• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سال2025 ء صوبہ خیبر پختون خوا کے لیے ایک مسلسل بے چینی، غیر یقینی اور شدید دباؤ کا سال تھا۔ کبھی سیاسی بحران نے ہلچل مچائی، تو کبھی دہشت گردی کی لہر نے امن خاک میں ملایا اور کبھی معاشی مشکلات نے عوام النّاس کی زندگی مزید مشکل کر دی۔ اگر کسی ایک لفظ کے ذریعے اِس برس کی تصویرکشی کی جائے، تو وہ لفظ ہے’’مزاحمت۔‘‘ کیوں کہ پورا صوبہ حالات کے خلاف مسلسل مزاحمت کرتا رہا۔ 

سال کا آغاز وزیرِ اعلیٰ، علی امین گنڈاپور کی جارحانہ سیاسی حکمتِ عملی کے ساتھ ہوا۔ مرکز کے ساتھ اُن کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی رہی، پھر فنڈز کی عدم فراہمی اور ضم اضلاع کے مسائل پر اُن کی شکایات نے تنازعے کو مزید بڑھا دیا۔ 25جنوری کو پارٹی قیادت کی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ہوئی، جس کے بعد علی امین گنڈا پور سے صوبائی صدارت کی ذمّے داریاں واپس لے کر ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے رُکن قومی اسمبلی، جنید اکبر خان کو پارٹی کا نیا صوبائی صدر بنا دیا گیا۔

اگرچہ یہ تبدیلی اچانک ہوئی، لیکن 26نومبر2024ء کے احتجاج کے بعد سے پی ٹی آئی کے حلقوں میں اطلاعات زیرِ گردش تھیں کہ پارٹی میں کچھ تبدیلیاں ہونے والی ہیں۔ جنید اکبر نے پارٹی صدارت سنبھالتے ہی تند و تیز بیانات دئیے اور مؤقف اختیار کیا کہ پارٹی کو ہومیو پیتھک قیادت کی ضرورت نہیں، کیوں کہ علاج کے لیے تیز اثر دوا درکار ہے۔

اُنھوں نے عام انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر8فروری کو صوابی میں بڑے سیاسی اجتماع کا اعلان کیا، جس میں مُلک بَھر سے کارکنان اور قائدین نے شرکت کی۔ سیاسی عدم استحکام کے ساتھ صوبے میں امن و امان کی صُورتِ حال بھی روز بروز بگڑتی گئی۔ 28 فروری کو نمازِ جمعہ کے بعد اکوڑہ خٹک میں مشہور دینی درس گاہ، مدرسہ حقّانیہ میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ، مولانا حامد الحق کو نشانہ بنایا گیا۔ گزشتہ برس صوبائی حُکم ران جماعت شدید اندرونی اختلافات، دھڑے بندیوں اور ٹوٹ پُھوٹ کا شکار رہی۔ 

بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے جتنے بھی احتجاج ہوئے، اُن میں علی امین گنڈا پور کی حرکات و سکنات مشکوک نظروں سے دیکھی گئیں۔ پارٹی میں علی امین گنڈا پور پر سوالات اُٹھائے گئے کہ وہ لاہور جلسے میں تاخیر سے کیوں پہنچے اور جلسے کے بعد کہاں چلے گئے تھے؟ڈی چوک میں احتجاج ہوا، تو کارکنان کو اکیلا چھوڑ کر کیوں چلے گئے؟ پارٹی میں یہ بات بھی زیرِ بحث رہی کہ وہ وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں۔ 

اُن ہی دنوں علی امین گنڈا پور نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ’’عمران خان نے اسد قیصر، عاطف خان اور شہرام ترکئی کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا کہ یہ لوگ سازشی ہیں اور بعد میں صوبائی اسمبلی میں سازش کریں گے۔‘‘ اِس انٹرویو کے بعد تحریکِ انصاف کے اختلافات کُھل کر سامنے آگئے اور واضح ہوگیا کہ ایک جانب عاطف خان کا گروپ ہے، تو دوسری جانب علی امین گنڈا پور گروپ۔

9مئی کو تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین کی گرفتاری کے دوسال مکمل ہونے پر مُلک بَھر میں احتجاج کا اعلان کیا گیا، تاہم بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر خیبر پختون خوا کے تمام شہروں میں پاک فوج سے اظہارِ یک جہتی اور بھارتی جارحیت کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں، جس کے باعث تحریکِ انصاف نے9 کی بجائے 11مئی کو یومِ احتجاج منایا۔ اِسی روز پشاور میں جمعیت علمائے اسلام نے پاکستان کی تاریخی فتح پر دفاعِ پاکستان اور دفاعِ غزہ کانفرنس کا انعقاد کیا۔

13جون کو حکومت نے اپنا دوسرا بجٹ پیش کیا، جس کے لیے اسمبلی اجلاس بلانے کی غرض سے سمری گورنر کو ارسال کی گئی۔12جون کو گورنر نے بیان جاری کیا کہ اُنہوں نے سمری پر دست خط کردئیے ہیں، لیکن حکومت رات گئے تک سمری کا انتظار کرتی رہی۔ 

وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں اسپیکر سمیت پارٹی رہنما اِسی انتظار میں تھے کہ گورنر کی جانب سے سمری ملنے کے بعد اسمبلی اجلاس بلانے کا اعلامیہ جاری کیا جائے، تاہم جب رات گئے سمری موصول نہ ہوئی اور صبح گورنر ہاؤس کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ یہ گورنر کی صوابدید ہے کہ وہ کب اسمبلی کا اجلاس بلاتے ہیں۔ 

طویل مشاورت کے بعد حکومت نے اجلاس کے لیے مقرّرہ وقت سے آدھا گھنٹہ قبل ریکوزیشن پر اسمبلی کا اجلاس طلب کیا۔ بجٹ سے قبل تحریکِ انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عمران خان سے ملاقات اور مشاورت کے بغیر بجٹ پاس نہیں کیا جائے گا۔ 

تاہم بعد ازاں، عمران خان کی مشاورت کے بغیر ہی بجٹ کی منظوری دی گئی، جس پر عمران خان اور پارٹی کارکنان نے انتہائی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔وزیرِ اعلیٰ، علی امین گنڈا پور نے مؤقف اپنایا کہ اگر بجٹ پاس نہ کیا جاتا، تو حکومت ختم ہوجاتی۔

27جون کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ نے خیبر پختون خوا اسمبلی کی باقی ماندہ 21مخصوص نشستیں اپوزیشن جماعتوں میں تقسیم کرنے کا حکم جاری کیا، جس کی تعمیل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی تقرّری کا اعلامیہ جاری کیا اور ساتھ ہی اسپیکر سے، نو منتخب ارکان سے حلف لینے کی استدعا کی، تاہم صوبائی حکومت نے مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی حلف برداری کے لیے اسمبلی اجلاس طلب نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اپوزیشن لیڈر، ڈاکٹر عباد اللہ خان نے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور الیکشن کمیشن کو خطوط ارسال کیے، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر حلف برداری کے لیے اسپیکر کو دوبارہ خط لکھا، مگر اُنھوں نے جوابی خط میں مؤقف اپنایا کہ اِس وقت اسمبلی کا اجلاس جاری نہیں اور نیا اجلاس طلب کرنا اسپیکر کا اختیار نہیں، اِس لیے جب بھی اسمبلی کا اجلاس ہوگا، ارکان سے حلف لے لیا جائے گا۔ 

الیکشن کمیشن نے گورنر خیبر پختون خوا کو بھی آئین کے آرٹیکل109 کے تحت اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کی، جس پر گورنر نے وزیرِ اعلیٰ کو خط لکھ کر ضروری اقدامات کی سفارش کی۔ الیکشن کمیشن نے وزیرِ اعلیٰ سے بھی درخواست کی کہ وہ گورنر کو مشورہ دیں تاکہ اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جا سکے۔ بہرکیف، الیکشن کمیشن نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 255(2) کے تحت کسی مناسب شخص کو حلف برداری کے لیے نام زد کرنے کی درخواست کی۔ 

اس صورتِ حال میں وزیرِ اعلیٰ نے پارلیمانی پارٹی اور قانونی ٹیم کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد بالآخر اسمبلی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا۔ گورنر نے وزیر اعلیٰ کی ارسال کردہ سمری کی منظوری دیتے ہوئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا، جسے اسپیکر نے کورم کی نشان دہی پر ملتوی کردیا۔

بعدازاں، اپوزیشن نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست جمع کروائی، جس پر چیف جسٹس نے گورنر خیبر پختون خوا کو مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی حلف برداری کے لیے نام زَد کیا اور یوں اُسی شام گورنر ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں 21خواتین اور 4اقلیتی ارکان نے حلف اُٹھایا، جس کے بعد صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی تعداد بڑھ کر53 ہوگئی۔

21جولائی کو خیبر پختون خوا سے ایوانِ بالا کی 11خالی نشستوں پر انتخاب کا مرحلہ مکمل ہوا، جس میں حکومت اور اپوزیشن نے انتخابی فارمولے کے مطابق 6اور 5نشستوں پر کام یابی حاصل کی۔ سینیٹ کی 11نشستوں میں سے تحریکِ انصاف 6پر، جمعیت علمائے اسلام2، پیپلز پارٹی2 اور مسلم لیگ نون 1نشست پر کام یاب ہوئی۔ بانی کے حکم پر علی امین گنڈا پور نے27ستمبر کو پشاور میں سیاسی قوّت کا مظاہرہ کیا، تاہم کارکنان نے علی امین گنڈاپور کے خطاب کے دوران اسٹیج کی طرف جوتے اور بوتلیں پھینکیں، جس کے باعث وزیرِ اعلیٰ کو اپنا خطاب مختصر کرنا پڑا۔ 

پشاور جلسے کے بعد دو دن بعد وزیرِ اعلیٰ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کے ساتھ ملاقات کی اور واپسی پر پارٹی رہنما اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ اور شہرام ترکئی کے بھائی فیصل ترکئی کو صوبائی کابینہ سے فارغ کردیا، جب کہ30ستمبر کو اُنھوں نے ایک ویڈیو بیان میں علیمہ خان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اُنہوں نے عمران خان کو بتایا ہے کہ عمران خان کو مائنس کرنے اور گروپ بندی میں علیمہ خان کا اہم کردار ہے، علیمہ خان کو پارٹی چیئرپرسن بنانے کے لیے مہم چلائی جارہی ہے اور بانی چیئرمین کی رہائی کے اقدامات کی بجائے اختلافات کو بڑھاوا دینے کے لیے کام ہورہا ہے۔ 8اکتوبر کو تحریکِ انصاف کے قائدین نے عمران خان کے ساتھ ملاقات کی، جس میں بانی چیئرمین نے علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹا کر سہیل آفریدی کو نیا وزیرِ اعلیٰ نام زَد کیا، جس سے صوبے میں ایک نیا طوفان برپا ہوگیا۔

علی امین گنڈا پور نے اگلے ہی روز عمران خان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنا استعفا گورنر کو ارسال کیا، تاہم چار دن تک گورنر اور پی ٹی آئی کے مابین استعفے کی منظوری کا تنازع جاری رہا۔13اکتوبر کو سہیل آفریدی 145رُکنی ایوان میں 90ووٹ لے کر نئے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔ گورنر اور اپوزیشن نے پہلے تو سابقہ وزیرِ اعلیٰ کے استعفے کی منظوری کے بغیر نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کو غیر قانونی قرار دیا، معاملہ عدالت بھی گیا، تاہم 15اکتوبر کو گورنر نے سہیل آفریدی سے عہدے کا حلف لے ہی لیا۔

سیکیوریٹی کے محاذ پر بھی یہ سال خیبر پختون خوا کے لیے شدید آزمائش کا سال تھا۔ محکمۂ پولیس اور دیگر اداروں پر نہ صرف حملوں میں اضافہ ہوا بلکہ ان کی نوعیت بھی پہلے سے زیادہ خطرناک رہی۔ دہشت گردی کے سیکڑوں واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں دوسو سے زاید شہری اور اہل کار شہید ہوئے۔ کئی اضلاع، خاص طور پر شمالی وزیرستان، باجوڑ، ڈی آئی خان اور سوات میں خوف کی فضا طاری رہی۔ 

پولیس اہل کاروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر ایک سو سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے، مگر جدید اسلحے اور ٹیکنالوجی کی کمی کے باعث کارکردگی محدود رہی۔سال کے دوران ہونے والے دو فضائی حملوں نے صُورتِ حال مزید پیچیدہ کر دی۔ مردان میں کیٹلنگ کے علاقے میں ہونے والے ڈرون حملے اور خیبر کے تیراہ میں فضائی بم باری سے نہ صرف ہلاکتوں کا سلسلہ بڑھا بلکہ بے یقینی میں بھی اضافہ ہوا۔

صوبائی اسمبلی نے دو ماہ کی طویل مشاورت کے بعد اسپیکر بابر سلیم سواتی کی سربراہی میں 37رُکنی صوبائی پارلیمانی سکیوریٹی کمیٹی قائم کی، جس نے متعلقہ اداروں سے جامع بریفنگ لینے کے بعد کُل جماعتی جرگہ بُلانے کا فیصلہ کیا۔ چناں چہ12نومبر کو خیبر پختون خوا اسمبلی ہال میں امن جرگہ ہوا، جس میں صوبے بَھر کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، مذہبی اکابرین، وکلا، صحافیوں اور سِول سوسائٹی سمیت تمام مکاتبِ فکر کے نمائندوں نے شرکت کرکے صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے اور پائے دار امن کے قیام کے لیے15نکاتی متفّقہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بدامنی کے خاتمے کے لیے صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لے کر قانون کے دائرے میں صوبے کے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ 

صوبائی اسمبلی کو صوبے اور قبائلی اضلاع میں سیکیوریٹی اداروں کی کارروائیوں اور اُن کی قانونی بنیادوں سے متعلق متعیّن مدّت میں اِن کیمرا بریفنگ دی جائے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی داخلی سلامتی کی قیادت کریں اور ضرورت کے مطابق آئینی طور پر باقی اداروں سے بھی معاونت طلب کی جاسکتی ہے۔ منتخب نمائندوں اور سیاسی قائدین پر مبنی امن فورم قائم کیا جائے۔ وفاقی حکومت پاک، افغان خارجہ پالیسی میں صوبائی حکومت کے ساتھ مشاورت کرکے سفارت کاری کو ترجیح دے۔ 

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین تناؤ کم کیا جائے۔ وفاق، صوبے کو پن بجلی منافعے، قبائلی اضلاع فنڈز، گیارہویں قومی مالیاتی ایوارڈ کے نفاذ اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت تمام آئینی اور مالی حقوق فراہم کرے۔ شہری سطح پر پولیس، کنٹونمنٹ اور بلدیاتی اداروں کے مابین ہم آہنگی کے لیے سٹی سیلز قائم کیے جائیں، جو چیک پوسٹس کے خاتمے کے منصوبے تیار کریں۔

بدقسمتی سے جس دن خیبر پختون خوا اسمبلی میں امن جرگہ جاری تھا، اُسی دن ضلع جنوبی وزیرستان کی تحصیل وانا میں کیڈٹ کالج پر پانچ خودکُش دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ تاہم، سیکیوریٹی فورسز نے 35گھنٹوں کے کلیئرنس آپریشن میں پانچوں خودکُش خوارج کو ہلاک کرکے550طلبہ اور عملے کو بحفاظت نکال لیا۔ 24نومبر کو فتنہ الخوارج نے ایک مرتبہ پھر پشاور کو نشانہ بناتے ہوئے ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا۔صوبے میں امن و امان کی صُورتِ حال دگرگوں ہے، جب کہ صوبائی حکومت فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے دہشت گردی کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے پر اصرار کررہی ہے۔ 

جہاں تک قبائلی اضلاع کا تعلق ہے، تو سابق فاٹا کے اضلاع سالِ رفتہ بھی شدید محرومی اور غیر یقینی کا شکار رہے۔ ترقیاتی فنڈز جاری نہ ہونے سے درجنوں منصوبے ادھورے پڑے رہے۔ امن کمیٹیز اور مقامی مشران پر حملوں نے عوام کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔ 

باجوڑ، خیبر اور وزیرستان میں سکیوریٹی فورسز کے آپریشن جاری رہے، مگر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے مسائل بھی بڑھتے گئے۔ مقامی آبادی اب بھی بنیادی سہولتوں، روزگار کے مواقع اور تعلیم کی کمی کا سامنا کر رہی ہے۔ دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام کے باعث سال 2025ء میں خیبر پختون خوا سخت معاشی دباؤ اور سماجی تنزلّی کا شکار رہا۔ 

مُلک میں منہگائی نے پہلے ہی عوام کی کمر توڑ رکھی ہے، جب کہ خیبر پختون خوا میں یہ دباؤ زیادہ محسوس ہوا۔ بے روزگاری بڑھتی رہی، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ نہ ہوسکا۔ تعلیم کے شعبے کی زبوں حالی جوں کی توں رہی کہ صوبے کے کئی اضلاع میں اسکولز، عمارتوں سے محروم ہیں۔ اِسی طرح صحت کے اداروں کی حالت بھی مایوس کُن تھی۔ 

مون سون کی بارشوں نے سیلابی صُورتِ حال پیدا کی، جس سے شانگلہ، چترال اور بٹگرام میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ سوشل میڈیا پر خیبر پختون خوا کے معاملات مسلسل ٹرینڈ کرتے رہے۔ دہشت گردی کے واقعات، پولیس اہل کاروں کی شہادتیں اور سیاسی تنازعات عوامی گفتگو کا موضوع رہے۔متعدّد احتجاج بھی دیکھنے میں آئے، مختلف شہری گروپس نے حکومت اور اداروں سے واضح پالیسی کا مطالبہ کیا۔

صحافی برادری بھی دباؤ کا شکار رہی، متعدّد صحافیوں نے دھمکیوں کی شکایات کیں اور بعض نے حسّاس موضوعات پر رپورٹنگ سے گریز کیا۔ 2025 ء کی کہانی محض سیاسی بحران یا دہشت گردی کے واقعات تک محدود نہیں۔ یہ کہانی اُن پولیس اہل کاروں کی ہے، جو جان کی بازی لگا کر ڈیوٹیاں کرتے رہے۔ اُن والدین کی ہے، جنہیں عمارتوں کے بغیر اسکولز میں اپنے بچّے پڑھانے پڑے۔ اُن لوگوں کی بھی ہے، جو سیلاب، منہگائی اور عدم تحفّظ کے باوجود زندگی کی گاڑی دھکیلتے رہے۔

یہ سال ہمیں سبق دے گیا کہ اِس صوبے کو نہ صرف ٹھوس سیکیوریٹی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے بلکہ ایسی سیاسی اور انتظامی قیادت بھی چاہیے، جو بحرانوں کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، نہ کہ اُنہیں مزید پیچیدہ کردے۔ سیاسی مکالمے، جدید پولیس نظام، ضم شدہ اضلاع کی تعمیر و ترقّی کی سنجیدہ کوششیں اور معیشت کے استحکام کے بغیر صوبے میں پائے دار امن و ترقّی ممکن نہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید