یونیسف کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد 18 مارچ سے شروع ہونے والے تازہ حملوں میں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 100 فلسطینی بچے جاں بحق اور زخمی ہو رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کے سربراہ فلپ لازارینی نے اس صورتِ حال کو خوفناک اور انسانیت پر داغ قرار دے دیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بچوں کا قتل بلاجواز ہے، فوری دوبارہ جنگ بندی کی جائے تاکہ بچوں کی زندگیوں کو تحفظ مل سکے۔
فلپ لازارینی کا کہنا ہے کہ یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق جب سے حملے دوبارہ شروع ہوئے ہیں، غزہ میں روزانہ تقریباً 100 بچے جاں بحق یا زخمی ہو رہے ہیں، نوجوانوں کی زندگیوں کو یہ جنگ کم کر رہی ہے۔
انروا کے سربراہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیڑھ سال قبل شروع ہونے والے اس جنگ میں اب تک تقریباً 15 ہزار بچے مارے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سال کے آغاز میں ہونے والی عارضی جنگ بندی نے غزہ کے بچوں کو ایک موقع فراہم کیا تھا کہ وہ اپنے بچپن کی چند خوبصورت یادیں محفوظ کر سکیں، انہیں زندگی کی ایک کرن دکھائی دی تھی لیکن جنگ بندی کی خلاف ورزی نے ان سے اس موقع کو ایک بار پھر چھین لیا ہے۔