• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیرپور، چار نوزائیدہ بچوں کی منکی پاکس سے ہلاکت

کراچی (بابر علی اعوان) سندھ کے ضلع خیرپور میں منکی پاکس سے چار نوزائیدہ بچوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جس کی محکمہ صحت سندھ نے تصدیق کر دی ہے۔ محکمہ نے نوزائیدہ بچوں میں سامنے آنے والے منکی پاکسکے کیسز سے متعلق تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاں بحق ہونے والے سات بچوں میں سے چار میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی تاہم ماہرین کے مطابق ان بچوں کی اموات براہ راست وائرس سے نہیں ہوئیں بلکہ تمام متاثرہ بچے پیدائشی طور پر انتہائی کمزور تھے۔ ان بچوں میں وقت سے پہلے پیدائش، کم وزن اور شدید غذائی قلت جیسی پیچیدگیاں پہلے سے موجود تھیں۔ جنگ سے گفتگو میں ڈائریکٹر جنرل صحت سندھ ڈاکٹر وقار محمود میمن نے بتایا کہ خیرپور میں 14 مارچ کو پہلی مرتبہ نوزائیدہ بچوں کی جلد پر غیر معمولی دانے نمودار ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس اور آغا خان یونیورسٹی کی لیبارٹریز میں کیے گئے ٹیسٹوں کے دوران مجموعی طور پر سات نوزائیدہ بچوں میں ایم پاکس وائرس کی تصدیق ہوئی۔ ان کیسز کے بعد محکمہ صحت نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے خیرپور میڈیکل کالج اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) اور نجی شاہانی میڈیکل اسپتال کے این آئی سی یو کو عارضی طور پر بند کر دیا تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی خصوصی ہدایت پر ماہر ڈاکٹروں، وبائی امراض کے ماہرین اور انفیکشن کنٹرول ٹیموں پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم خیرپور پہنچی، جس نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور وائرس کے ممکنہ ماخذ کی نشاندہی کر لی۔ محکمہ صحت کے مطابق “انڈیکس کیس” یعنی وائرس کے ابتدائی مریض اور اس کے پھیلاؤ کے ممکنہ ذریعے کا سراغ لگا لیا گیا ہے، تاہم مزید تصدیق کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ضلع خیرپور اور گردونواح میں کانٹیکٹ ٹریسنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ ان تمام افراد اور بچوں کی نگرانی کی جا رہی ہے جو متاثرہ نوزائیدہ بچوں یا اسپتالوں کے عملے کے رابطے میں آئے تھے۔ محکمہ صحت نے سکھر، خیرپور اور اطراف کے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول پروٹوکولز فوری نافذ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اسپتالوں میں طبی آلات، انکیوبیٹرز، بستروں اور دیگر مشینری کی خصوصی جراثیم کشی بھی کی جا رہی ہے۔ ترجمان محکمہ صحت کے مطابق ماہرین کی رائے ہے کہ متاثرہ بچوں کی کمزور جسمانی حالت اور قبل از وقت پیدائش ان کی اموات کی بڑی وجہ بنی، جبکہ ایم پاکس وائرس نے ان کی حالت کو مزید پیچیدہ کیا۔

اہم خبریں سے مزید