• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پشاور بی آر ٹی کا کنٹریکٹر عالمی ثالثی عدالت پہنچ گیا، 57 ارب کا دعویٰ

پشاور(ارشدعزیز ملک ) پشاور بی آر ٹی پراجیکٹ کے جے وی کنٹریکٹرز نے آخر کار معاہدے کی دفعات کے تحت بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کرلیا ہے تاکہ انہیں 57 ارب روپے کی بقایا متنازعہ رقم ادا کی جائے۔اگر دعویٰ مان لیا گیا تو بی آر ٹی پشاور کی کل لاگت 120ارب روپے سے تجاوز کر جائے گی۔کنٹریکٹر نے پراجیکٹ کا دائرہ بڑھانے، ڈیزائن میں بار بار تبدیلی، اضافہ اور قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ، ادائیگیوں میں تاخیر، مالیاتی چارجز اور اپنی بقایا رقم پر سود کے لیے رقم کا مطالبہ کیا ہے۔پی ڈی اے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس نمائندے کو بتایا کہ نیب کی انکوائریوں کی وجہ سے دونوں فریقوں کے درمیان تنازعہ خوش اسلوبی سے حل نہیں ہوسکا ۔چینی اور پاکستانی کمپنیوں کی مشترکہ کمپنی M/S SGEC-MAQBOOL -CALSONS نے بین الاقوامی عدالت برائے ثالثی، انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس پیرس، فرانس کو ثالثی کے لئے ایک خط بھیجا ہے۔خط میں کہا گیا کہ کنٹریکٹ کی ذیلی شق 20.5کے تحت پی ڈی اے کے ساتھ تمام متنازعہ معاملات بشمول ثالثی بورڈ کی طرف سے ہمارے حق میں فیصلہ کیے گئے تنازعات پرخوش اسلوبی سے تصفیہ کے لیے کئی سنجیدہ کوششیں کی گئیںلیکن تمام کوششیں ناکا م ہوگئیں ۔خط میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی اے نے پشاور بس ریپڈ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کا تصور دیا اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے قرضہ لے کر پشاور کے شہریوں کی سہولت کے لیے منصوبہ شروع کیا۔ تقریباً 26کلومیٹر طویل ٹریک کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد پی ڈی اے نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ ایک شفاف بین الاقوامی مسابقتی بولی کے عمل کے بعد، JV کو پروجیکٹ کے لیے سول ورکس کا ٹھیکہ دیا گیا۔خط میں کہا گیا کہ ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں کے باعث کام کو کئی بار معطل کیا گیا ۔ نتیجے کے طور پر، ٹھیکیداروں کو مشینری اور ان کے دیگر متحرک وسائل کو سست کرنے اور اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹھیکیداروں کی طرف سے ڈیزائن میں کچھ سنگین خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔معاہدے کی ذیلی شق 20.2میں کہا گیا ہے کہ ڈسپیوٹ بورڈ کو پروجیکٹ کے آغاز کے 28دنوں کے اندر تشکیل دیا جانا تھا۔ تاہم، PDA نے343دنوں کے بعد بورڈکو تشکیل دیا ۔بورڈ کی تشکیل میں تاخیر کے باعث تنازعات کا فیصلہ نہ ہوسکا جس کے نتیجے میں ٹھیکیداروں کے لیے مالی مشکلات پیدا ہوئیں اورپراجیکٹ کی پیش رفت کو بھی متاثر ہوئی۔بورڈ کو77تنازعات بھیجے گئے جن میں سے صرف23تنازعات کا بورڈ نے فیصلہ سنایا۔
اہم خبریں سے مزید