نیویارک (عظیم ایم میاں) امریکی نائب صدر کملا ہیرس بیک وقت باپ کی نسبت سے سیاہ فام اور ماں کے تعلق سے ایشیائی اور بھارت نژاد پیدائشی امریکن شہری کہلاتی ہیں۔ان کے والد شعبہ تدریس جبکہ والدہ کینسر کی ریسرچ سے وابستہ ہیں اور وکیل شوہر نازی یہودی عقائد کے پیروکار ہیں ، کملا ہیرس کی اپنی کوئی اولاد نہیں تاہم ان کے سوتیلے بچوں سے خوشگوار تعلقات ہیں اور وہ لبرل خیالات کی حامی ہیں ۔ کملاہیرس کی ذاتی زندگی اور بعض حقائق کے مطابق 59؍سالہ کملا دیوی ہیریس 20؍ اکتوبر 1964ء کو اوک لینڈ ریاست کیلیفورنیا میں جمیکا سے آنے والے امیگرنٹ ڈونالڈ ہیریس اور بھارتی صوبہ تامل ناڈ سے آنے والی شیمالہ گوپالن نامی خاتون کے ہاں پیدا ہوئیں، اسی لئے وہ بیک وقت باپ کی نسبت سے سیاہ فام اور ماں کے تعلق سے ایشیائی اور بھارت نژاد پیدائشی امریکن شہری کہلاتی ہیں۔ کمیلادیوی کے والد کا شعبہ تدریس سے اور والدہ کینسر کے بارے میں ریسرچ سے وابستہ تھیں اور ان کے والد ڈونالڈ ہیریس اکنامکس کے پروفیسر تھے۔ کمیلا دیوی ہیریس قانون کی تعلیم حاصل کرکے وکالت کے پیشہ سے منسلک ہوئیں اور پھر ڈسٹرکٹ اٹارنی کے عہدے سے پبلک آفس ہولڈر بننے کا آغاز کرکے مراحل طے کرتے ہوئے ریاست کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل کا عہدہ سنبھالا۔ وہ 2010ء تا 2017ء تک اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز رہیں۔ 2017ء میں ریاست کیلیفورنیا سے امریکی سینیٹ کی رکن باربرا باکسر کی جگہ کملا ہیریس نے امریکی سینیٹر کا عہدہ سنبھالا۔ 2014ء میں کملا ہیریس نے کیلیفورنیا کے ایک طلاق شدہ وکیل ڈگ ایموف سے شادی کرلی۔ 59؍ سالہ ڈگ ایموف انٹرٹینمنٹ امور کے ماہر وکیل ہیں۔ پہلی شادی سے ڈگ ایموف کے دو بچے بالغ اور اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ ڈگ ایموف اشک نازی یہودی عقائد کے پیروکار ہیں۔کملا ہیریس کے سوتیلے بچے اپنی سوتیلی ماں کملا کو پیار سے ’’موملا‘‘ (MOMALA) کے نام سے پکارتے رہے ہیں ان کے درمیان تعلقات خوشگوار ہیں کملا ہیریس کی اپنی کوئی اولاد نہیں۔ نظریات اور خیالات کے لحاظ سے کملا ہیریس لبرل خیالات کی حامی ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کے معاملے پر وہ کافی سرگرم بھی ہیں۔ امریکا کے سیاسی حلقوںمیں انہیں لبرل بلکہ بعض حلقے انہیں بائیں بازو کے سیاسی نظریات کا حامل سمجھتے ہیں۔