• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ کام یقیناً کامران لاشاری کا ہوگا کہ پنجاب اوراسلام آباد کے بہت سے تخلیقی اور منفرد منصوبے انہی کے خوبصورت وژن کا نتیجہ ہیں اور جس کام کی طرف میں اشارہ کررہا ہوں وہ لاہور میں ’’مقابلہ کھابہ استاد‘‘ اور میلے کا انعقاد ہے جو آج سے شروع ہورہا ہے۔ لفظ ’’کھابہ‘‘ کی تشریح قدرے مشکل ہے، عام فہم لفظوں میں آپ اسے عمدہ کھانا وغیرہ کہہ سکتے ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ ترجمہ لفظ ’’کھابے‘‘ کی سراسر توہین ہے، اس ’’کھابہ میلے‘‘ میں لاہور کے مشہور برانڈ کے کھانوں کے اسٹال ہوںگے۔ جن کے ذائقے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس میلے میں اس کے علاوہ بہت دلچسپ اور رنگارنگ پروگرام ہوں گے، کامران لاشاری شہروں کو خوبصورت بنانے اور ان کے تہذیبی پہلو نمایاں کرنے کی شہرت رکھتے ہیں، یہ پروگرام بظاہر ان کے ماضی کے کاموں سے قدرے مختلف ہے تاہم اس میں بھی تہذیبی عنصر موجود ہے اور مجھے یقین ہے لاہوریئے اس میلے کو مدتوں یاد رکھیں گے، اب اللہ جانے ’’کھابہ استاد‘‘ کا ایوارڈ کسے ملتا ہے، جب اس کا اعلان ہوگا تو میں اپنا فیصلہ اس کے بعد سنائوں گا کہ میں ’’کھابہ استاد‘‘ تو نہیں، کھابے کھانے کا شوقین رہا ہوں اور واضح رہے کھانوں کے شوقین افراد کو ’’کھابہ گیر‘‘ کہا جاتا ہے۔
اب ایک کام اور بھی ہے مگر یہ کام کامران لاشاری کے کرنے کا نہیں، اگرچہ اس کا تعلق بھی ’’کھابے‘‘ ہی سے ہے جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ ’’کھابہ‘‘ کا ترجمہ ’’عمدہ کھانا‘‘ کرنا اس لفظ کی توہین ہے کیونکہ کھابے بہت قسم کے ہیں، کھابے میں وہ بڑی بڑی رقمیں بھی شامل ہیں جو سیاست دان، جرنیل، بیوروکریٹس اور بزنس مین وغیرہ سودوں میں کمیشن یا ’’انوائس‘‘ میں کمی بیشی کی صورت میں ہڑپ کر جاتے ہیں، یہ کھابہ گیر ہر دور میں موجود رہے ہیں ان پر اگر کبھی ہاتھ بھی ڈالا جاتا ہے تو کوئی دوسرا سرکاری کھابہ گیر ان کے آڑے آجاتا ہے، اربوں کھربوں کا کھابہ کھانے والوں میں سے بہت سے کھابہ گیر ان دنوں امریکہ، کینیڈا اور دوبئی وغیرہ میں مقیم ہیں اور اپنی آنےوالی سات نسلوں کے لئے کھابے کا انتظام کر کے خود بھی کھابے کھانے میں مشغول ہیں۔ اسی طرح کے ایک کھابہ گیر کو بڑی مشکل سے بیرون ملک سے واپس پاکستان لایا گیا تھا، شروع شروع میں اخبارات میں اس کے بارے میں خبریں شائع ہوتی رہیں، ٹی وی چینلز پر بہت کچھ آتا رہا، مگر اب اس کے حوالے سے کوئی خبر نہیں، یا تو وہ چند ٹکے حکومت کو واپس کر کے باقی کھابہ ہڑپ کرنے میں مصروف ہوگا اور یا پھر دو تین سال کے لئے جیل میں ہوگا ، رہائی کے بعد وہ ہوگا اور کثیر مقداری کھابہ ہوگا جو اس کی آئندہ نسلوں کے لئے بھی کافی ہوگا۔
ان فقروں میں ’’ہوگا‘‘ ردیف کی شکل اختیار کر گیا ہے جس کے لئے میں تو معذرت خواہ ہوں تاہم پاک ٹی ہائوس کے ایک مشہورکردار استاد ناطق دہلوی نے اپنی ایک غزل کی ردیف کے لئے استاد احسان دانش سے معذرت نہیں کی تھی، استاد ناطق دہلوی کسی زمانے میں مشہور زمانہ اور مقبول ترین انگریزی اخبار ’’پاکستان ٹائمز‘‘ میں نیوز ایڈیٹر ہوتے تھے، بعد میں گردش زمانہ کا شکار ہوگئے اور ٹی ہائوس میں چپ چاپ بیٹھے رہتے اور ان کی شاعری اور ان کی ذہنی صورت حال ان کے اس ’’شعر‘‘ سے ظاہر ہے ؎
ناطق کہ سخن تیرا ہے تریاق تریہا
زنباق تریہا، لگا زنباق تریہا
بہرحال ایک دفعہ انہوں نے ایک غزل کہی جس کا مطلع تھا
میں نہ سمجھا ہوں نہ سمجھوں گا نہ سمجھائو مجھے
بس خدا کے لئے آگے سے سرک جائو، مجھے
یہ غزل موصوف نے احسان دانش کو سنائی تو احسان صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں کہا ’’ارے بھوتنی کے یہ دوسرے مصرعے میں ’’مجھے‘‘ کیسے آگیا؟‘‘ ناطق دہلوی نے جواب دیا ’’استاد بڑے افسوس کی بات ہے ایک عمر ہوگئی آپ کو غزل کہتے ہوئے آپ کو یہ نہیں پتہ چلا کہ اس غزل کی ردیف ’’مجھے‘‘ ہے اور یوں یہ ردیف تو آئے گی!‘‘
آپ کو یقیناً ایسا لگا ہوگا کہ میں موضوع سے ہٹ گیا ہوں، ممکن ہے آپ کا اندازہ صحیح ہو، لیکن اصل بات یہ ہے کہ ملکی خزانوں کو لوٹنے والے آپ کو ادھر ادھر کی باتوں میں الجھا کر جس طرح معاملے کی گھمبیرتا کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح میں جو سنجیدہ سےسنجیدہ مسئلے کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں، آپ کو استاد ناطق کی طرف لے گیا تاکہ آپ کہیں کالم کی بوریت سے تنگ آکر اسے ادھورا ہی نہ چھوڑ دیں، بہرحال میں عرض کررہا تھا یا یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ باہر کا کوئی ادارہ پاکستان کے کھابہ گیروں کے حوالے سے مکمل ریسرچ کے بعد ایک ’’مقابلہ کھابہ استاد‘‘کرائے اس کام کے لئے باہر کے ادارے کی ضرورت مجھے بیان کرنے کی حاجت نہیں کہ آپ ماشاء اللہ (مجھ سے زیادہ) خود ذہین ہیں، یہ مقابلہ 1977ء سے شروع ہونا چاہئے، اس کی وجہ سن کر بہت سے کھابہ گیروں کو افسوس ہوگا کہ وہ 1977ء سے قبل کہاں تھے؟ وجہ یہ کہ مختلف قسم کے باقاعدہ کھابہ گیروں کا آغاز 1977ء سے شروع ہوتا ہے اس سے پہلے کی کرپشن، اسے کرپشن کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے روٹ پرمٹ وغیرہ کے حصول تک محدود تھی۔ ملک غلام محمد ایسے نااہل سیاست دان پر کرپشن کا بہرحال کوئی الزام نہیں تھا فیروز خان نون بھی کرپٹ نہیں تھے بلکہ گوادر اسی سیاست دان کے دور میں پاکستان کا حصہ بنا اور باقی سیاست دانوں قائد ملت لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر اور بہت سے دوسروں کی کرپشن کا تو کوئی سوال ہی نہیں، ان کی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں جنرل ایوب خان بھی کرپٹ نہیں تھے،ان کے بیٹوں کے بارے میں البتہ کچھ کہا نیاں سننے میں آئی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک دورمیں سیاسی طور پر تنازعہ ضرور بنے لیکن ان پر مالی کرپشن کا کوئی الزام سامنے نہیں آیا۔ آپ یہ سن کر سخت حیران اوراس کے ساتھ پریشان بھی ہوں گے کہ بدنام ترین جرنیل، اللہ تعالی اس کی قبر کو اندھیروں سے بھر دے۔ جنرل یحییٰ خان جس نے پاکستان اور پاکستانی فوج کی عزت خاک میں ملا دی بھی مالی طور پر کرپٹ نہیں تھا۔ ہر طرح کی کرپشن کا آغاز جنرل ضیاء الحق کے دور سے شروع ہوا اور قومی خزانے سے سیاست دانوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس نے ہاتھ رنگنا شروع کردیئے۔ جنرل پرویزمشرف نے ’’قانونی‘‘ کرپشن سے اربوں روپے بنائے اور یہ کام اوروں نے بھی کیا۔
سو میری خواہش یہ ہے کہ باہر کا کوئی بہت نیک نام ادارہ 1977ء سے اب تک کی کرپشن کے ’‘’کھابہ استاد‘‘ کا مقابلہ کرائے۔ اگرچہ ان میں سے کسی ایک کو وکٹری اسٹینڈ پر کھڑا کرنا مشکل ہوگا تاہم ان کی ریٹنگ تو کی جاسکتی ہے۔ کامران لاشاری ایک اچھی روایت ڈال رہے ہیں لیکن دوسرے ’’کھابوں‘‘ والوں کو بھی تو اس ’’اعزاز‘‘ سے محروم نہیں رکھنا چاہئے۔
گزشتہ ہفتے قصور کے باذوق ڈی سی او جاوید بخاری صاحب نےجشن بہاراں کے حوالے سے ایک مشاعرہ منعقد کیا جس میں پڑھی گئی غزلوں میں سے محمد شریف انجم صاحب کی ایک پنجابی غزل مجھے بے حد پسند آئی جو مذہبی ریا کاری کے حوالے سے تھی۔ بابا بلھے شاہ کے شہر سے یہی تحفہ ملنا چاہئے تھا۔ میں یہ غزل پنجابی میں ہی درج کررہا ہوں ’’کھابے‘‘ کی طرح اس کا اردو ترجمہ کر کے میں آپ کے منہ کا ذائقہ خراب نہیں کروں گا۔ سو غزل ملاحظہ فرمائیں۔ ؎
حج وی کیتی جاندے او
لہو وی پیتی جاندے او
کھا کے مال یتیماں دا
بھج مسیتی جاندے او
پھٹ دلاں دے سیندے نئیں
ٹوپیاں سیتی جاندے او
چھری نہ پھیرو نفساں تے
دنبے کیتی جاندے او
دل دے پاک پوتر حجرے
بھری پلیتی جاندے او
فرض بھلائی بیٹھے او
نفلاں نیتی جاندے او
دسو نہ کچھ انجم جی
ایہہ کیہہ کیتی جاندے او
تازہ ترین