انصار عباسی
اسلام آباد :…قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک ’’ڈیجیٹل ون کلِک ڈسکلوژر‘‘ نظام کی تجویز دی ہے جس کے ذریعے کوئی بھی شخص کسی ہائوسنگ اسکیم کی قانونی حیثیت، اس کے منظور شدہ لے آئوٹ پلان اور کسی مخصوص پلاٹ کے وجود کی فوری تصدیق کر سکے گا۔ شہریوں کے ساتھ نجی ہائوسنگ اور کوآپریٹو سوسائٹیز کی جانب سے بڑے پیمانے پر ہونے والے فراڈ کے پیش نظر، نیب راولپنڈی نے 4؍ نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا تیار کیا ہے جس کا مقصد نجی ہائوسنگ سیکٹر میں پھیلے فراڈ اور بے ضابطگیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ اصلاحات اسلام آباد اور راولپنڈی میں نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جہاں 90؍ ہزار سے زائد شہری اپنے اُن کھربوں روپے سے محروم ہوئے جو انہوں نے ایسے پلاٹس کی ادائیگی کیلئے جمع کرائے تھے جو سرے سے موجود ہی نہیں۔ وزارتِ ہائوسنگ اینڈ ورکس، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کے ساتھ شیئر کی گئی ان اہم اصلاحات میں عملدرآمد کیلئے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، ان میں درج ذیل باتیں شامل ہیں: الف) ایک مرکزی آن لائن پورٹل کا قیام جہاں تمام ریگولیٹر سے منظور شدہ لے آئوٹ پلان (LOPs) شائع کیے جائیں گے تاکہ عوام کسی بھی اسکیم کے دعووں کی خود تصدیق کر سکیں۔ ب) ہر منظور شدہ پلاٹ کیلئے محفوظ، کیو آر یا بار کوڈ والے الاٹمنٹ لیٹر جاری کرنا جو آفیشل ڈیٹا بیس سے منسلک ہوں تاکہ حد سے زیادہ فروخت (اوور سیل) کی روک تھام ہو سکے۔ ج) ہر منصوبے کیلئے ایک لازمی ایسکرو اکاؤنٹ قائم کیا جائے جس کی نگرانی کسی تیسرے فریق کے ذریعے ہو تاکہ عوام کا سرمایہ صرف ترقیاتی کاموں پر خرچ ہو۔ د) امینٹی پلاٹس کی غیر قانونی فروخت کو قابلِ سزا فوجداری جرم قرار دینا چاہئے اور اس پر سخت سزائیں نافذ کی جائیں۔ نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت کسی بھی خریدار کیلئے صرف ایک کلک پر یہ پتہ کرنا ممکن ہوگا کہ جو پلاٹ اسے فروخت کیا جا رہا ہے وہ سرکاری نقشے میں حقیقتاً موجود ہے یا نہیں، ہائوسنگ اسکیم باقاعدہ طور پر منظور شدہ ہے یا نہیں، اور اس کی موجودہ ترقیاتی حالت کیا ہے۔ تمام تصدیق شدہ معلومات ایک ہی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب کی جائیں گی۔ نیب کے ایک سینئر افسر کا کہنا تھا کہ یہ نظام عام شہری کو بااختیار بنائے گا اور جعل ساز ڈویلپرز سے کھوکھلے وعدے بیچنے کی صلاحیت چھین لے گا۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت محض ضابطوں سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے نافذ ہوگی جو ہر اس شخص کی پہنچ میں ہوگا جس کے پاس سمارٹ فون ہے۔ یہ اصلاحات وزارت ہائوسنگ، سی ڈی اے اور آر ڈی اے کو ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد باضابطہ طور پر بھیجی گئیں۔ نیب نے سی ڈی اے کو ایسکرو سسٹم کے نفاذ کیلئے 15؍ نکاتی تفصیلی طریقہ کار بھی فراہم کیا ہے۔ یہ نظام ڈیجیٹل پورٹل کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ مالیاتی اور ترقیاتی شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ ڈی جی نیب وقار احمد چوہان نے رابطہ کرنے پر اعتماد ظاہر کیا کہ یہ دور رس اصلاحات لاکھوں متاثرہ شہریوں کی مشکلات کو مستقل طور پر ختم کر دیں گی اور پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر اعتماد بحال کریں گی۔ ڈی جی نیب نے بتایا کہ یہ اقدام عوامی شکایات میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے جن میں ڈویلپرز پر لوگوں کی محنت کی کمائی ہڑپ کرنے، منصوبے چھوڑ دینے اور ہزاروں شہریوں کو بھاری مالی نقصان پہنچانے کے الزامات تھے۔ ڈی جی نیب نے امید ظاہر کی کہ یہ دور رس اصلاحات قومی پالیسی کا حصہ بنیں گی، جو عوامی مفاد کے تحفظ اور پاکستان کے ہائوسنگ سیکٹر پر اعتماد کی بحالی کیلئے ایک اہم موڑ ثابت ہوں گی۔ دی نیوز مین جمعہ کو یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی نجی ہائوسنگ اسکیموں میں ہونے والے فراڈ میں صرف جڑواں شہروں میں سیکڑوں ارب روپے کا نقصان ہوا۔ منظور شدہ نقشوں سے ہٹ کر 91؍ ہزار سے زائد اضافی پلاٹ اور 80؍ ہزار کنال رقبہ فروخت کیا گیا۔ اسے وفاقی دارالحکومت اور اس سے ملحقہ شہر راولپنڈی کا سب سے بڑا لینڈ اسکینڈل قرار دیا جا رہا ہے، اس سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ نجی ہاؤسنگ اسکیموں اور کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز نے پلاٹوں کی اوور سیلنگ، جعلی ممبرشپس اور گمراہ کن مارکیٹنگ کے ذریعے شہریوں سے مبینہ طور پر کھربوں روپے کا فراڈ کیا۔