لاہور (نامہ نگار خصوصی) پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ کنیکٹیوٹی کے چیئرمین میاں خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا مسئلہ نہیں، بھارت بھی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جیت کے بعد عالمی سطح پر بدلتے جیو پولیٹکل حقائق پاک بھارت تعلقات میں بہتری کا موقع فراہم کر سکتے ہیں جنگ آزادی کے رہنما سبھاش چندر بوس کے نواسےمسٹر آشیش رے نے کہا ہے کہ پاکستان ، بھارت دفاعی اخراجات تعلیم ،صحت پر خرچ کریں، وہ لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ کنیکٹیوٹی کے زیر اہتمام’ پاکستان تعلقات کے مستقبل‘ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے پاس بڑی فوجی قوت کے ساتھ بڑے جوہری ذخائر اور جوابی حملے کی صلاحیت موجود ہے ایسےمیں جنگ کا خیال بھی پاگل پن ہو گا۔ خورشید قصوری نے بلوچستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کلبھوشن یادو کی گرفتاری کا حوالہ دیا اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والے حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں موجود مضبوط تاثر کی نشاندہی کی۔ انہوں نے اس حوالے سے بھارتی رہنمائوں، بشمول وزیراعظم نریندر مودوی، مسٹر امیت شاہ، راجناتھ سنگھ اور اجیت ڈوول کے بیانات کا حوالہ دیا۔ سابق وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ یہ ایک ایسا کھیل ہے جو دونوں ملک کھیل سکتے ہیں اور ایسے اقدامات اور جوابی اقدامات کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس میں کوئی بھی فاتح نہیں ہو گا۔ تقریب میں نامور میڈیا شخصیات، ریٹائرڈ سول اور فوجی افسران، یونیورسٹیوں کے پروفیسر ز اور وائس چانسلرز کے علاوہ اور سول سوسائٹی کے ممتاز افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی جنگ آزادی کے رہنما سبھاش چندر بوس کے نواسے، ممتاز صحافی، مصنف، تجزیہ کار مسٹر آشیش رے تھے۔خورشید قصوری نے کہا کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی غیر متوقع اور مثبت پیش رفت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جنگوں کے بعد بھی پاکستان اور بھارت نے جلد ہی مذاکرات کی میز پر واپسی کی اور امن عمل کو دوبارہ شروع کیا۔