• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فاطمہ سعید الرحمٰن

’’ابوجان، میرا گفٹ کہاں ہے؟ کون سے بیگ میں ہے؟ کتنا بڑا گفٹ ہے؟‘‘

حسن نے سارے سوالات ایک ساتھ کرکے اپنا گفٹ ڈھونڈنا شروع کردیا۔

طلحہ بھی کمرے میں آکر بیگ کی طرف لپکا ۔’’ ابو جان میرے لیے گفٹ نہیں لائے؟‘‘

’’ہمیں ڈبل گفٹ ملنے چاہیے، عیدی بھی تو ملے گی نا۔‘‘ انیسہ نے معصومانہ انداز میں کہا۔

’’ ارے اپنے ابو کو آرام سے بیٹھنے تو دو، بازار سے تھکے ہوئے آئے ہیں۔‘‘ امی نے بچوں کوڈانٹا۔

’’آپ سب کے لیے گفٹ لے کر آیا ہوں۔‘‘ ابو جان نے سب کو پیار کرتے ہوئے کہا۔

’’لیکن گفٹ لینے سے پہلے یہ بتاؤکہ اپنے کئےہوئےوعدوں کو کس کس نے پورا کیا ہے؟جس نے وعدہ نبھایاہے، اس کو گفٹ ملے گا اور جس نے وعدہ پورا نہیں کیا اُسےعیدی ملے گی نہ گفٹ۔‘‘ابو جان نے حتمی فیصلہ سنا دیا۔

’’ میں نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے ۔ پورے رمضان نماز پابندی کے ساتھ باجماعت پڑھی اور روزانہ قرآن کی تلاوت بھی کی ، ایک دن بھی ناغہ نہیں کیا۔‘‘حسن نے خوشی خوشی بتایا۔

انیسہ سے بھی خاموش نہ رہا گیا ابو جان کے پاس بیٹھ کر کہنے لگی ۔’’ابو جان!پورے رمضان میں نے امی کی ساتھ کام کیا ہے۔‘‘

طلحہ نے چھیڑتے ہوئے کہا ۔’’ وہ جو گلاس توڑا تھا۔‘‘

’’ہاہاہا ‘‘دونوں بھائی ہنس پڑے۔ ابو جان بھی مسکرانے لگے۔

انیسہ منہ بسورتے ہوئے بولی ۔’’ابوجان وہ تو غلطی سے گر گیا تھانا۔ میں افطارکے وقت دستر خوان پر برتن رکھتی تھی۔‘‘

’’ پیاری بیٹی کو میں جانتا ہوں، اس نے رمضان میں اپنی امی کی خوب مدد کی ہے ۔‘‘ انیسہ کو پیار کرتے ہوئے ابو نے کہا۔

’’اچھا اب، طلحہ کے بتانے کی باری ہے۔ ‘‘ ابو نے اُس کی طرف رخ کر کے کہا۔

طلحہ نے کہا۔’’وہ ناں ابو جان، میں نے کیا وعدہ کیا تھا وہ بھول گیا ہوں۔ پلیز حسن تم بتادونا کیا تمھیں میرا وعدہ یاد ہے ؟‘‘

انیسہ نے ہنستے ہوئے کہا ،’’بھائی اب اپنی باری پر کیا ہوگیا۔‘‘

یکدم طلحہ صوفے پراچھل پڑا،’’ مجھے اپنا کیا وعدہ یاد آگیا۔

ابو جان بچوں کی باتیں سن کر محظوظ ہورہےتھے ۔

’’میں نے پورے رمضان محلہ کے غریب گھروں میں ایک ایک دن کرکے افطاری بانٹی ہے اور ہاں پرندوں کو باجرہ اور پانی بھی ڈالا ہے۔‘‘

حسن نے پوچھا۔’’ کیا تمھارا روزہ نہیں ہوتا تھا ؟ اتنے سارے کام تم نے کیسے کر لیے؟‘‘

’’ کیوں نہیں روزے میں تو ڈبل اجر ملتا ہے دوسروں کی مدد کرکے۔‘‘ طلحہ نے خوشی سے کہا۔

آخر ابو جان جو بہت دیر سے خاموش تھے، مسکراتے ہوئے بولے۔’’شاباش! تم نے واقعی بہت اچھے کام کیے۔ خدمت خلق کرنا عظیم کام ہے۔آپ سب کو عیدی بھی ملے گی اور گفٹ بھی۔ لیکن اب ایک اور وعدہ کرنا ہوگا، تاکہ اللہ تعالی بھی تم سب سے خوش ہواور وہ بہت سارے گفٹ بھی دےگا۔‘‘

’’واہ ابو جان پھر تو وعدہ پکا میں پورا کروں گا ‘‘ حسن نے سر ہلا کر کہا۔

’’ بچو ! ہم سب رمضان میں روزے رکھتے ہیں اور اچھے اچھے کام کرتے ہیں۔ پھر اللہ پاک ہمیں روزوں کا انعام عیدالفطر کے نام سے دیتا ہے، جس میں سب خوشیاں مناتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا عبادت اور نیک کام صرف رمضان میں ہی نہیں کرنے بلکہ اس کے بعد بھی کرنے ہیں۔ ہمارے پاس باقی گیارہ مہینے ہیں ہمیں ان ماہ میں بھی اللہ کی عبادت کرنی ہے۔اللہ کو راضی کرنے والے کام کرنے ہیں، والدین کا کہنا ماننا ہے، غریبوں کی مدد کرنی ہے۔

انیسہ بولی،’’ جی ابو جان میری ٹیچر نے بھی کہا تھا کہ رمضان میں جو اچھے کام کروگے وہی کام پورے سال کرتے رہنا ،تب ہم اچھے بچے بنیں گے۔‘‘

ابو جان نے پوچھا۔ ’’تو کیا وعدہ کرتے ہیں آپ سب۔ تینوں بچوں نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔’’ہم پکا وعدہ کرتے ہیں، سال بھر اچھے کام کریں گے، دوسروں کی مدد کریں گے‘‘۔

’’شاباش بچو! اب ملیں گے تمھارے تحائف‘‘۔ابو یہ کہہ کر بیگ سے تحائف نکالنے لگے۔ سب بچے نہال ہوگئے اور ابو جان سے تحائف کے ساتھ عیدی بھی وصول کرنے لگے۔