مانچسٹر(ہارون مرزا)مانچسٹر ائیر پورٹ پر ایک شخص کو پولیس اہلکاروں کی طرف سے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعہ پر مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں جبکہ متاثرہ شخص کے وکیل کاکہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد عام آدمی بھی کام پر جانے سے ڈرتا ہے کہیں اسے بھی پولیس کی طرف سے تشد دکا نشانہ نہ بنایا جائے۔ادھر گریٹر مانچسٹرکے میئراورپولیس اینڈ کرائم کمشنر اینڈی برنہم نے مانچسٹر ائیر پورٹ پر پولیس افسران کے ہاتھوں ایک شخص پر تشدد کے واقعہ پر گہرے افسوس کا اظہارکیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مانچسٹر ائیر پورٹ پر ایک شخص کو پولیس اہلکاروں کی طرف سے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعہ پربرطانیہ بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماج ورکرز نے بھی واقعہ پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق پر کام کرنیوالوں نے واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کا مطالبہ کیا ہے پرتشدد ویڈیو وائرل ہونے کے بعد برطانیہ میں مختلف کمیونٹیز کی طرف سے زبردست احتجاج سامنے آیا ہے گزشتہ روز مانچسٹر ائیر پورٹ پر مسلح پولیس اہلکاروں کی طرف سے ایک شخص کو بری طرح تشددکا نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل ہونے پر پورے برطانیہ میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کو یونیفارم میں ملبوس بعض مسلح پولیس اہلکار تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں ہوائی اڈے کے ٹرمنل2 پر زمین پر گر اکر اس شخص کو مارا پیٹا گیا۔ اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک پولیس آفیسر کو ڈیوٹی سے معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ راچڈیل پولیس اسٹیشن کے باہر اس واقعہ کے بعد شام گئے دیر تک عوام کا ہجوم جمع رہا اور انہوں نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ فوٹیج میں گریٹر مانچسٹر پولیس کے ایک آفیسر کو منہ کے بل لیٹے شخص پر تشدد کرتے دکھایا ہے حکام نے ویڈیو سامنے آنے پر انکوائری شروع کر دی ہے اس ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون آفیسر اپنا ٹیزر نکال کر دوسرے لوگوں پر نشانہ لگا کر چیخ رہی ہے جس شخص کو تشد دکا نشانہ بنایا گیا مبینہ طو رپر اسکی والدہ بھی اسکے ساتھ تھی جو اسے بچانے کی ناکام کوشش کرتی رہے مگر افسران اسے دور دھکیلتے رہے۔مسلح پولیس اہلکاروں نے قریب کھڑے دیگر افراد کو بھی طاقت کا استعمال کر کے دور دھکیلا۔ ایک راہگیر جو پولیس گردی کی فوٹیج بنا رہا تھا پر کالی مرچ کے پائورڈ کا چھڑکائو کرنے کے بھی الزامات سامنے آئے ہیں۔ راچڈیل پولیس اسٹیشن کے باہر عوامی احتجاج میں پولیس کیخلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔دوسری طرف گریٹر مانچسٹر پولیس کی طرف سے سامنے آنیوالے موقف میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو کا تجزیہ کیا جا رہا ہے ایک آفیسر کو آپریشنل ڈیوٹی سے ہٹانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ پولیس افسران کی جانب سے استعمال کی جانیوالی طاقت اور اختیارات کی سطح پر تحقیقات جاری ہیں ۔مانچسٹر ائیر پورٹ پر پولیس تشد دکا نشانہ بننے والے دو نوجوان بھائیوں فہد ور عماد کے خاندانی وکیل احمد یعقوب نے راچڈیل پولیس اسٹیشن کے باہر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس شخص کو برطانیہ پہلی بار آنے پر پولیس بربریت کا سامنا کرنا پڑے اسکے ذہن میں پولیس کیلئے کیا امیج بنے گا اور کیا وہ دوبارہ زندگی میں کبھی برطانیہ آنا چاہیے گا پولیس کو جارحانہ نہ رویہ اپنانے کی بجائے عوام کا حقیقی معنوں میں محافظ بننا چاہیے پولیس تشدد کا نشانہ بننے والا 19سالہ محمد فہد کی حالت انتہائی خراب ہے سی ٹی سکین رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسے سر پر شدید ضربیں لگائی گئی ہیں۔متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے اور آئندہ ایسے واقعات کا تدارک ہماری جدوجہد کا بنیادی مشن ہے۔ احمد یعقوب نے کہا کہ ایک متاثرہ شخص رائل اولڈھم ہسپتال میں ہے جبکہ ان کا تیسرا بھائی جو گریٹر مانچسٹر پولیس میں فرائض سر انجام دے رہا ہے اب کام پر جانے سے بھی ڈرتا ہے جن نوجوانوں کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا وہ ایک پولیس آفیسر کا خاندان ہے مگر ایسی بربریت کا مظاہرہ دیکھ کر انتہائی افسوس ہو تا ہے۔ اس واقعہ کے بعد عام آدمی بھی کام پر جانے سے ڈرہا ہےکہ کہیں اسے بھی پولیس کی طرف سے تشد دکا نشانہ نہ بنایا جائے تشد د کے دوران سر پر چوٹیں آنے کی وجہ سے پولیس کا فرض تھا کہ متاثرین ہسپتال پہنچایا جاتا مگر انہیں خود جانا پڑا۔پولیس افسران کیخلاف حملہ کر ہے اور تشدد سے نوجوانوں کو زخمی کرنے علاوہ متاثرہ افراد کی بوڑھی والدہ پر حملہ کیخلاف راچڈیل پولیس کو باضابطہ شکایت ریکارڈ کرائی جائے گی۔ دوسری طرف گریٹر مانچسٹر پولیس کی طر ف سے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ تین افسران پر حملہ کیا گیاجن میں ایک خاتون پولیس آفیسر بھی شامل تھی جس کی ناک ٹوٹ گئی۔ اس واقعہ میں چار افراد کو گرفتار کرلیاگیا ہے جبکہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کیلئے ایک آفیسر کو معطل کر کے معاملہ انڈیپنڈنٹ آفس فار پولیس کنڈکٹ کو ریفر کر دیا گیا ہے۔پولیس واچ ڈاگ بھی ائیر پورٹ پر پولیس کی طر ف سے استعمال ہونیوالی طاقت کے بے دریغ استعمال کی تفتیش کر رہا ہے ۔ علاوہ ازیں گریٹر مانچسٹرکے میئراورپولیس اینڈ کرائم کمشنر اینڈی برنہم نے مانچسٹر ائیر پورٹ پر پولیس افسران کے ہاتھوں ایک شخص پر تشدد کے واقعہ پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک پولیس آفیسر کی معطلی اورمعاملے کی تحقیقات شروع کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کی ویڈیو سامنے آنے پر انکے جذبات بھی عوام سے زیادہ مختلف نہیں تھے تاہم پولیس کو اپنا کام کرنے کیلئے وقت چاہیے ابتک سامنے آنیوالی صورتحال میں زیادہ سیاق و سباق واضح نہیں جسے کلیئر ہونے کی ضرورت ہے اینڈی برنہم نے کہا کہ عوام کو پولیس کیساتھ منصفانہ رویہ اپنانا چاہیے سامنے آنیوالی ویڈیو پریشان کن تھیں اوریقینا کیمونٹیز میں غم وغصہ تھا معاملے کی تحقیقات آئی او پی سی کے پاس بھیجنا اور آفیسر کی معطلی مثبت کاروائی ہے ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعہ کا محرک مانچسٹر ائیر پورٹ پر آنیوالی پرواز بیان کی جاتی ہے جہاں دونوجوان اپنی والدہ کی آمد کے منتظر تھے۔انہوں نے میٹ چیف سپرنٹنڈنٹ ڈال بابو کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کیا کہ اس واقعہ میں نسل پرستانہ رویے کا اہم کردار رہا۔عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ گریٹر مانچسٹر میں سینئر لوگوں کو فوٹیج دیکھنے کا موقع دیاگیا ہے وہ جلد حقائق کو بہتر انداز میں سامنے لائینگے تاہم عوام کی طرف سے الزامات کی بوچھاڑ مناسب عمل نہیں ہے۔