• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قطر میں پاکستان، طالبان مذاکرات شروع

اسلام آباد(رانا غلام قادر )پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے وفود کے قطر ی دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات شروع ہوگئے، مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا ،سفارتی ذرائع کے مطابق فریقین نے 5 گھنٹے سے زائد وقت تک مذاکرات کیے،مذاکرات کا دوسرا دور آج اتوار کے روز ہوگا،فریقین کا فائر بندی میں توسیع پراتفاق،ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی جبکہ مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی وفد میں شامل ہیں، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق افغان وفد کی سربراہی عبوری وزیر دفاع ملا یعقوب کررہے ہیں، افغان وفد میں طالبان کے انٹیلی جنس چیف مولوی عبدالحق بھی شریک ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان طالبان پر ریڈ لائن واضح کر دی گئی ہے کہ پاکستان کا یک نکاتی ایجنڈا سرحد پار دراندازی روکناہے۔افغانستان میں دہشت گرد گروہ ناقابل قبول ہیں۔ پاکستان نے واضح کر دیا کہ افغانستان کی جانب سے کسی بھی دہشت گرد حملے کا اسی انداز میں جواب دیا جائےگا۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے مؤقف اپنایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، گل بہادر گروپ افغانستان سے کارروائیاں کرتے ہیں، جنگجوؤں کے افغانستان سے آنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔مزید مؤقف اپنایا گیا کہ پاکستانی شہریوں کو افغانستان سے بھتے کی کالز آتی ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات قطر کے انٹیلی جنس چیف کی میزبانی میں کیے جا رہے ہیں جس میں پاکستان دراندازی کے یک نکاتی ایجنڈے پر بات کررہا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات قطر کے انٹیلی جنس چیف کی میزبانی میں کیے جارہے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہےکہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر بات چیت کرنا اور پاک-افغان سرحد پر امن و استحکام کی بحالی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم وہ افغان طالبان حکام پر زور دیتا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کریں۔

اہم خبریں سے مزید