کراچی( افضل ندیم ڈوگر) ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ میں طوالت کے خدشات کے پیش نظر دنیا کی 40بڑی ایئر لائنز نے مشرق وسطی کیلئے اپنی سیکڑوں پروازوں کی منسوخی میں کئی کئی ہفتے تک کی وسعت دے دی ہے۔ جنگ کے اوائل دنوں میں مشرق وسطی کی یومیہ 4500 پروازیں منسوخ ہوتی رہی ہیں مگر بعد ازاں مختلف خصوصی پروازوں کے باعث یہ منسوخی یومیہ 3 ہزار تک ہے۔ مختلف ایئر لائنز کے ہنگامی اور خصوصی فلائٹ آپریشن جاری ہونے کے باوجود یومیہ 3000پروازیں منسوخ ہورہی ہیں۔ جنگ کے 16 دنوں میں اب تک 88 ہزار پروازیں منسوخ کی جاچکی ہیں۔ ایئر لائن ذرائع کے مطابق جنگ زدہ شہروں سے مسافر لے جانے والی پروازوں کو واپسی پر بہت کم لوڈ مل رہا ہے۔ 26 دن بعد بھی عالمی ہوائی سفر بدستور متاثر ہے۔ سفری منصوبہ بندی کے باوجود ہزاروں مسافر پرواز کرنے سے قاصر ہیں۔ ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ کے بڑے مراکز دبئی، دوحہ، بحرین، کویت، ابوظہبی شدید متاثر ہیں۔ ایران کویت بحرین بغداد لبنان وغیرہ سے پروازیں مکمل طور پر بند ہیں۔ بحرین کویت سعودی شہروں دمام قیصومہ سے پروازیں جزوہ بحال رکھ رہے ہیں۔ ایئر فرانس نے تل ابیب، بیروت کی پروازیں 4 اپریل ، دبئی ریاض کی پروازیں 31 مارچ تک منسوخ کی ہیں۔ فلائی دبئی، ایئر عربیہ، سعودی ایئر، گلف ایئر، جذیرہ، کویت ایئر، عراق ایئر اور کئی ایرانی ایئر لائن پہلے ہی اپریشن بند یا محدود پروازیں چلا رہی ہیں۔ گلف کی 5 بڑی ایئر لائن ایئر عربیہ ایمریٹس اتحاد فلائی دبئی اور قطر 26دنوں میں 34 ہزار پروازیں منسوخ کر چکی ہیں۔ کے ایل ایم نے ریاض، دمام، دبئی کی پروازیں 17 مئی تک اور تل ابیب کیلئے 11 اپریل تک معطل کردی ہیں۔ کیتھے پیسیفک نے دبئی ریاض کی پروازیں 31 مئی تک منسوخ کی ہیں۔