اسلام آباد ( طاہر خلیل ) وفاقی کابینہ میں نئے وزرا کی شمولیت کا معاملہ گزشتہ 4 ماہ سے زیر عمل تھا، وزرا کی شمولیت کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف نے جو معیار مقرر کئے ان میں ذاتی صلاحیت ،پارلیمانی ریکارڈ ،پارٹی لیڈر شپ کے ساتھ وابستگی اور کمٹمنٹ نمایاں پہلو تھے ۔
علی پرویز ملک ،شیزہ فاطمہ ترقی ،توقیر شاہ اعلیٰ کاکردگی کابینہ میں شمولیت کی بنیاد بلال کیانی نے اصلاحاتی ایجنڈے کو بڑھایا ، سردار یوسف میاں نواز شریف کے قابل اعتماد ساتھی ہیں۔
پرویز خٹک نے عمران خان کی ریاست مخالف پالیسیوں کو چیلنج کیا ،علی پرویز ملک اور شیزا فاطمہ جو پہلے وزیر مملکت تھے ، انہیں ترقی دے کر وفاقی وزیر بنا دیا گیا ۔
علی پرویز ملک کے والد مرحوم پرویز ملک بھی وفاقی وزیر تھے ، ان کی والدہ شائستہ پرویز ملک بہترین پارلیمانی ریکارڈ کی حامل خاتون ایم این اے ہیں ،شیزہ فاطمہ خواجہ ،خواجہ آصف کی قریبی عزیزہ ہیں اور آئی ٹی کی وزیر مملکت کی حیثیت سے انہوں نے پاکستان کو ڈیجیٹل ایچ میں لے جانے کیلئے قابل قدر کام کیااور نئے قوانین نافذ کئے۔
جنید انوار چوہدری پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پختہ کار رہنما اور سابق وفاقی وزیر رہ چکے ، عبدالرحمٰن کا نجو بھی وزیر رہ چکے تھے جبکہ بلال اظہر کیانی پنجاب کے مشیر صحت میجر جنرل (ر) اظہر کیانی کے صاحبزادے اور موجودہ ایوان کے نہایت فعال رہنما ہیں ۔
قومی اسمبلی میں اصلاحات کیلئے سپیکر کا بھر پور ساتھ دیا ، پرویز خٹک خیبر پختونخواہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور عمران خان کے ساتھی رہ چکے ہیں ،پرویز خٹک اور ڈاکٹر توقیر شاہ وفاقی وزراکے مساوی مشیر بنائے گئے ۔