اسلام آباد ( طاہر خلیل ) قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پہلا پارلیمانی سال مکمل ہونے پر قومی اسمبلی کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے،حکومت، اپوزیشن کو برابر وقت ملا،13سیشنز،130دن کارروائی، 26 قراردادیں منظور،69توجہ دلائو نوٹس اور 4تحاریک پر بحث کی گئی، 26ویں آئینی ترمیم، ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ،الیکٹرانک جرائم کی روک تھام اہم قانون سازی میں شامل، کارکردگی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں قومی اسمبلی نے شاندار قانون سازی اور پارلیمانی کامیابیاں حاصل کیں16ویں قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال ایک ارب روپے سے زائد کی عوامی خزانے کی بچت اور 51 بلز کی کامیاب منظوری کے ساتھ مکمل ہوا، جن میں 26 ویں آئینی ترمیم بھی شامل ہے، جس میں 40 حکومتی بلز اور 11 نجی ارکان کے بلز کی منظوری شامل ہے، جبکہ 36 حکومتی بلز اور 6 نجی ارکان کے بلز قانون بن گئے،قومی اسمبلی کے 13 سیشنز منعقد ہوئے اور پارلیمانی کارروائی کے 130 دن مکمل ہوئے ، 26 قراردادیں منظور کی گئیں اور 1059 نشاندار سوالات اور 264 غیر نشاندار والے سوالات کے جوابات وزارتوں کی جانب سے دیے گئے،69 توجہ دلائو نوٹس اور 4 موشنز برائے قاعدہ 259 پر بھی ایوان میں بحث کی گئی، ایک اہم سنگ میل 26 ویں آئینی ترمیم کے بل کی منظوری تھی، جو عدالتی اصلاحات اور پارلیمانی بالادستی کو مستحکم کرنے کے لیے تھی، دیگر اہم قانون سازی میں "ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025" شامل ہے، جو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، اور "الیکٹرانک جرائم کی روک تھام (ترمیمی) ایکٹ 2025" شامل ہے، جو سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل جرائم کے قوانین کو جدید بنانے کے لیے ہے،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی "رائٹ سائزنگ" کا عمل تین مراحل میں جاری ہے۔ ابھی تک، پہلے دو مراحل کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں گریڈ 1 سے 19 تک کی 220 غیر ضروری آسامیوں کا خاتمہ کیا گیا ہے، اس اصلاحات سے عوامی اخراجات میں 563 ملین روپے سالانہ کی کمی آئی ہے، پارلیمنٹ کے پارلیمانی فورمز چاروں صوبائی اسمبلیوں، آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی اور گلگت بلتستان اسمبلی میں قائم کیے گئے،18ویں سپیکرز کانفرنس کا کامیاب انعقاد دسمبر 2024 میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدکی گئی ۔