اسلام آباد(ایجنسیاں/جنگ نیوز)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس جمعہ کو یہاں منعقد ہوا جس میں 24 اداروں کی نجکاری کی منظوری دیدی گئی‘ اجلاس میں 84 حکومتی ملکیتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جبکہ 40 حکومتی ملکیتی اداروں کو درجہ بندی کے تحت چلایا جائے گا۔
نجکاری کیلئے سفارش کیے گئے اداروں کی فہرست جیو نیوز نے حاصل کرلی جس میں پی آئی اے ، فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ، ایچ بی ایف سی ، زرعی ترقیاتی بینک‘یوٹیلیٹی اسٹورزکارپوریشن، پیکو، جنکوون‘ٹو،تھری،فور شامل ہیں‘اس کے علاوہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں لیسکو ، پیسکو ، آئیسکو ، میپکو ، جیپکو ، حیسکو ،پیسکو،سیپکو اور دیگر ادارے نجکاری فہرست میں شامل ہیں۔
اسٹیٹ لائف انشورنس، سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ،پاکستان ری انشورنس کارپوریشن بھی نجکاری کی فہرست میں شامل ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سی سی او پی کو نجکاری کمیشن آرڈیننس 2000 کے سیکشن 5(b) کے مطابق پی سی بورڈ کی سفارشات کی بنیاد پر وزارت نجکاری کی طرف سے مرحلہ وار نجکاری پروگرام (2024-29) کے ساتھ پیش کیا گیا تھا، خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کی منظوری دی جائے گی۔
فیڈرل فوٹ پرنٹ صرف وفاقی حکومت کے ڈومین کے تحت اسٹریٹجک اور ضروری ایس او ای تک محدود ہوگا۔
سی سی او پی نے اس بات پر زور دیا کہ ایس او ای منافع کمانے والے کو بھی نجکاری کے لیے غور کیا جائے گا، نجکاری پالیسی کے رہنما خطوط پر غور کرنے کے بعد سی سی او پی نے ایس او ای ایکٹ اور پالیسی کی روشنی میں 84ایس او ای پر تفصیل سے غور کیا۔
40ایس او ای جو حکمتِ عملی یا اہمیت کے طور پر درجہ بندکئے گئے ہیں، متعلقہ وزارتوں کے ذریعے ان کی درجہ بندی کے لئے ریاستی ملکیتی کاروباری اداروں کے سامنے رکھے جائیں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وہ ایس او ای جنہیں حکمتِ عملی یا اہمیت کے طور پر درجہ بند نہیں کیا جائے گا، نجکاری پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔
اصولی طور پر فی الحال وزارتِ نجکاری کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مشاورت سے ہر ادارے کو مرحلہ وار طے کرے۔ سی سی او پی کے آئندہ اجلاس میں ایک جامع مرحلہ وار نجکاری پروگرام کو حتمی شکل دی جائے.
سی سی او پی نے او جی ڈی سی ایل کے 322,460,900 شیئرز کی نجکاری کمیشن کے سی ڈی سی کے اکانٹ سے وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کو منتقل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا.
معاملے کو قانون و انصاف ڈویژن کو اس ہدایت کے ساتھ موخر کردیا گیا کہ وہ فوری طور پر سوورین ویلتھ فنڈ ایکٹ 2023 کی دفعات کا فوری طور پر جائزہ لے، اس کی آئندہ اجلاس میں سی سی او پی کے سامنے اپنی سفارشات پیش کرے۔