کراچی (سید محمد عسکری) حکومت سندھ نے انکشاف کیا ہے کہ سابق دور حکومت کی دو سالہ مدت کے دوران سندھ کے اسکولوں کیلئے 736؍ کروڑ روپے کا فرنیچر خریدا گیا۔
ہائی کورٹ میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ کے مطابق، پیپلز پارٹی حکومت کے 11 سالہ دور کے دوران اسکولوں کے فرنیچر کیلئے 28؍ ارب 12؍ کروڑ 85؍ لاکھ 17؍ ہزار روپے کا فنڈ مختص کیا گیا اور مالی سال 2016-17ء سے مالی سال 2019-20ء تک اسکولوں کیلئے کسی بھی طرح کا کوئی فرنیچر خرید نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں سندھ کے سرکاری اسکولوں میں فرنیچر کی قلت کے حوالے سے کیس کی سماعت جاری ہے۔
اس کیس میں دائر شدہ درخواست میں شکایت کی گئی ہے کہ صوبے کے سرکاری اسکولوں کی حالت ابتر ہے، فرنیچر کی قلت ہے جس کے باعث ان اسکولوں میں پڑھنے والے معصوم بچے شدید تکلیف میں مبتلا اور مسائل کا شکار ہیں۔
اس شکایت پر سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت سے 10؍ سالہ ریکارڈ طلب کر لیا تھا۔ اب سندھ حکومت کی جانب سے جمع کرائی جانے والی رپورٹ میں یہ انکشافات کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، 2012-13ء سے 2022-23ء تک اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ذریعے فرنیچر کی خریداری کیلئے مجموعی طور پر کیلئے 28؍ ارب 12؍ کروڑ 85؍ لاکھ 17؍ ہزار روپے مختص کیے گئے جن میں سے صرف 9؍ ارب 34؍ کروڑ 72؍ لاکھ 5؍ ہزار روپے جاری ہوئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق وزیر تعلیم سید سردار شاہ کے دور میں 7؍ ارب 36؍ کروڑ 85؍ لاکھ 13؍ ہزار روپے کا فرنیچر اسکولوں کیلئے خریدا گیا۔ سردار شاہ کے دور میں مالی سال 2021-22ء کے دوران 3؍ ارب 20؍ کروڑ 57؍ لاکھ 54؍ ہزار روپےکا فرنیچر خریدا گیا جبکہ مالی سال 2022-23ء میں 4؍ ارب 16؍ کروڑ 27؍ لاکھ 59؍ ہزار روپے کا فرنیچر خریدا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چار مالی سال 2016-17ء، 2017-18ء، 2018-19ء اور 2019-20ء میں کوئی فرنیچر نہیں خریدا گیا۔
چیف سیکریٹری سندھ نے یہ رپورٹ ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی ہے کہ اسکولوں کے فرنیچر پر اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں تاہم زمینی حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ صوبے کے اسکولز خستہ حالی اور تباہی کا شکار ہیں۔
اس ضمن میں ’’جنگ‘‘ نے ذرائع سے مزید تفصیلات حاصل کی ہیں جن کے مطابق، ساڑھے تین ارب روپے مالیت کی ڈیوئل میزیں 29؍ ہزار روپے فی میز کے نرخ پر خریدی گئیں جبکہ اس کا مارکیٹ 8؍ سے 9؍ ہزار روپے فی میز تھا۔
تین سال قبل خریدی گئیں ان میزوں کا موازنہ جاری مہنگائی اور آج کے موجودہ نرخ سے کیا جائے تو فی میز کی قیمت 15؍ سے 17؍ ہزار روپے سے زائد نہ ہوگی۔ اس بڑے اسکینڈل پر نیب نے بھی کوئی ایکشن نہیں لیا۔ مزید برآں، حیدرآباد، کراچی، لاڑکانہ اور سکھر کے ڈائریکٹرز اسکول ایجوکیشن نے ڈھائی ارب روپے مالیت کی میزیں خرید تو لی ہیں لیکن کرپشن کی وجہ سے ان کی سپلائی تا حال ممکن نہیں ہو سکی۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حیدرآباد کے ایک سپلائر کو 360؍ ملین (36؍ کروڑ) روپے کا آرڈر دیا گیا لیکن وہ آرڈر ملنے کے بعد غائب ہوگیا۔
اسی طرح ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن سکھر کی سطح پر 700؍ سے 800؍ ملین (80؍ کروڑ) روپے کی کرپشن ہوئی جہاں ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن اور عملے کو معطل کر دیا گیا۔
اس ضمن میں فیملی جج عمر کوٹ کی جانب سے کیے جانے والے انسپکشن کی رپورٹ کی روشنی میں فرنیچر کیس کی سماعت کرنے والے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس صلاح الدین پنہور نے سپلائر کیخلاف ایکشن لیا ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈائریکٹر اسکولز کراچی کی سطح پر 440؍ ملین (44؍ کروڑ) روپے کا فرنیچر اسکولز کیلئے خریدا گیا لیکن اس فرنیچر کا معیار گھٹیا ہونے کے ساتھ مطلوبہ تعداد میں فرنیچر فراہم نہیں کیا گیا۔