• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایم ڈی کیٹ پرچہ لیک، جناح میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ ذمہ دار قرار

کراچی( سید محمد عسکری ) ایم ڈی کیٹ کا پرچہ آؤٹ ہونے کی تحقیقاتی رپورٹ میں کمیٹی کے اراکین نے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ کو پرچہ آؤٹ ہونے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر امجد سراج میمن سے انٹری ٹیسٹ کے انتظام میں غفلت اور کوتاہی کے حوالے سے انکوائری کمیٹی کے سوالات کا جواب دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ یونیورسٹی وائس چانسلر سے پوچھا جائے کہ انہوں نے حنا سعید کو ایڈیشنل ڈائریکٹر کیوں بھرتی کیا اور انہیں انٹری ٹیسٹ جیسی اہم ترین ذمہ داری کیوں سونپی جب کہ حنا سعید کی تعلیمی اسناد مانگنے پر بھی فراہم نہیں کی گئیں اور ساتھ ہی وہ قانون بھی بتایا جائے جس کے تحت کنٹی جنسی کی بنیاد پر 19؍ گریڈ پر ایک ملازم بھرتی کرکے اسے دو لاکھ روپے ماہانہ مشاہرہ دیا گیا۔ وزیر اعلی سندھ کو بھیجی گئی سمری میں کہا گیا ہے کہ 27؍ ستمبر 2023ء کو ہونے والے انکوائری کمیٹی کے آخری اجلاس میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کا تجزیہ کرنے اور اسی یونیورسٹی کی جانب سے اختیار کردہ ضابطوں کو جائزہ لینے کے بعد جو باتیں سامنے آئیں ان کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سندھ زون کراچی کی فارنسک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایم ڈی کیٹ 2023ء کا امتحانی پرچہ انٹری ٹیسٹ کا آغاز ہونے سے چار سے پانچ گھنٹے قبل لیک ہوا۔ فارنسک رپورٹ کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ بادی النظر میں دو فون نمبرز (0331-2248199 ساحل جلبانی لاڑکانہ اور 0336-8462811) کے ذریعے یہ لیک کیا جانے والا پرچہ پھیلایا گیا۔ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں کنٹرول ایگزامینیشن کا عہدہ 2021ء سے خالی پڑا ہے جبکہ انٹری ٹیسٹ کے پورے عمل سے ڈپٹی کنٹرولر ایگزامینیشن کو دور رکھا گیا اور انہیں صرف نتائج مجتمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا گیا ہے کہ حنا سعید کو کنٹی جنسی کی بنیاد پر 89؍ دن کیلئے دو لاکھ روپے ماہانہ کے مشاہرے پر ایڈیشنل ڈائریکٹر بھرتی کیا گیا اور انہیں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ امتحانی پرچہ بنانے، چھپوانے اور اس کی نقل و حرکت کے حوالے سے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے اسٹاف کے بیانات میں تضاد موجود ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انکوائری کمیٹی نے یونیورسٹی عملے کے بیانات قلمبند کیے (ماسوائے مسٹر سہراب زمان اور مس حنا سعید) جنہوں نے انکوائری کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو زبانی تجاویز پیش کی تھیں جن پر ٹیسٹ کے انعقاد کے دوران عمل نہیں کیا گیا۔ انکوائری میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں امتحانات، پرچہ جات کی چھپائی، پیکنگ اور ٹرانسپورٹیشن پر مامور عمومی عملے کو ایم ڈی کیٹ کے امتحان سے دور رکھا گیا، ماسوائے چند اسٹاف کے جو ٹیسٹ سینٹرز میں ویجیلنس کا کام کرتا ہے۔ تاہم، باقی تمام انویجیلیٹرز باہر سے حاصل کیے گئے (آؤٹ سورسڈ) تھے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یونیورسٹی میں عملے کو ٹیسٹ کے دوران ایک جیسی ذمہ داریاں بھی دی گئی تھیں بالخصوص مسٹر لئیق اور مس حنا سعید کی ذمہ داریاں اوور لیپ کر رہی تھیں۔ امتحانی پرچہ کی حفاظت کیلئے اختیار کیے گئے طرز عمل میں اس وقت خرابی (سیکورٹی بریچ) دیکھا گیا جب ممنوعہ علاقے میں لوگوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی، ممنوعہ علاقے میں لوگوں کے آنے جانے کی روک تھام کیلئے کوئی موزوں پروٹوکول نہیں تھا اور یہ بات ویڈیو شواہد سے بھی عیاں ہے۔ سیکیورٹی گارڈز کو ان کی ڈیوٹی سے مکمل طور پر بریف نہیں کیا گیا تھا، ان کے پاس مناسب تربیت بھی نہیں تھی کہ وہ یہ چیک کر سکیں کہ یونیورسٹی کے عملے کے علاوہ کون سے پرائیوٹ عملے کے پاس ممنوعہ علاقے تک رسائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے اسٹاف کے موبائل فونز 3؍ ستمبر 2023ء سے متعلقہ حکام (ایڈمن اینڈ سیکورٹی) کے پاس تھے جو انہیں 8؍ ستمبر 2023 کو واپس کر دیے گئے، اور سوشل میڈیا کے مطابق امتحانی پرچہ اگلے دن آؤٹ ہوا۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایم ڈی کیٹ کا امتحان کرانے کیلئے کور کمیٹی تشکیل دی گئی تھی لیکن کوئی بھی فیصلہ ایسا نہیں جس کی توثیق کور کمیٹی نے کی ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ بیشتر فیصلے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمشن نے انفرادی طور پر کیے۔ رپورٹ کے مطابق، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے سوالنامہ سر بمہر بکسوں میں ایک نجی کوریئر کمپنی کو فراہم کیے گئے اور یہ ڈبے 9؍ ستمبر 2023 کی رات 8؍ بجے تک ان کے پاس تھے جس کے بعد یہ ڈبے 10؍ ستمبر 2023ء کو طے شدہ امتحانی مراکز پر صبح ساڑھے سات بجے پہنچائے گئے۔ انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں جو تجاویز پیش کی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے انٹری ٹیسٹ کیلئے کیے گئے انتظامات میں کوتاہی پائی گئی، اس ضمن میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے انکوائری کمیٹی کے مشاہدات کے حوالے سے سوالات پوچھے جائیں اور ان سے جواز طلب کیا جائے۔ انکوائری کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ مسٹر لئیق احمد اور مس حنا سعید کے فونز لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیے جائیں تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ انہوں نے امتحان کرانے کیلئے رازداری سے کام لیا یا نہیں، اور کہیں پیپر لیک ہونے میں ان کا کوئی کردار تو نہیں۔ انکوائری کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ یونیورسٹی وائس چانسلر سے پوچھا جائے کہ انہوں نے مس حنا سعید کو ایڈیشنل ڈائریکٹر کیوں بھرتی کیا اور انہیں انٹری ٹیسٹ جیسی اہم ترین ذمہ داری کیوں سونپی گئی۔ مس حنا سعید کی تعلیمی اسناد فراہم نہیں کی گئیں تاہم ان کی تصدیق متعلقہ اداروں سے کرائی جائے اور ساتھ ہی وہ قانون بتایا جائے جس کے تحت کنٹی جنسی کی بنیاد پر 19؍ گریڈ پر ایک ملازم بھرتی کرکے اسے دو لاکھ روپے ماہانہ مشاہرہ دیا گیا۔ امتحان کے دوران متبادل امیدوار (امپرسونیفکیشن) کی شرکت کو روکنے کیلئے امتحانی فارم پر کیے جانے کے موقع پر امیدواروں کیلئے بایومیٹرک سسٹم یا فیس ویریفکیشن سسٹم متعارف کرایا جائے اور امتحانی مراکز میں داخلے کے وقت بھی بایو میٹرک یا فیس ویریفکیشن کی جائے۔ اس کے علاوہ یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ پی ایم ڈی سی ماہر اور تجربہ کار پروفیسرز پر مشتمل ایک پینل تشکیل دے جو سوالوں کے جوابات کے حوالے سے پائے جانے والے کسی بھی ابہام کا جواب دے سکیں جبکہ ایم ڈی کیٹ جیسی اہم ذمہ داری کیلئے سینئر اور تجربہ کار فیکلٹی میمبرز اور ریگولر اسٹاف کو ذمہ داریاں دی جائیں اور امتحان سے پہلے ان کی تربیت کی جائے۔

اہم خبریں سے مزید