پشاور(ارشدعزیز ملک ) صوبے کے جنگلات اجاڑنے کے بعد لکڑی اور لینڈ مافیا نے اب ہری پور کے مکنیال جنگل کا رخ کر لیا ہے، جو اسلام آباد کے قریب واقع اور مارگلہ ہلز کے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہے۔
اس علاقے کو بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیوں کے لئے کھولنے کے لئے بااثر افراد سرگرم ہوگئے ہیں جہاں درختوں کی اندھا دھند کٹائی، کان کنی اور تجارتی چرائی جیسے عوامل خطے کی قیمتی سبز پٹی کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ۔
سپریم کورٹ پہلے ہی مکنیال سے متصل مارگلہ ہلز میں تجارتی سرگرمیوں پر پابندی لگا چکی ہے لیکن اس کے باوجود مافیا اب مکنیال جنگل میں ہوٹلوں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور کمرشل عمارتوں کی تعمیر کے منصوبوں پر سرگرم ہے۔
کمرشل سرگرمیاں ہری پور اور اسلام آباد کے ماحولیاتی نظام کو تباہ کر دیں گی، اسی تناظر میں محکمہ جنگلات و وائلڈ لائف خیبرپختونخوانے کے پی حکومت کو تجویز دی ہے کہ ہری پور کے خانپور اور مکنیال جنگل سب ڈویژنز کی ہزاروں ایکڑ درختوں اور گھاس سے ڈھکی زمین کو محفوظ گزرا جنگلات قرار دیا جائے۔
یہ سفارشات ایک جامع سروئےکے بعد سامنے آئی ہیں، جس میں محکمہ جنگلات کی مرکزی اور ذیلی کمیٹیوں نے 78 دیہات (66 ہری پور اور 12 ایبٹ آباد میں) کے7060خسروں کی نشاندہی کی ہے، جن میں درخت اورجنگل موجود ہے ۔
اس منصوبے کے تحت 1602ایکڑ محفوظ بنجر زمینیں، جو موجودہ ورکنگ پلانز سے باہر ہیں، اور 336 ایکڑ اراضی، جو پہلے سے گزرا جنگلات میں شامل ہےجی آئی ایس میپنگ اور زمینی تصدیق کے ذریعے متعین کی گئی ہیں۔ بڑے مقامات میں خانپور سب ڈویژن، مکنیال سب ڈویژن اور مارگلہ ہلز کی ڈھلوانیں شامل ہیں۔
سابق بیوروکریٹ شکیل درانی نے جنگ کو بتایا کہ انہوں نے جی ڈی اے بورڈ کے ممبر کے طور پر مکنیال میں ہوٹل ہاؤسنگ سوسائٹیز اور پلے لینڈ بنانے کی شدید مخالفت کی تھی جس کے بعد مکنیال فارسٹ کو خان پور تحصیل میونسپل کمیٹی کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی جانب سے کمرشل تجاوزات ختم ہوچکی ہیں جن میں ہوٹل وغیر ہ بھی شامل ہیں لیکن کے پی کی سائیڈ سے فارم ہاؤسز کی تعمیرات جاری ہیں ۔