ملتان( سٹاف رپورٹر) لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے توہین عدالت کی درخواست پر کلکٹر کسٹم علی عباس گردہ کو اصالتا" 3 جون کو طلب کر لیا ہے اور ان سے وضاحت طلب کی ہے کہ انہوں نے عدالت عالیہ کے حکم کے باوجود ایک ماہ کے اندر درخواست دہندہ کی داد رسی کیوں نہیں کی پٹیشنر محمد نادر خان کے وکیل نے فاضل عدالت کو آگاہ کیا کہ کسٹم ٹریبونل نے ان کے موکل کے حق میں فیصلہ کر دیا تھا مگر کلیکٹر کسٹم ضبط شدہ انورٹرز اور سولر پینلز واپس کرنے سے گریزاں ہیں جن کی مالیت لاکھوں روپے بنتی ہے اور مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں جس پر ہائی کورٹ ملتان بنچ سے رجوع کیا گیا تو فاضل عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے ایک ماہ کے اندر داد رسی کرنے کا حکم دیا تھا لیکن محکمہ کسٹم نے عدالت کی احکامات پر عمل درآمد کیا نہ ہی اس حکم کے خلاف اپیل کی جس کا وقت بھی گزر چکا ہے اس لئے توہین عدالت کی درخواست گزاری گئی۔