مقابلہ بھی کروایا جو آپ کی مساعی جمیلہ کی بہترین اور قابل رشک مثال اور نفع بخش کارناموں میں سے ایک ہے اور ہمارے لیے قابل تقلید کارنامہ ہے۔
حق تعالیٰ نے آپ کو خدا ترسی کے اس مقام پر پہنچایا ہواتھا کہ ہر ذمہ داری کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر ادا فرماتے ، خواہ اس کا تعلق درس و تدریس سے ہو یا انتظامی امور سے، باوجودیہ کہ بعض امور میں جامعہ کی طرف سے معاونین بھی موجود ہوتے ، مگر پھر بھی ہر کام میں ذاتی دلچسپی لیتے اور اس کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے دیتے۔حق گوئی میں لا يخاف لومۃ لائم کا عملی نمونہ تھے، جس بات کو حق سمجھتے ، اس کے کہنے میں ان کے سامنے کسی کا جاہ و منصب اور شوکت و حشمت رکاوٹ نہیں بن سکتے تھے۔
آپ کے علمی کارناموں اور دینی مفاخر کو یہی کافی ہے کہ آپ پختہ عمری میں پڑھنے تشریف لائے اور پڑھنے کا حق ادا کرنے کے بعد عرصہ ۲۱ سال تک گلشن بنوری کی آبیاری فرماتے رہے۔ علاوہ ازیں آپ نے متعدد کتابیں بھی تصنیف فرمائیں ہیں جو آپ کے علمی اور ادبی ذوق کی آئینہ دار ہیں۔