اسلام آباد (ایوب ناصر، ایجنسیاں) اپوزیشن گرینڈ الائنس کے زیر اہتمام آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے عنوان سے قومی کانفرنس کا پہلا دن اختتام پذیر ہوگیا۔
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ہوٹل انتظامیہ کو دھمکیاں اور دو روزہ کانفرنس کے دوسرے دن کی اجازت منسوخ کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے۔
تاہم فیصلہ کیا ہے کہ آج (جمعرات) کو یہ کانفرنس ضرور ہوگی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کانفرنس آج ہر صورت ہوگی، دیکھتے ہیں حکومت کیا کرتی ہے، غفور حیدری آج آئینگے، خط لکھنا PTI کی سوچ مجھے اتفاق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سڑکوں پر احتجاج کرنا چاہتی ہے تو اس کا حق ہے ہمارا کوئی تعلق نہیں، آئین کا لفظ گالی اور حکومت کیلئے خوف کا باعث بن چکا ہے۔
پی ٹی آئی کے عمر ایوب نے کہا کہ ملک میں اس وقت آئین ہے نہ قانون، حکومت نے کانفرنس میں رکاوٹ ڈالنے کی حرکت کی تو میں بطور اپوزیشن لیڈر چیف جسٹس آف پاکستان کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عوام کو حقِ حکمرانی میں شراکت دار نہیں بنایا گیا، اپوزیشن قیادت اس بات پر متفق ہے کہ آئین پر عملدرآمد ناگزیر ہے ۔
اسد قیصر نے کہا معیشت کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، کانفرنس میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) شریک نہیں ہوئی، جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ گرینڈ الائنس کے حوالے سے ہمارے تحفظات دور نہیں کیے گئے، پندرہ دن گزرنے کے باوجود جواب نہیں دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن گرینڈ الائنس نے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کانفرنس میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ جمعرات کو لیجنڈ ہوٹل میں ہر صورت کانفرنس منعقد کی جائیگی۔
اپوزیشن گرینڈ الائنس کے رہنما محمود خان اچکزئی، شاہد خاقان عباسی، عمر ایوب، اسد قیصر اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ کے حکمران خود ہی حالات خراب کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، پچھلے ایک ہفتے سے جگہ کیلئے کوشش کر رہے تھے، پہلی جگہ کینسل ہوئی پھر دوسری جگہ کینسل کی گئی، کہا گیا کہ کرکٹ ٹیم نے گزرنا ہے، صحیح بات ہے کرکٹ کیلئے پورا ملک بند کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہ کہ پھر تیسری جگہ پر انتظامیہ آگئی اور کہا کہ اگر کانفرنس ہوئی تو مارکی سیل کر دینگے، آج ہم نے کانفرنس کی، جس میں صحافی ، وکلا اور دیگر سیاستدان آئے، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر بات ہوئی اور کوئی اشتعال کی بات نہیں کی گئی۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ حکومت ایک کانفرنس سے گھبراتی ہے، یہ سڑک پر کانفرنس نہیں تھی، بند جگہ پر تھی اور حکومت اس سے بھی گھبرا گئی۔ ہوٹل انتظامیہ کو کچھ لوگوں نے آکر دھمکایا کہ کانفرنس کی صورت میں ہوٹل بند کردیا جائیگا جس پر ہم نے اُن سے تحریری طور پر لکھ کر دینے کی استدعا کی۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ کانفرنس ضرور ہوگی، یہ ہمارا حق ہے، یہ حکومت کی کمزوری کی دلیل ہے، بیس پچیس ارب روپیہ لگا کر جو اشتہارات دئیے گئے وہ ایک کانفرنس سے خوفزدہ ہے، خود سوچ لیں کہ ملک کی حالت کیا ہے، آج بد نصیبی ہے کہ جمہوریت کی بات کرنے والے جمہوریت سے خائف ہیں۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ پاکستان میں آئین کی بقا کیلئے اور مستقبل کیلئے وکلا اور سیاستدانوں نے کانفرنس میں بات کی، یہاں سب جمہوری لوگ ہیں، پاکستان کو مضبوط کرنے کیلئے ہم باتیں کر رہے ہیں۔
ہوٹل انتظامیہ نے کہا کہ ہم پر پریشر ہے، ہم نے پوچھا کہ کس کا پریشر ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ خود سمجھدار ہیں جس پر ہم نے ہوٹل انتظامیہ کو تمام نقصانات کا ازالہ کرنے کی یقین دھانی کرائی ہے۔
عمر ایوب نے کہا کہ یہ جو انسٹالڈ رجیم ہے، ہم بتانا چاہتے ہیں کہ کل اگر انہوں نے رکاوٹ ڈالنے کی حرکت کی تو میں بطور اپوزیشن لیڈر چیف جسٹس آف پاکستان کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔ مجھ پر اعتراض اٹھایا گیا کہ عمر ایوب بلوچستان پر بات نہ کریں۔