• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذوالفقار علی بھٹو اور اسلامی ممالک کے اتحاد کی جدوجہد

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 47سال قبل قتل کے ایک مقدمے میں آج ہی کے دن،یعنی چار اپریل 1979 کو پھانسی دی گئی تھی۔

وہ ملکی اور عالمی سطح پر ایک مقبول راہ نما تھے۔ وہ پاکستان میں سیاست کو طاقت وروں کے چنگل سے نکال کر عوام میں لائے اورانہوں نے ملکی و عالمی سطح پر وہ فیصلے کیے جن کی مجال اس زمانے میں شاید ہی کوئی اور کرپاتا۔ پاکستان میں اگر کسی نے سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر گلی کوچوں میں پہنچایا اور عوام کو اپنے ہونے کا احساس دلایا تو وہ شخص ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ انہوں نے صرف احساس ہی نہیں دلایا بلکہ ایسے عملی اقدامات اٹھائےجن سے ملک کے اندر اسٹوڈنٹ یونینز ،ٹریڈ یونینز اور دیگر نمائندہ تنظیمیں فعال ہو گئیں اور معاشرے میں برداشت کا کلچر پیدا ہونے لگا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کاملکی سطح پر سب سے بڑا کارنامہ محنت کش طبقے کو زبان دینا اور ان کے حقوق کو اجاگر کرناتھا۔ انہوں نےاس طبقے کو تحفظِ ملازمت، یونین سازی کا حق اور دیگر مراعات سے بہرہ ور کیا، انہیں انسان ہونے کا شعور بخشا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ سیاست کو کھیت کھلیانوں میں پہنچا دیا۔ غریب طبقے کو پاکستان کی سیاست میں اہم مقام دے کر ان کے اندر جو ذہنی انقلاب پیدا کیا تھااس نے انہیں تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کردیا۔

وہ ایک اصلاح پسند اور پاکستان کی جدید عوامی سیاست کے بانی کی حیثیت سے ہمیشہ قابل احترام رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا ہر مقبول سیاسی راہ نما ان کا انداز اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کے بارے میں شاعروں، ادیبوں، تاریخ نویسوں اور دانش وروں نے جو کچھ لکھا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔

بھٹو نے پاکستان کےجوہری پروگرام کی بنیاد رکھی اور ملک کو متفقہ آئین دیا۔وہ پاکستان کے ایسے سیاست داں تھے جوپاکستان کے آمروں کے ساتھ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی چیلنج بنے رہے۔

شعلہ بیان اور ہمہ جہت ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پيدا ہوئے، کيلی فورنيا اور پھر آکسفورڈ سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔1963 ميں جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزير خارجہ بنے، پھر آگے چل کر ایوب خان سے اختلاف ہوئے تو ترقی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر30نومبر1967کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جو اپنے نظریات اورزیڈ اے بھٹو کی کرشماتی شخصیت کی وجہ سےدیکھتے ہی دیکھتے ملک کی مقبول ترین جماعت بن گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور پھر 1971 سے1973تک پاکستان کے چوتھےصدر بھی رہے۔ انہوں نے 1973سے1977تک ملک کے پہلے منتخب وزيراعظم کے طور پربھی خدمات انجام دیں۔ ان کے سیاسی پیروکارآج بھی انہیں ایک عظیم راہ نما کا دجہ دیتے اور متفقہ طور پر اپنا قائد کہتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ داخلی اور خارجی سازشوں کے نتیجے میں جنرل ضیا الحق نےان کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور قتل کے الزام ميں مقدمہ چلا کر4اپریل 1979کو ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

ماہرینِ سیاسیات اور محققین کا ماننا ہے کہ مغربی استعمار کے خلاف اسلامی ممالک کو متحد کرنے سمیت ایسے کئی کارنامے ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کو موت کے بعد بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی سیاسی تاریخ میں ایک دلیر، مدبر، اصول پسند، دور اندیش سیاست داں اور تاریخ ساز شخصیت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ وہ ملک میں حقیقی تبدیلی لانا چاہتے تھے، غریب عوام کی حالت بدلنا اور انہیں عزت و احترام کا مقام دلانا چاہتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ پاکستان بین الاقوامی برادری میں اہم مقام حاصل کرے۔

انہوں نے خدادا صلاحیتوں کی بناء پر ایک آمر کی کابینہ میں رہ کر بھی اپنی الگ شناخت اور قیادت کو منوایا۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے انہوں نے اہم عالمی راہ نماوں سے تعلقات استوار کیے۔ تاریخ کے انتہائی اہم اور موزوں موڑ پر پاک چین دوستی کو مستحکم کیا۔ کہاجاتا ہے کہ امریکا ان کی قوم پرست پالیسیوں کی وجہ سے ان سے ناراض ہوگیا اور اپنے فیوریٹ صدر جنرل ایوب پر دباؤ ڈال کر انہیں وزارت سے فارغ کرادیا۔

کابینہ سے فارغ ہونے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے لیے آسان اور آبرومندانہ راستہ یہ تھا کہ وہ سیاست کو خیرباد کہہ کر کوئی اور پیشہ اختیار کر لیتے۔بڑے کام کرنے کا عزم رکھنے والی شخصیات چین سے نہیں بیٹھ سکتیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے نا مساعد حالات اور خوف و جبر کے ماحول کے باوجود خطرات سے پُر راستے کا انتخاب کیا۔ وہ دانش ورانہ فکر کے حامل سیاست داں، اچھےمصنف اور بہت اچھے مقرر تھے۔ وہ غوروخوض کرنے والے شخص اور نڈر اور بے باک راہ نماتھے۔ 

جب انہوں نے دیکھا کہ پاکستان کے عوام لاوارث اور بے زبان ہو چکے ہیں تو انہوں نے عوام کی آواز اور ان کا ترجمان بننے کا فیصلہ کرلیا۔ عوام کے دلوں میں جمہوری جذبہ پیدا کیا۔ آمر جرنیل کی طویل آمریت کی وجہ سے پاکستان کے عوام جمہوریت سے نا آشنا ہو چکے تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے 1969ء میں جمہوریت کے بارے میں کہا:’’جمہوریت تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے ۔ جمہوریت بہار کے پھولوں کی خوش بو ہے۔ یہ آزادی کا نغمہ ہے اور ہر احساس سے بڑھ کر ہے، بلکہ یہ احساس سے ماسوا ہے۔ جمہوریت آزادی کا حق ہے۔ آزاد پریس عدلیہ کی آزادی، قانون ساز اداروں کی آزادی اور بااختیار ہونے کی آزادی جمہوریت ہے‘‘۔

انہوں نے ایک منجمد اورآمریت والے معاشرے کو ایک متحرک جمہوری معاشرہ بنادیا تھا، جس کی قیمت انہوں نے جان دے کر ادا کی۔ پاکستان میں اسٹیٹس کو کی حامی قوتیں کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتیں کہ عوام اس قدر با شعور اوربے دار ہو جائیں کہ ان کے سامنے سر اٹھا کر بات کرنے لگیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو زبان اور عزت نفس دے کر بہت بڑا جرم کر ڈالا تھا،جس کی معافی ممکن نہ تھی۔

ذوالفقار علی بھٹونے عالم اسلام کا اقتصادی بلاک بنانے کے لیے لیے سنجیدہ کوششیں کیں۔ انہوں نے پاکستان کے شہریوں کو ایٹمی سائبان مہیا کرنے کے لیے اپنی جان کو بھی داؤ پر لگا دیا اور امریکا کی عبرت ناک مثال بنانے کی دھمکی کو مسترد کردیا۔

انہوں نے پاکستان کو ایک متفقہ اور جمہوری آئین دیا جو آج بھی پورے پاکستان کی سلامتی،آزادی اور یک جہتی کی ضامن دستاویز ہے۔ 1971ء کی جنگ میں ہزاروں فوجی اور سویلین بھارت کے قیدی بن گئے تھے۔ بھٹو پاکستان کی افواج کو عزت اور وقار کے ساتھ بھارت سے آزاد کروا کر لائے۔ ان کا شملہ معاہدہ دنیا کی مختلف جامعات میں سفارت کاری کے نصابوں میں شامل ہے۔

انہوں نے پاکستان کے معاشرے میں جمہوری روح بے دار کرنے اور اس میں کلیدی تبدیلیاں لانے کے لیے30نومبر 1967ء کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر دو روزہ پارٹی کنونشن منعقد کیا، جس میں پیپلز پارٹی کی تشکیل کا اعلان کیا گیا اور9دسمبر 1967ء کو پارٹی کا بنیادی منشور پیش کیا گیا جس میں پارٹی کی بنیاد پروگریسیو، لبرل، سیکولر، ماڈرن اور ترقی پسند نظریات پر رکھی گئی تھی۔ پارٹی کے قیام کا مقصد ہی یہ تھا کہ ملک کے عوام کو جنرل ایوب خان کی فوجی آمریت اور ملکی معیشت پر قابض خاندانوں سے نجات دلائی جائے، غریب عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلائے جائیں۔

بھٹو نے اپنی مختصر سیاسی زندگی میں ملک اور عوام کے لیے تاریخی کارنامے انجام دیے۔ان کے سامنے چار بڑے مقاصد تھے، 1۔ اسلامی دنیا کا اتحاد، 2۔ جوہری طاقت کا حصول (جس کے لیے فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ کا معاہدہ کیا) ، 3۔ عوام کا مورال بند کرنا اور بین الاقوامی سطح پرملک کا امیج بہتر بنانا ، 4۔ ملک کو اقتصادی طور پر مضبوط بنانا۔

ان چاروں مقاصد کے حصول کے لیے بھٹو صاحب نے کٹھن جدوجہد شروع کی۔ پہلے مرحلے میں انہوں نے اسلامی دنیا کے اتحاد کے لیے 24 جون 1972ء سے سات بڑے اسلامی ممالک کا طوفانی دورہ کیا۔ وہ ایران، ترکی، مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا اور شام گئے۔

اسلامی اتحاد کے قیام کے لیے ابتدائی مذاکرات کیے جس میں اسلامی ممالک کا مشترکہ دفاع کرنے لیے اسلامی ممالک کی فوج کا قیام، اقتصادی طاقت حاصل کرنے کے لیے مشترکہ اسلامی بینک کا قیام، جس کی دو بڑی شاخیں، جدہ ؍اسلام آباد میں قائم ہونا تھیں اور تیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا مشورہ جو ذوالفقار علی بھٹو نے عرب دنیا کو دیا جس کے نتیجے میں اوپیک کا قیام عمل میں آیا اور عرب، اسرائیل جنگ میں تیل کے ہتھیار کو اسرائیل کے خلاف کام یابی سے استعمال کیا گیا۔

بھٹو نے 1974ء میں لاہور میں اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس منعقد کی جو24فروری سے 27 فروری تک جاری رہی۔ اس کانفرنس میں 38 اسلامی ممالک کے سربراہوں اور عمائدین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور اسے پوری اسلامی دنیا میں سراہا گیا۔ 

اسے ذوالفقار علی بھٹو کے ایک بڑے کارنامے کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 1974ء میں جب اسرائیل نے امریکا کی مددسے تین عرب ممالک، اردن، مصر اور شام پر حملہ کیا تو بھٹو نے شام کے صدر، حافظ الاسد کی درخواست پر اپنی فضائیہ کے لڑاکا طیارے ان کی مدد کے لیے بھیجے جس کی وجہ سے شام کا تحفظ ممکن ہوا۔ اگر بھٹو کا اسلامی فوج یعنی اسلامی ممالک کا مشترکہ دفاع کا خواب پورا ہو جاتا تو آج ایران، افغانستان، عراق، فلسطین، مصر،شام اور لبنان دشمنوں کی یلغار کا نشانہ نہ بنتے۔

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو غیر وابستہ تحریک کا رکن بنانا چاہتے تھے۔ وہ کسی بڑی طاقت، امریکا یا روس کا حاشیہ بردار نہیں بننا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھائے۔ سیٹو اور سینٹو کی رکنیت چھوڑی اور پاکستان کو غیر جانب دار آزاد اور غیر وابستہ تحریک کا نہ صرف رکن بنایا بلکہ دنیا بھر میں اس مقصد کے لیے تحریک بھی چلائی تا کہ چھوٹے ممالک بھی دنیا میں عزت کے ساتھ رہ سکیں اور انہیں کسی بڑی طاقت کا طفیلی نہ بننا پڑے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ، پاکستان کے وقار اور خود مختاری کے لیے جو جدوجہد کی اس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں آج بھی ان کی عزت ہے۔ آج بھی پاکستان کی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کا اثر نمایاں ہے۔

بھٹو نے 1970ء میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے قوم کو جو انتخابی ایجنڈا دیا تھا وہی ان کی زندگی کامشن تھا ۔ انہوں نے عوام سے عہد کیا تھاکہ سرمایہ داری، جاگیر داری اوراستحصالی نظام کو ختم کر دیا جائے گا تا کہ پاکستان کے عوام کو مساوی مواقعے اور مساوی مراعات میسر ہو سکیں۔پاکستان کے ہر شہری کو روٹی کپڑا اور مکان کی سہولت فراہم کی جاسکے۔

ان کا کہنا تھاکہ تعلیم اور صحت کی سہولتیں تمام شہریوں کو بلا تفریق مہیا کی جائیں گی، نوجوانوں کو روزگار کے مواقعے فراہم کیے جائیں گے، کرپشن کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے، منہگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف تدابیر اختیار کی جائیں گی، بیوروکریسی اور نوکر شاہی کو عوام کا خادم بنایا جائے گا، سامراج کی مداخلت ختم کی جائے گی، آزادیِ صحافت کو یقینی بنایا جائے گا، صحافت پر عائد پابندیاں ختم کر دی جائیں گی اورصوبوں کو صحیح معنوں میں بااختیار اور خودمختار بنایا جائے گا۔

انہوں نے عوام سے عہد کیا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے گی، اقتدار میں غریب طبقات کو شامل کیاجائے گا، عوام کو ایک اچھی حکومت دی جائے گی اور حکومت میں شامل افراد کی دیانت اور اہلیت شک و شبہ سے بالاتر ہوگی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی آخری سیاسی وصیت یہ تھی کہ نوجوان طبقاتی جدوجہد کے ذریعے عوام کی ریاست پر بالادستی قائم کریں، کیوںکہ عوام کی بالادستی کے بغیر پاکستان کے عوام اور ریاست کے مسائل حل نہیں کیے جاسکتے۔

اگرچہ بھٹو کو ایک ’’قاتل‘‘ کی حیثیت سے ایک متنازع عدالتی فیصلے کے ذریعے تختہ دار پر لٹکادیا گیا، جس کا حوالہ بھی عدالتوں میں نہیں دیاجاتا، لیکن پاکستان کی سیاست اور تاریخ سے ان کا نام آج تک نہیں مٹ سکا ہے۔ انہیں اور ان کے خاندان کو طرح طرح کی اذیّتیں دی گئیں اور ایک طویل عرصے تک بھٹو کی تصویر اور ذکر کو بھی ممنوع قراد دے دیا گیا تھا۔

لیکن اس سب کے باوجود عوام کی اکثریت نے نہ تو وقت کی عدالت کے فیصلے کو تسلیم کیا اور نہ ہی حکومتی پروپیگنڈے پر یقین کیا۔ بلکہ اس کا الٹا اثر ہوا اور ہم نے دیکھا کہ ہماری تاریخ میں پہلی بار عوام نے اپنے بچوں کے نام بھٹو کے نام پر رکھّے اور جنرل ضیا کی فصائی حادثے میں موت کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں بھٹو دشمن اسٹیبلشمنٹ کی تمام ترتیکنیکی کوششوں کے باوجود پیپلز پارٹی کو کام یابی ملی۔

پھر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، بھٹو کا سحر بڑھتا گیا اور ان کے مخالفین تاریخ کی دھند میں گم ہوتے گئے۔ آج یہ عالم ہے کہ بھٹو جمہوریت اور انسانی حقوق کی علامت بن چکا ہے اور اسے تختۂ دار پر لٹکانے والے جنرل ضیاتاریخ کے صفحات میں گُم ہوچکے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ جنرل ضیا کے ذریعے سیاسی میدان میں اترنے اور سالوں تک ان کے نام کے گن گانے والے بھی آج ان کا ذکر کرنا یا ان کے ساتھ اپنا تعلق جوڑنا گوارا نہیں کرتے۔

بھٹو کا ایک خواب، اسلامی بلاک کی تشکیل

ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی بلاک کی تشکیل، ان ممالک کو تیل سمیت اپنے وسائل کی طاقت سمجھنے، عالمی سیاست میں اپنی اہمیت منوانے کی راہ دکھائی اور پاکستان کوجوہری طاقت بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ 1974ء میں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس (OIC) کا انعقاد ان کی بڑی کام یابی تھی، جس کا مقصد مغربی اجارہ داری کے خلاف تیل کے ہتھیار کا استعمال اور مشترکہ دفاعی و اقتصادی پالیسی بنانا تھا۔

زیڈ اے بھٹو نےاسلامی ممالک کے راہ نماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا، جس سے عالم اسلام میں یکجہتی کی نئی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے امریکا اور سوویت یونین کے مقابلے میں ایک خودمختار اسلامی بلاک بنانے کی کوشش کی، جس کے تحت مسلم ممالک کی اپنی کرنسی اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی کا تصور پیش کیا گیا۔

1974ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس ذوالفقار علی بھٹو اور اس دور کی عالمی مسلم قیادت کی سیاسی بصیرت کا مظہر تھی۔ پاکستان کے اُس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مختلف الخیال اور باہمی اختلافات رکھنے والے مسلم ممالک کو ایک میز پر جمع کر کے یہ پیغام دیا کہ اگر سیاسی ارادہ موجود ہو تو مسلم دنیا محض جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ایک مؤثر اسٹریٹیجک قوت بھی بن سکتی ہے۔

یہ کانفرنس محض رسمی سفارت کاری نہیں تھی۔ اس کے پیچھے ایک واضح وژن موجود تھا جو تین بنیادی ستونوں پر قائم تھا۔ پہلا ستون اسلامی اتحاد بہ طور اسٹریٹیجک بلاک تھا۔ بھٹو صاحب سمجھتے تھے کہ مسلم ممالک اگر مشترکہ سفارتی مؤقف اختیار کریں تو عالمی سیاست میں ان کی حیثیت محض ردِعمل دینے والی ریاستوں کی نہیں بلکہ فیصلہ کن قوت کی ہو سکتی ہے۔

دوسرا ستون معاشی خود اعتمادی تھا۔ 1970ء کی دہائی وہ زمانہ تھا جب تیل کی دولت رکھنے والے عرب ممالک عالمی معیشت پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ بھٹو کا خیال تھا کہ اگر توانائی، تجارت اور مالیاتی وسائل کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جائے تو مسلم دنیا ایک طاقت ور اقتصادی بلاک بن سکتی ہے۔

تیسرا ستون دفاعی خود مختاری تھا، جس کا اظہار پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے آغاز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بھٹو کے نزدیک عالمی سیاست میں بقا صرف اخلاقی اپیل سے نہیں، بلکہ طاقت کے توازن سے ممکن ہوتی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے ساتھ ایک ایسا راستہ شاید بند ہوگیا جس سے مسلم دنیا میں کسی حد تک مشترکہ سیاسی شعور اور تعاون کی امید بندھی ہوئی تھی۔اسلامی اتحاد کے خواب اور مذہبی انتہاپسندی کے خلاف بھٹو کی سچائی کی آج دنیا قائل ہو رہی ہے۔

1974ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں مسلم اُمہ کے اتحاد اور مضبوطی کےضمن میں تاریخی فیصلے کیےگئے تھے۔ اس کانفرنس کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ کہاجاتا ہے کہ اس کانفرنس میں شامل تمام بڑے راہ نماؤں کومشکوک انداز میں اقتدار سے علیحدہ کیا گیا یاان کی اموات غیرفطری انداز میں ہوئیں۔ مزیدبرآں، اس کانفرنس کے بعد مسلم اُمہ کے اتنے راہ نما دوبارہ کبھی کسی مقام پر ایک چھت تلے اکٹھے نہ ہو سکے۔

متّفقہ آئین، جوہری پروگرام، آزاد خارجہ پالیسی 

1973ء کے متفقہ آئین کی منظوری اور پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی۔انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کوہر قسم کے دباو سے نکال کر اسے آزاد بنانے اور مغربی بلاک سے نکال کر مسلم دنیا اور تیسری دنیا (Third World) کی طرف موڑا۔

مغرب کا ردِّعمل اور دھمکیاں

پاکستان کےجوہری پروگرام اور مسلم ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے مغربی طاقتوں نے بھٹو کے خلاف شدید ردعمل دکھایا۔ مغربی ذرائع ابلاغ اور حکومتوں نے ان پر دباؤ ڈالا جس کے نتیجے میں انہیں سیاسی طور پر عبرت ناک مثال بنانے کی دھمکیاں دی گئیں۔

ہنری کسنجر اور بھٹو کے درمیان ایک تلخ ملاقات کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے جس میں بھٹو کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر پاکستان نے ایٹمی پروگرام ترک نہ کیا توانہیں نشانِ عبرت بنادیا جائے گا۔کہا جاتا ہے کہ امریکا اس وقت صرف ہمارے جوہری پروگرام ہی سے پریشان نہیں تھا بلکہ پاکستان کے غیر جانب دار ممالک کی تنظیم اور تھرڈ ورلڈ کے اتحاد میں شمولیت سے اس کو ماضی کا اتحادی روسی بلاک میں جاتا نظر آ رہا تھا۔

کہاجاتا ہے کہ اسی کی پاداش میں 4؍اپریل 1979کا واقعہ ہوا تھا۔بھٹو تاریخ کا طالب علم تھا اور تاریخ ہی میں زندہ رہنا چاہتا تھا۔ اسے تاریخ کا ادراک تھا۔ اسی لیے پھانسی کی کال کوٹھڑی میں لکھی جانے والی اپنی کتاب،’’ اگر مجھے قتل کیا گیا‘‘میں اس نے آنے والے وقت کے بارے میں میں عرب اور اسلامی دنیا کو خبر دار کر دیا تھا۔ 

اس نے لکھا تھا: ’’ہمیں پتا ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری صلاحیت موجودہے، بھارت کے پاس موجود ہے، اگر نہیں ہے تو اسلامی ممالک کے پاس نہیں ہے۔ مگر اب یہ تبدیل ہونے جارہا ہے۔‘‘ اس نے ایک اور جگہ لکھاتھا: ’’جب میں حکومت سے اس ڈیتھ سیل میں آیا پاکستان نے یہ صلاحیت حاصل کرلی ہے۔‘‘

اسپیشل ایڈیشن سے مزید