غزہ، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) غزہ آخری سانسیں لینے لگا، مساجد، پناہ گاہوں اور عارضی خیموں پر اسرائیلی بمباری سے مزید 44 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے
جنوبی لبنان پر بمباری میں دو افراد شہید ہوگئے ،غزہ میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ 20روزکے دوران اسرائیلی حملوں میں 500بچے شہید ہوچکے ہیں ،اسرائیلی بمباری میں پورے کے پورے خاندان کو نشانہ بنایا جانے لگا، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ سے چند منٹوں کے دوران 10 میزائل داغے گئے جس میں سے بیشتر کو فضا میں روک لیا گیا۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق عسقلان اور اشدودمیں میزائل لگنے سے گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور 3 افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ القسام بریگیڈز کے عسقلان اور اشدود پر میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے، حماس نے غزہ میں جاری نسل کشی کا ذمہ داری ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ پرعائد کردی ہے، حماس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیلی قتل عام کو سیاسی وعسکری حمایت فراہم کررہی ہے اس لئے وہ اس قتل عام کی براہ راست ذمہ دارہے۔
تفصیلات کے مطابق فلسطینی محکمہ شہری دفاع کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری میں مزید 44 فلسطینی شہید ہوگئے۔ سب سے زیادہ اموات خان یونس میں ہوئیں جہاں 21فلسطینی شہید ہوگئے، غزہ کے میڈیا آفس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج بچوں کا منظم قتل عام کررہی ہے، گزشتہ 20روز میں 500کے قریب بچوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق مطابق غزہ میں ہمیں پورے کے پورے خاندان کو ختم کیا جارہا ہے، بچپن تباہ شدہ مکانات کے ملبے دب کر رہ گیا ہے اور ایسے جرائم کی نئی سیاہ تاریخ رقم ہوئی ہے جسے کبھی نہیں بھلایا جاسکے گا۔
مذکورہ اعدادوشمار قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ میں فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر اور منظم پالیسی کے تحت قتل کئے جانے کے شواہد کیلئے کافی ہیں۔ ان کے مطابق اس دوران 1350افراد اسرائیلی بمباری میں شہید اور 3 ہزار 184افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو دورہ ہنگری مکمل کرنے کے بعد امریکا روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
لبنان کی وزارت صحت کے اعلان کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقے زبقین کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا ہے جس میں دو افراد شہید ہوئے۔ اس سے قبل المیادین ٹی وی چینل نے جنوبی لبنان میں شہر صیدا میں ایک رہائشی عمارت پر صیہونی حملے کی خبر دی تھی جس میں کئی عام شہری شہید و زخمی ہو گئے تھے۔
ستائیس نومبر سن دو ہزار چوبیس کو فائربندی کے ہونے والے سمجھوتے کے بعد سے اسرائیل مختلف بہانوں منجملہ حزب اللہ لبنان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بہانے سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ادھر مراکش کے دارالحکومت رباط میں دسیوں ہزار افراد نے غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے خلاف مظاہرہ کیا۔
رباط میں کئی مہینوں کے دوران فلسطین کے حق میں یہ سب سے بڑا مظاہرہ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔
مظاہرین نے جلوس کی شکل میں محمد پنجم ایونیو پر پارلیمنٹ کے قریب مارچ کیا۔ انہوں نے جھنڈے لہرائے، جن میں حماس کے شہید رہنما یحییٰ سنوار کی تصویر والا جھنڈا بھی شامل تھا۔
بچوں نے فلسطینی علاقے میں ڈیڑھ سال کی جنگ کے دوران شہید ہونے والے ہزاروں نوجوانوں کی علامت کے طور پر سرخ رنگ سے داغے ہوئے سفید کفن اٹھا رکھے تھے۔