• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طیبہ سلیم ،کراچی

سمندر کی گہرائیوں میں، جہاں روشنی دھیمی پڑ جاتی ہے اور دنیا خاموش ہو جاتی ہے، "لومی" نام کی ایک جیلی فش رہتی تھی۔ لومی کا جسم شفاف تھا، اور اس کی روشنی نیلے اور سبز رنگ میں جھلملاتی تھی۔ وہ اپنے خوبصورت روشنی کے کھیل کی وجہ سے سمندری جانداروں میں مشہور تھی۔ لیکن لومی کا دل تجسس سے بھرا ہوا تھا۔ وہ اپنی دنیا سے باہر کی حقیقت کو جاننا چاہتی تھی۔

ایک دن لومی نے سمندر کی گہرائی سے نکل کر سطح کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں اس نے کئی چھوٹے جانداروں کو دیکھا۔ وہ پلانکٹن اور چھوٹے جھینگے کھاتی اور اپنی توانائی کو بحال رکھتی۔

راستے میں لومی نے ایک بوڑھی جیلی فش "مارا" سے ملاقات کی۔ اس نے لومی کو بتایا کہ’’ جیلی فش کی زندگی کا انحصار ان کے ماحول پر ہوتا ہے اور کچھ جیلی فش جیسے Turritopsis dohrnii تو اپنی زندگی کو دوبارہ شروع کر سکتی ہیں۔ جیلی فش کے پاس دماغ یا دل تو نہیں ہوتا، لیکن ہم قدرت کی سب سے قدیم مخلوقات میں سے ہیں۔ سمندر کی خوبصورتی اور توازن کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔"

لومی کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس کے ٹینٹیکلز میں زہر ہے جو شکار کو مفلوج کر سکتا ہے۔ اس نے پوچھا: "کیا یہ ہماری حفاظت کے لیے ہے؟"

مارا نے جواب دیا,"ہاں، لیکن یاد رکھنا، اس کا صحیح استعمال ضروری ہے۔ ہم شکار کرتے ہیں تاکہ زندہ رہ سکیں، لیکن بے جا نقصان قدرت کے نظام کو خراب کر سکتا ہے۔ لومی نے اپنا سفر جاری رکھا اور سطح تک پہنچ گئی۔ 

وہاں اس نے انسانوں کی کشتیوں اور ان کی حیران کن دنیا کو دیکھا۔ لیکن اچانک ایک جال نے اسے پکڑ لیا۔ وہ جال ایک مچھیرے کا تھا۔ لومی نے اپنی روشنی کو بھرپور طاقت سے جگمگانا شروع کیا۔ روشنی اتنی شدید تھی کہ مچھیرا ڈر کر جال چھوڑ بیٹھا۔ 

لومی آزاد ہو گئی اور تیزی سے گہرے سمندر کی طرف لوٹ گی۔ اس تجربے کے بعد، لومی نے اپنی دنیا کی خوبصورتی اور اہمیت کو سمجھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی سمندر کے توازن کو برقرار رکھنے میں لگائے گی اور دوسروں کو بھی یہ سکھائے گی کہ قدرت کا ہر حصہ اہم ہے۔ تجسس اور علم ہمیں نئی دنیا کی کھوج میں مدد دیتے ہیں، لیکن قدرتی توازن کو برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔