• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایشیا میں عدم توازن: امریکی پروفیسر کا دعویٰ پاکستانی سفارتکاروں نے مسترد کردیا

اسلام آباد(صالح ظافر) ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف کالم نگار اسٹیفن والٹ کی جانب سے ایشیا کو خطرناک حد تک غیر متوازن قرار دینے اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو اس کا سبب ٹھہرانے کے دعوے کو پاکستانی سفارت کاروں، ماہرینِ بین الاقوامی تعلقات اور رائے سازوں نے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے دنیا کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوششوں میں معمول سے کہیں زیادہ اقدامات کیے، اور اسٹیفن والٹ کی تحریر جھوٹے خوف اور بے بنیاد خدشات کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔سابق وفاقی وزیر اور چین و علاقائی اُمور کے ماہر سمجھے جانے والے آزاد سینیٹر مشاہد حسین سید، سابق سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر، اور ساؤتھ ایشین اسٹریٹیجک اسٹیبلٹی انسٹیٹیوٹ (SASSI) یونیورسٹی کی صدر ڈاکٹر ماریا سلطان نے اس مضمون پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ چین کسی بالادستی کے عزائم نہیں رکھتا بلکہ پُرامن تعاون کا خواہاں ہے۔یہ مضمون واشنگٹن سے شائع ہونے والے معتبر جریدے "Foreign Policy" میں شائع ہوا، جس نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔پروفیسر اسٹیفن والٹ نے لکھا کہ امریکہ ایشیا میں اپنے اتحادیوں کی تعداد بڑھا رہا ہے تاکہ چین کو خطے میں بالادستی حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے AUKUS معاہدہ، کیمپ ڈیوڈ سکیورٹی تعاون، فلپائن کے ساتھ عسکری روابط میں گہرائی، بھارت کے ساتھ سیکورٹی تعاون اور Quad گروپ کے استحکام کا ذکر کیا۔اسٹیفن والٹ کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے ایشیائی اتحادیوں کے پاس اپنے اتحاد کو جاری رکھنے کی مضبوط وجوہات ہیں، مگر چین نے بھی ان حالات کے مطابق خود کو ڈھالا ہے اور کئی شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے DeepSeek کی AI ٹیکنالوجی، چپ سازی، اور برقی گاڑیوں میں چین کی برتری کا ذکر کیا۔انہوں نے جنوبی کوریا کی سیاسی بےچینی، آبادیاتی مسائل، اور علاقائی سیاست کے اتار چڑھاؤ کو بھی امریکی حکمت عملی کے لیے چیلنج قرار دیا۔والٹ کے مطابق ٹرمپ چین کو ایک حریف سمجھتے ہیں، لیکن وہ کسی "ڈیل" کے خواہاں بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ انہیں اپنے آپ کو ایک ماہر مذاکرات کار کے طور پر پیش کرنے کا شوق ہے۔ انہوں نے TSMC جیسی کمپنی کو امریکہ میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا ہے۔ تاہم، امریکہ کی ایشیا کے لیے کوئی مؤثر اقتصادی حکمت عملی نہیں رہی، اور نئی ٹیرف پالیسیوں نے جاپان اور جنوبی کوریا کو ناراض کیا ہے۔اس کے برعکس چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے حالیہ ملاقات میں جاپانی اور جنوبی کوریائی حکام کو بتایا کہ "قریبی ہمسائے، دور کے رشتہ داروں سے بہتر ہوتے ہیں"۔پروفیسر والٹ نے کہا کہ اگر امریکہ خود آمرانہ نظام کی طرف بڑھتا ہے تو اس کی ایشیائی اتحادیوں کے ساتھ جمہوریت کی بنیاد پر یکجہتی کا جواز بھی ختم ہو جائے گا۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیفن والٹ اگرچہ ایک قابلِ احترام مصنف ہیں، لیکن ان کا مضمون "غلط مفروضات اور گمراہ کن تجزیے" پر مبنی ہے۔ انہوں نے تین بڑی غلطیوں کی نشاندہی کی:چین کو ایک توسیع پسند قوت قرار دینا تاریخی طور پر غلط ہے۔سابق سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے "دی نیوز" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ دنیا کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اسٹیفن والٹ کے حوالہ جات پرانے مفروضات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے بارے میں والٹ کی تفہیم ناکافی ہے، اور چین پُرامن تعاون کا خواہاں ہے۔ڈاکٹر ماریا سلطان نے والٹ کے جمہوریت سے متعلق بنیادی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اب "ہم جنس پرستی" اور "خواتین کے حقوق" جیسے نعروں تک محدود کر دی گئی ہے۔

اہم خبریں سے مزید