اسلام آ باد ( رانا غلام قادر )پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت حج کی بکنگ کرانے والے ہزاروں عازمین حج کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا ہے کیونکہ سعودی حکومت نے پرائیوٹ حج ٹور آپریٹرز کی طرف سے منی کیلئے چارجز بروقت جمع نہ کرانے پر 77ہزار عازمین کی بکنگ سے انکار کردیا۔ پرائیویٹ سکیم کے تحت صرف 12500عازمین کی ڈیڈ لائن یعنی 14 فروری تک بکنگ کرائی باقی 77ہزار عازمین حج کی بکنگ نہ ہوسکی جس کی وجہ سے یہ حج کوٹہ ضائع ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی احکامات کے تقاضوں کی بر وقت تکمیل نہ کئے جانے کے معاملہ کو نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کی حکم دیدیا ہے۔سیکرٹری کا بینہ ڈویژن کا کامران علی افضل کو انکوائری کمیٹی کا چیئر مین مقرر کیا گیا ہے۔چیئر مین ایف بی آر اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کو بھی انکوائری کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔انکوائری کمیٹی کی تین نکاتی ٹی او آر جاری کی گئی ہیں۔کمیٹی یہ انکوائری کرے گی کہ کن وجوہات کی وجہ سے وزارت مذہبی امور سعودی حکومت کی نظر ثانی شدہ حج پالیسی2025پر نجی حج آپریٹرز کے ذریعے عمل نہیں کرا سکی ؟ انکوائری کمیٹی یہ تحقیقات کرے گی سعودی حکو مت نے پرائیوٹ حج آپریٹرز کیلئے پیشگی تقاضے پورے کرنے کیلئے جو ڈیڈ لائن مقرر کی تھی انہیں پورا کرنے کیلئے وزارت مذہبی امو ر نے کیا کوششیں کیں؟تیسرا ذمہ داری کا تعین کیا جا ئے کہ ہزاروں پا کستانیوں کو حج 2025سے محروم کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟کمیٹی تین دن میں اپنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔