ملتان ( سٹاف رپورٹر) محکمہ اشتمال اراضی نے مجرمانہ غفلت، لاپرواہی اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے موضع درآب غربی کے ریکارڈ کو مشکوک بنادیا ہےجس کی وجہ سے گزشتہ 18سالوں کے دوران ہونیوالے انتقالات کا تاحال اندراج نہیں ہوسکا ہے ۔سنگین غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے موضع درآب غربی کے نمبردار محمد رمضان نے اپنے کونسل ایم۔آر فخر بلوچ کے توسط سے ہائیکورٹ ملتان بینچ کے جج جسٹس چوہدری محمد اقبال کو آگاہ کیا کہ محکمہ اشتمال اراضی کے عملے نے متعدد مالکان کا رقبہ کم کردیا ہے۔کسی کی ولدیت اور دیگر وارثان کے ناموں میں تبدیلی کردی ہے اور پنجاب بورڈ آف ریونیو کے پریشر پر غلطیوں اور خامیوں سے بھرپور ریکارڈ اے ڈی ایل ار کو بھجوادیا ہے۔اگر اس غلط ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرلیا گیا تو نیا پینڈورا بکس کھل جائیگا۔ اس پر عدالت نے محکمہ اشتمال اور محکمہ مال کے افسران کو ائندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے تاریخ کا تعین بعد میں کیا جائے گا پٹیشنر کے وکیل ایم ار فخر بلوچ نے فاضل عدالت کو اگاہ کیا کہ محکمہ اشتمال نے 15- 16 سال قبل ان کے موضع کا اشتمال کیا مگر اپنا کام مکمل کرنے کے بعد ریکارڈ محکمہ مال کے حوالے نہ کیا جس کی وجہ سے اس دوران ہونے والے اراضی کے انتقالات کا اندراج نہ ہو سکا