اسلام آباد ( مہتاب حیدر)نوحلف یافتہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے اہم مذاکرات کےلیے رسمی درخواست کرنے والا ہے۔
ان کامزید کہنا تھا کہ توقع ہے کہ فنڈکے اسٹاف کے ساتھ یہ مذاکرات رواں ہفتے شروع ہوجائیں گے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں جانا ناگزیرہے، موجودہ مالی سال 2024 ایک مشکل سال ہوگا، جلد تمام مسائل پر گفتگو کےلیے میڈیا کے ساتھ بیٹھیں گے بریفنگ لینے کر بات کروں گا، اپنی تمام ترتوانائیاں پاکستان کو درپیش مشکلا ت کے حل کےلیے استعمال کروں گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صدرمیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اور دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹراشفاق حسن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی بجٹ مستعار وسائل پرچل رہا ہے، ملکی سلامتی کا کیابنے گا۔
تفصیلات کے مطابق اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ پاکستانی فریق نے واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف ہیڈکوآرٹر کو ایک ای میل بھجوائی ہے تاکہ 3 ارب ڈالر کے جاری اسٹینڈبائی ایگریمنٹ پروگرام کے تحت اہم مذاکرا ت کیے جاسکیں اور اس کی 1.1 ار ب ڈالر کی آخری قسط کا اجرا کرایاجاسکے۔
پاکستان 6 ارب ڈالر کے تازہ میڈیم ٹرم بیل آؤٹ پیکج کےلیے مذاکرات شروع کرنے کی درخواست بھی کر سکتا ہے جو 6 اب ڈالر کی توسیع شدہ فنڈفیسلٹی کےلیے ہوگا۔
آئی ایم ایف سے ماحولیاتی حوالے سے1.5 سے 2 ارب ڈالر کی فنانسنگ حاصل کرکے اسے مزید مستحکم کرنے کی کوشش کرنے کے طاقتور امکانات موجود ہیں ۔
اپنا حلف اٹھانے کے فوراً بعد گفتگو کرتے ہوئے اور کابینہ کے پہلے سیشن میں شرکت کرنے کے بعد دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے پیر کی رات کو تصدیق کی کہ آئی ایم ایف کی ٹیم سے رواں ہفتے کے اندر مذاکرات کی توقع ہے جب ان سے آئی ایم ایف کو موجودہ اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ پروگرام کے حوالے سے رسمی درخواست بھجوانے کے امکان کے حوالے سے دریافت کیا گیا جو 12 اپریل 2024 کو ختم ہونے والا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ فنڈ کے اسٹاف کے ساتھ مذاکرات رواں ہفتے شروع ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد تمام مسائل پر گفتگو کےلیے میڈیا کے ساتھ بیٹھیں گے۔
قبل ازیں ایوان صدر میں حلف برادی کے موقع پر نوحلف یافتہ وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ موجودہ مالی سال 2024 ایک مشکل سال ہوگا۔
’’ اب باتیں زیادہ ہورہی ہیں لیکن اب ایکشن کا وقت آگیا ہے۔ ‘‘انہوں نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی تمام ترتوانائیاں پاکستان کو درپیش مشکلا ت کے حل کےلیے استعمال کریں گے جب ان سے آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے پوچھا گیا توانہوں نے جواب دینے میں تامل کا اظہار کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے پر کچھ بھی کہنے سے پہلے اس معاملے پر بریفنگ لیں گے۔