امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی بتائے 15 سال میں جو 3 ہزار 360 ارب ملے وہ کہاں لگے؟
حقوق کراچی ریلی سے خطاب میں منعم ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے 17 سال حکومتی بدانتظامی ، کرپشن اور بدنظمی کی اعلیٰ مثال ہیں، آج کا مارچ دھرنے میں تبدیل ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی پی حکومت اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کے لئے یہ جھوٹے الزامات لگاتی ہے، بتایا جائے پچھلے 15 سالوں میں 3360 ارب روپے ملے، یہ پیسے کہاں لگے؟
امیر جماعت اسلامی کراچی نے مزید کہا کہ یہ ساری رقم آپ نے صوبائی پول میں ڈال کر کرپشن کی نظر کردی، اب تو وہ لوگ بھی آپ سے پریشان ہیں جو آپ کو لے کر آئے تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی پیچھےنہیں ہٹے گی، تمہارا تعاقب کریں گے، ہم کراچی والوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، ان کے چہروں پر خوشی دیکھنا چاہتے ہیں۔
منعم ظفر نے یہ بھی کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ اور واٹر کارپوریشن ٹاؤنز کے زیر انتظام دے جائیں، انہوں نے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بنادیا۔
انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبے کے لئے 40 ارب روپے درکار تھے، آپ نے3 اعشاریہ 2 ارب روپے دیے، انفرااسٹرکچرکی بحالی کےلئے سیس ٹیکس اس لئے تھا کہ عوام کو سڑکیں ملتیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ رسول ﷺ نےانسان کی غلامی سےنکال کرلوگوں کواللّٰہ کی غلامی میں دیا، ربیع الاول کا مہینہ اس بات کا درس دیتا ہےکہ حقوق کے لئے جدوجہد کرنی ہے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی نے شہرِ قائد کا برا حال کر دیا ہے، شہر کے ہر مسئلے کو ہم اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں، ہماری مزاحمت کل بھی جاری تھی آج بھی جاری ہے، شہر کراچی کے حق کے لیے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے قریب موجود ہیں۔
منعم ظفر نے کہا کہ ہم اپنا حق لے کر رہیں گے، ابھی ہم یہاں پر ہی بیٹھیں گے، اپنے شہر کا حق لیے بغیر یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔
جماعتِ اسلامی کا مارچ پریس کلب سے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس پہنچا، شرکاء ریلیوں کی شکل میں پہنچے تھے، ریلی شاہین کمپلیکس سے ہوتی ہوئی سی ایم ہاؤس کی طرف بڑھی۔
پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد پریس کلب پر تعینات تھی جبکہ پی آئی ڈی سی کے مقام پر راستے کنٹینر لگا کر بند کر دیے گئے۔