• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیرات کے عالمی دن سے ترجمے کے بین الاقوامی یوم تک

لاطینی زبان میں ستمبر کے معنی ’’سات‘‘ ہیں۔ رومن کیلنڈر کے ساتویں مہینے، ستمبر کو گریگورین کیلنڈر میں جنوری اور فروری شامل کرنے کی وجہ سے 30دنوں کے ساتھ نویں مہینے کا درجہ دیا گیا۔ یہ مہینہ موسمی تبدیلیوں کا نقیب ہے۔ اس مہینے شمالی نصف کُرّے پر گرمی اپنی شدّت کم کر کے خزاں کا استقبال کرتی اور سبز پتّے رنگ بدل کر درختوں سے جُدا ہونے لگتے ہیں، جب کہ جنوبی نصف کُرّے پر سردی کا زور ٹوٹ چُکا ہوتا ہے اور خوش گوار موسم میں نئی نئی کونپلیں سَر اٹھائے دُنیا کو حیرت سے تک رہی ہوتی ہیں۔ 

دوسری جانب ماہِ ستمبر میں رُونما ہونے والے اہم واقعات پر غور کریں، تو گُمان ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان کا واحد دشمن خود حضرتِ انسان ہی ہے کہ جس کی تاریخ جنگ و جدل کی ہول ناکیوں اور تباہی سے پُر ہے۔ مثال کے طور پر یکم ستمبر 1939ء کو ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کر کے دوسری عالمی جنگ کی ابتدا کی، تو 1985ء میں یہی تاریخ تھی کہ جب امریکا کی جانب کروفر سے روانہ ہوئے عظیم الشّان برطانوی بحری جہاز، ’’ٹائٹینک‘‘ کے اپنے پہلے ہی سفر میں برفانی تودے سے ٹکرا کر غرق ہوجانے کے 73سال بعد اس کی باقیات کا سراغ ملا۔ 1969ء میں اسی دن لیبیا کے 27سالہ منفرد رہنما، معمّر قذافی نے فوجی بغاوت کر کے بادشاہِ وقت کا تختہ اُلٹا۔

 2ستمبر 1945ء کو اُس وقت کے امریکی صدر، ہیری ٹرومین نے چھے سال میں 70سے 85ملین جانوں کا نذرانہ وصول کرنے والی دوسری عالمی جنگ کی فتح کا باضابطہ اعلان ’’وکٹری اوور جاپان ڈے‘‘ (V-J Day) کے نام سے کیا اور 4ستمبر 1998ء کو دُنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن، ’’گُوگل‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ 6ستمبر 1915ء میں بننے والے پہلے ٹینک نے جنگ کے انداز بدل دیے اور اسی دن 1965ء میں شروع ہونے والی پاک، بھارت جنگ کے دوران پاک فوج نے کمال جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی افواج کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ 

یہ لڑائی 22ستمبر کو اقوامِ متّحدہ کی ثالثی میں دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی پر منتج ہوئی۔ 8ستمبر 2022ء کو 96سالہ برطانوی ملکہ، ایلزبتھ دوم 70سال تک شاہی تخت پر براجمان رہنے کے بعد راہیٔ مُلکِ عدم ہوئیں، تو11ستمبر 1948ء بانیٔ پاکستان، قائدِاعظم محمّد علی جناحؒ کا یومِ وفات ہے اور یہی دن ’’نائن الیون‘‘ کے نام سے زبان زدِ عام ہے کہ2001ء میں شدّت پسند تنظیم، ’’القاعدہ‘‘ نے چار ہوائی جہاز ہائی جیک کر کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سمیت امریکا کی دیگر اہم عمارات سے ٹکرا دیے، جس کے نتیجے میں 3ہزار سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 

اس واقعے نے دُنیا پر اَن مٹ نقوش چھوڑے۔ 19ستمبر 1893ء کو نیوزی لینڈ خواتین کے ووٹ کے حق کو تسلیم کرنے والا پہلا مُلک بنا اور 22ستمبر 1980ء کو ایران، عراق سرحدی تنازع 8سالہ طویل جنگ میں بدل گیا۔ ماضی کے اس مختصر تعارف کے بعد ماہِ ستمبر میں منائے جانے والے اہم دنوں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

خیرات کا عالمی دن ( 5ستمبر)

خیرات و امداد کرنا، انسان سے ہم دردی اور یک جہتی کا مظہر ہے۔ یاد رہے، خیرات یا چیریٹی صرف ضرورت مندوں کو روپے پیسے یا اشیائے ضروریہ دینے تک محدود نہیں، بلکہ نیک نیّتی اور جذبۂ خیر خواہی سے صحتِ عامّہ، تعلیم، غُربا اور کم زور طبقات کی حفاظت کے لیے کی گئی کوششیں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔

 2012ء سے یواین او نے خدمتِ خلق کے لیے اپنی زندگی وقف کر دینے والی مدر ٹریسا کی نسبت سے 5ستمبر کو دُنیا بَھر میں ہونے والی انسان دوست سرگرمیوں کو ایک مرکزی نقطے پر جمع کرنے کے لیے چُنا ہے۔

مختلف ممالک کی پولیس کے درمیان تعاون کا عالمی دن (7 ستمبر)

ٹیکنالوجی اور ذرائع مواصلات کی ترقّی نے دُنیا بَھر میں پھیلے جرائم پیشہ عناصر کے درمیان روابط اور مجرمانہ کارروائیوں کو آسان بنا دیا ہے۔ لہٰذا، ان عناصر کی سرکوبی کے لیے مختلف ممالک کی پولیس کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ مربوط انداز میں تعاون اور معلومات کے تبادلے کی ضرورت ہے۔ 7ستمبر کو یہ دن منانے کے پیچھے بھی یہی مقصد پنہاں ہے کہ عالمی سطح پر پولیس کی اہمیت کو تسلیم کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے۔

خواندگی کا عالمی دن (8 ستمبر)

بہ قول ڈاکٹر افتخار شفیع؎جن پر صدیوں تاریکی کا راج رہا ہے…سورج ان رستوں سے گزارا جا سکتا تھا۔ یہ صرف علم کا سورج ہی ہے کہ جو صدیوں پر محیط تاریکی کو مٹا سکتا ہے۔ اس وقت دُنیا بَھر میں تقریبا 775ملین نفوس بنیادی تعلیم سے محروم ہیں اور ہر پانچ میں سے ایک فرد غیر تعلیم یافتہ ہے، جن میں دو تہائی خواتین شامل ہیں۔ 

نیز، 60ملین بچّوں کی درس گاہوں تک رسائی نہیں، جب کہ اس سے بھی زیادہ تعداد میں بچّے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ چُکے ہیں۔ ایسے میں یونیسکو کے تحت منایا جانے والا خواندگی کا عالمی دن تاریکی میں روشنی کی کرن کی مانند ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقوامِ عالم تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنے میں سنجیدہ ہیں۔

انسدادِ خُود کُشی کا عالمی دن (10 ستمبر)

گزشتہ 23برس سے ہر سال 10ستمبر کو خُود کُشی کی روک تھام کے لیے انسدادِ خُود کُشی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ ہر سال اندازاً 7لاکھ افراد خود اپنی جان لیتے ہیں اور یہ15سے 29سال کی عُمر کے نوجوانوں میں اموات کی تیسری بڑی وجہ ہے۔ زیادہ تشویش ناک اَمر یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں خُود کُشی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جو 2019ء میں 7.3افراد فی ایک لاکھ افراد سے بڑھ کر 2022ء میں 9.8افراد فی ایک لاکھ افراد تک پہنچ گئی۔ 

خُود کُشی کے پس پردہ کئی پیچیدہ عوامل کار فرما ہوتے ہیں، جن میں ذہنی صحت کے مسائل، سماجی و معاشی مشکلات، ناکامیاں اور دُکھ شامل ہیں۔ اگر کسی شخص کی بات چیت اور انداز و اطوار سے ایسا ظاہر ہو کہ وہ خُود کُشی کا ارادہ رکھتا ہے، تو اسے مثبت گفتگو کے ذریعے یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے اور اسے فوراً کسی ماہرِ نفسیات سے رابطہ کرنا چاہیے۔

عالمی یومِ جمہوریت ( 15ستمبر)

جمہوریت اور جمہوری اصولوں کو فروغ دینے اور برقرار رکھنے کے لیے اقوام متّحدہ کے تحت 2008ء سے ’’عالمی یوم جمہوریت‘‘ منایا جا رہا ہے۔ یہ دن معاشروں میں عوام کی یقینی اور بامعنی شرکت کی ضرورت کو واضح کرتا ہے اور ان کی زندگیوں پر دُور رس اثرات مرتّب کرتے حکومتی نظام اور رہنماؤں کو منتخب کرنے کے حق اور آزادانہ طریقے سے اپنی رائے کے اظہار کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ 

ہر چند کہ جمہوریت کے بھی کچھ اپنے چیلنجز ہیں، مگر اس کا بنیادی مقصد عوام کی مرضی کے مطابق ان کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرنا ہے۔ جمہوریت ممالک کو تنہائی سے نکال کر عالمی برادری کے ساتھ فعال تعلقات اور تعاون کے حصول کے لیے کارگر محرّک ثابت ہوتی ہے۔

انٹروینشنل کارڈیالوجی ڈے (16ستمبر)

روایتی یعنی اوپن ہارٹ سرجری کی بجائے جدید انٹروینشنل کارڈیولوجی میں ڈاکٹرز مریض کی کلائی یا ران کی شریان کے ذریعے ایک پتلی اور لچک دار کیتھیٹر ٹیوب جسم میں داخل کر کے انجیوگرافی، اینجیو پلاسٹی اور سٹینٹنگ کرتے ہیں اور اس طرح کم وقت اور کم تکلیف میں دل کی تنگ یا بند شریانوں کا مؤثر علاج ممکن ہے۔ 16ستمبر کو یو این او دل کے امراض میں مبتلا افراد کو اس بہتر طریقۂ علاج کے فروغ کی جانب متوجّہ کرتی ہے۔

اوزون کے تحفّظ کا عالمی دن ( 16ستمبر)

اوزون کی تہہ ہماری فضا کا اہم جُزو ہے۔ انسان اور ماحول کو سورج کی خطرناک الٹراوائلٹ شعائوں سے محفوظ رکھنے والی ’’اوزون‘‘ کی حفاظت تمام انسانوں کی مشترکہ ذمّے داری ہے، جسے ساکنانِ ارض کی پھیلائی کیمیائی آلودگی یعنی کلوروفلورو کاربنز سے خطرہ ہے۔ یاد رہے، اوزون کی تہہ کی بحالی کا شعور اجاگر کرنا درحقیقت دُنیا کے تحفّظ کا تقاضا ہے۔

مساوی اُجرت کا عالمی دن (18 ستمبر)

دُنیا کے تمام خِطّوں میں خواتین کو مَردوں کے مقابلے میں کم اُجرت دی جاتی ہے اور مساوی اُجرت کا عالمی دن صنفی امتیازی پر مبنی اس سلوک کے خلاف یو این او کے بنیادی اغراض و مقاصد کو نمایاں کرتا ہے۔ نیز، حکومتوں اور کاروباری اداروں کو ’’مساوی کام کی مساوی تن خواہ‘‘ کے اصول پر کاربند ہونے کے لیے قائل کرتا ہے۔ یاد رہے، مختلف ممالک میں خواتین کو مَردوں کی نسبت ایک جیسے کام کی 12فی صد سے 30فی صد تک کم ادائی کی جاتی ہے۔

امن کا عالمی دن (21ستمبر)

امن انسانی فلاح و بہبود اور پائے دار عالمی ترقّی کے لیے بنیادی عُنصر ہے۔ آج سے تقریباً چار دہائیاں قبل ’’امن کا عالمی یوم‘‘ منانے کا آغاز ہوا۔ یہ دن عالمی یک جہتی کی طاقت سے دُنیا کو ایک پُرامن جگہ بنانے کی کوششوں کا نقطۂ اغاز تھا، جو ظلم و تشدّد، نفرت اور امتیازی سلوک کے خلاف کھڑے ہونے اور دُنیا میں موجود تنوّع کے احترام کا درس دیتا ہے۔

اشاروں کی زبان کا عالمی دن (23 ستمبر)

سماعت سے محروم افراد کے ہفتے کے ساتھ ہی سائن لینگویج یا اشاروں کی زبان کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے تخمینے کے مطابق، اس وقت دُنیا بَھر میں 430ملین افراد معذوری کی حد تک سماعت کی کمی کا شکار ہیں، جن میں سے کم و بیش 90لاکھ پاکستان میں موجود ہیں۔ 

یہ عالمی یوم منانے کا مقصد اشاروں کی زبان کو ایک مکمل اور باقاعدہ زبان کے طور پر تسلیم کروانا اور سماعت سے محروم افراد کو تعلیم اور ملازمت سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی تک مکمل رسائی فراہم کرنا ہے۔ واضح رہے کہ دُنیا میں 300سے زائد سائن لینگویجز رائج ہیں، جنہیں 70ملین افراد اپنی پہلی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

سیاحت کا عالمی دن ( 27ستمبر)

؎سیر کر دُنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں…زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں۔ خواجہ میر درد نے اپنی مخصوص سادگی و سلاست سے اس شعر میں بے ثبات زندگی میں میسّر مختصر سی جوانی سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی ترکیب بیان کردی ہے۔ اور ویسے بھی بزرگ فرما گئے ہیں کہ’’ سفر وسیلۂ ظفر ‘‘۔ 

سو، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سفر سے حاصل ہونے والے منفرد تجربات علم، خود اعتمادی اور قوّتِ فیصلہ میں اضافہ کرنے کے ساتھ زندگی کو دِل چسپ اور پُر لطف بنا دیتے ہیں۔ نیز، سیاحت، ذہن کو وسعت دے کر دوسری ثقافتوں اور سماجوں کے لیے قبولیت کو بڑھانے اور معیشت کو مضبوط کرنے کا وسیلہ بھی بنتی ہے۔

خوراک کو زیاں سے بچانے کا عالمی دن ( 29ستمبر)

خوراک ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے، جس کے بغیر زندگی کا تصوّر محال ہے۔ یو این او کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2022ء میں تقریباً 1.05ارب ٹن تیار خوراک ضائع ہوئی، جس میں سے 60فی صد گھروں میں برباد ہوئی۔ واضح رہے کہ فصل کی کٹائی سے فروخت تک کے مختلف مراحل میں بھی 13فی صد خوراک کا زیاں ہو جاتا ہے، جب کہ آج دُنیا میں لاکھوں افراد بُھوک اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ 

ایسے میں ہماری لاعلمی یا لاپروائی کی وجہ سے غذا کا بے کار ہونا انسانی، سماجی، معاشی اور ماحولیاتی پہلو سے ناقابلِ قبول ہے۔ لہٰذا، انفرادی و اجتماعی سطح پر ایسے اقدامات ناگزیر ہیں کہ جو ہر ممکن حد تک غذا کو خراب اور ضائع ہونے سے بچانے میں معاون و مددگار ثابت ہوں۔

عالمی یومِ قلب (29 ستمبر)

؎دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے…آخر اس درد کی دوا کیا ہے۔غالبؔ کے 150سال قبل اٹھائے گئے اس سوال کا جواب اب جا کر میڈیکل سائنس کو سوجھا ہے اور وہ اسے ہر خاص و عام تک پہنچانے کی فکر میں غلطاں ہے۔ تبھی توہر سال 29ستمبر کو’’ دل کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ 

دل کے اس حال کا کارن کچھ تو اس کا نازک ہونا ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر ٹوٹ جاتا ہے اور دوسرا اہم سبب امراضِ قلب ہیں، جو غیر متوازن خوراک، ورزش نہ کرنے اور سگریٹ نوشی کی وجہ سے عام ہیں۔ یہ دن ہمیں اپنی دل کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے بلڈ پریشر، ذیابطیس، ہائی کولیسٹرول اور موٹاپے سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے۔

ترجمے کا عالمی دن(30 ستمبر)

یونانی و لاطینی زبان میں کی گئی فلسفیانہ موشگافیاں ہوں یا رُوسی، جرمن، فرانسیسی، انگریزی اور فارسی کے ادبی شاہ کار، چینی، جاپانی، کوریائی اور ویت نامی زبانوں میں ہزاروں سال سے قلم بند ہوتا کلاسیکی ادب ہو یا قدیم عبرانی، سنسکرت اور عربی زبانوں میں محفوظ مذہبی افکار، اَن گنت مختلف زبانوں کے علمی خزانے کا ان زبانوں سے ناواقفیت کے باوجود ہماری دسترس میں ہونا، اُن ہزاروں ماہرینِ لسانیات اور مترجمین کا رہینِ منّت ہے کہ جنہوں نے اپنی محنت سے اربوں انسانوں کو فیض پہنچایا ہے۔ اور آج بھی مختلف زبانیں بولنے والوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے ترجمہ نویسوں اور انٹرپریٹرز کی اہمیت مسلمہ ہے۔30 ستمبر کو پوری دُنیا مترجمین کے حیرت انگیز کام سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ان سے شُکر گزاری کا اظہار کرتی ہے۔

متذکرہ بالا ایام کے علاوہ 7ستمبر فضائی الودگی کے خطرناک اثرات کی جانب اشارہ کرتا ہے، تو 9ستمبر کو جنگ میں گِھرے تعلیمی مراکز پر حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے خلاف قرار دیا جاتا ہے۔ 12ستمبر عالمی جنوبی خطّے کے ترقّی پذیر ممالک سے وابستہ ہے اور 14 ستمبر کو فرسٹ ایڈ کے فائدے عوام النّاس کے گوش گزار کیے جاتے ہیں۔ 

17ستمبر ’’مریضوں کے تحفّظ کا عالمی دن‘‘ ہے اور 20ستمبر کو ’’ورلڈ کلین اپ ڈے‘‘ پر کچرے کو ٹھکانے لگانے کے اقدامات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ 25ستمبر دُنیا کی 80فی صد تجارت کا بار اُٹھانے والی جہاز رانی کی صنعت کے لیے مخصوص ہے، تو 21ستمبر دماغی بیماری، ’’الزائمر کا عالمی دن‘‘ ہے اور 28ستمبر ہر شخص کی معلومات تک رسائی کو یقینی بنانے پر اصرار کرتا ہے۔