• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انرجی اقدامات کی لانگ ٹرم پالیسی بنانا ہوگی، تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ) تجزیہ کاروں بینظیر شاہ، فخر درانی، ارشاد بھٹی اور مظہر عباس نے کہا ہے کہ یہ جنگ اگر مزید بڑھتی ہے تو پاکستان کی مشکلوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ انرجی کے اقدامات کی لانگ ٹرم پالیسی تشکیل دینا ہوگی ۔وہ جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ “ میں گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کی میزبان علینہ فاروق کےسوال کہ پیچیدہ صورتحال میں پاکستان کے پاس سفارتی سطح پر کون سے قابل عمل آپشنز باقی ہیں؟ جواب میں تجزیہ کار بینظیر شاہ نے کہا کہ اس صورتحال میں پاکستان کے مسائل بہت پیچیدہ ہیں البتہ ابھی تک ہم جس پالیسی پر ہیں وہ بہت متوازن ہے اور اس کی تعریف تمام فریقین کی طرف سے کی گئی ہے اور ہمارے پاس سفارتکاری کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے تاکہ جلد سے جلد معاملہ ٹھیک ہو اور اس خطے کے عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان معاشی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ یہ جنگ اگر مزید بڑھتی ہے تو پاکستان کی مشکلوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ تاہم امریکہ کے سامنے اس جنگ سے متعلق کوئی پلان موجود نہیں ہے یہ بھی خبریں آرہی ہیں کہ یو اے ای اور بحرین بھی اس جنگ میں شامل ہوسکتے ہیں البتہ عرب ممالک کی اس جنگ سے متعلق مختلف پالیسز بن رہی ہیں سعودی عرب کے فیصلے کا اثر پاکستان پر براہ راست ہوگا۔تجزیہ کار فخر درانی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان نے جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے اس کی دنیا میں تعریف کی جارہی ہے ۔ جنگ بڑھتی ہے تو پاکستان اپنی جیو اسٹرٹیجک اور پالیٹیکل حوالوں سے پاکستان متاثر ہوگا ۔
اہم خبریں سے مزید