• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سنجرانی نے دلاور خان سے قرارداد کی نوعیت تک نہ پوچھی!

اسلام آباد(صباح نیوز) سینیٹر دلاور خان نے جب الیکشن التواء سے متعلق قرارداد پیش کرنے کی اجازت مانگی تو چیئرمین سینٹ نے محرک سے قرارداد کی نوعیت کے بارے میں بھی نہیں پوچھا۔ 

پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار حکومت کی طرف سے کسی معاملے پر قرارداد کی منظوری کے بعد اس کی مخالفت کی گئی ہے۔ 

قرارداد کی تحریک اور اس کی منظوری کے دوران ایوان بالا میں حکومتی نمائندگی نہیں تھی، چیئرمین سینیٹ نے کسی وزیر کے آنے کا انتظار بھی نہیں کیا بڑی جماعتوں نے کورم کی نشاندہی نہ کرنے پر پچھتاوا کیا ہے۔ 

جمعہ کو دو نشستوں میں سینیٹ کا اجلاس ہوا۔ نماز جمعہ کے وقفہ کے بعد دو بجے چیئرمین سینیٹ کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تو سینیٹر کہدا بابر نے اچانک انتخابی التواء کا موقف پیش کرنا شروع کر دیا۔ 

سینیٹر منظور کاکڑ، سینیٹر ہدایت اللّٰہ خان اور باپ پارٹی کے رہنماؤں کو کئی بار اظہار خیال کا موقع ملا ۔ آزاد سینیٹر دلاور خان اس دوران کھڑے ہو گئے اور چیئرمین سینٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں قرارداد پیش کرنا چاہتا ہوں۔

افنان اللّٰہ نے شور شرابا کیا اور ان کی باپ پارٹی کے اراکین کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوگئی۔ 

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر افنان اللّٰہ اور سینیٹر بہرہ مند تنگی نے اعتراف کیا کہ ہمیں کورم کی نشاندہی کرنی چاہیے تھی مگر یہ بات اس وقت ہمارے ذہن میں نہیں آئی ورنہ موقع تو تھا جو ہم سے ضائع ہوگیا۔

اہم خبریں سے مزید