واشنگٹن( نیوز ڈیسک) یوکرینی صدر زیلنسکی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئے جہاں صدر ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا۔
دورانِ ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے روسی صدر بھی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں جنگ سب کے لیے بہتر انداز میں ختم ہو۔
یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ کے سفارتی راستے کی حمایت کرتے ہیں، ہمیں جنگ کے خاتمے کی حمایت کرنی چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر فخریہ انداز میں یہ بھی کہا کہ میں نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان سیز فائر کروانے میں کردار ادا کیا تھا، میں یہ نہیں چاہتا کہ معاملہ سال دو سال کے لیے حل ہو اور پھر لڑائی شروع ہوجائے، یوکرین میں جنگ روکنے کا اچھا موقع ہے، یوکرین کے لوگوں کی خوشحالی چاہتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ معاملات ٹھیک رہے تو یوکرین اور روسی صدور کے ساتھ سہ فریقی میٹنگ کریں گے، ہم روس اور یوکرین کے درمیان دیرپا امن قائم کریں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ روس یوکرین کے درمیان جنگ ختم ہوگی، کب ہوگی یہ نہیں بتا سکتا، چاہتا ہوں دنیا میں امن ہو، سب تجارت کریں۔
ولودومیر زیلنسکی نے پوچھا کہ ہم کیسےمحفوظ رہ سکتے ہیں، ہمیں اپنی سیکیورٹی کی ضمانت چاہیے۔
جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امن قائم کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے روس، یوکرین اور باقی سب کے ساتھ مل کر کام کریں گے، میں یوکرین اور یورپی رہنماؤں سے ملاقات میں سیکیورٹی ضمانتوں پر بات کروں گا، ملاقاتوں کے بعد روسی صدر سے بھی فون پر بات کروں گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ چاہتے ہیں کہ جنگ رُک جائے لیکن جنگ بندی کبھی کبھی کسی ایک فریق کے لیے اسٹریٹجک نقصان بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اس دوران دوسرا فریق دوبارہ منظم ہو کر اپنی فوجی طاقت بحال کرلیتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اس لیے میں اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں کہ کیوں بعض ممالک جنگ بندی نہیں چاہتے کیوں کہ وہ سوچتے ہیں کہ مخالف دوبارہ طاقتور ہو کر پلٹ آئے گا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جب ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے امریکی امن دستے یوکرین بھیجے گا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم یوکرین کے ساتھ کام کریں گے، ہم سب کے ساتھ کام کریں گے تاکہ یہ امن طویل المدتی اور دیرپا ہو۔
اُنہوں نے ولودیمیر زیلنسکی کے لباس کی تعریف کرتے ہوئے میڈیا کے ذریعے یوکرینی عوام کے نام خیرسگالی کا پیغام بھی دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی کہ اگر میں اُس وقت صدر ہوتا تو کبھی روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہی نہیں ہونے دیتا۔
انہوں نے سابق صدر جوبائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے روس اور یوکرین جنگ کا ذمہ دار بھی قرار دیا۔