• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خوابوں کو تعبیر نہ ملی، اڑان ابھی باقی ہے

2025مجموعی طور پر پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک ایسا سال ثابت ہوا جس میں مشکلات بھی تھیں، مواقع بھی، رکاوٹیں بھی اور کچھ نئی سمتیں بھی کھلتی دکھائی دیں۔ نوجوانوں نے اس سال جہاں معاشی دباؤ کو محسوس کیا، وہیں تکنیکی میدانوں میں آگے بڑھنے کی کوشش بھی جاری رکھی۔ 

یہ سال امید، تھکن، جدوجہد، کامیابی اور ناکا می کی کیفیت لیے ہوئے گزرا۔ دونوں کا عجیب امتزاج رہا۔ معاشی، تعلیمی، سماجی اور ذہنی سطح پر نوجوانوں نے جن حالات کا سامنا کیا وہ اُن کی سوچ، ترجیحات اور مستقبل کے فیصلوں پر گہرا اثر چھوڑ گئے۔

سب سے بڑا مسئلہ نوجوانوں نے مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں برداشت کیا۔ بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اچھی نوکریاں نہیں مل سکیں۔ انٹرویوز ہوتے رہےلیکن سلیکشن کم رہی۔ کچھ نوجوانوں نے کم تنخواہوں پر نوکریاں قبول کیں، کچھ نے کاروبار شروع کرنے کی کوشش کی، اور کئی فری لانسنگ کے میدان میں چلے گئے، مگر وہاں بھی مقابلہ سخت اور کمائی غیر مستحکم رہی۔ 

بہت سے نوجوان صبح شام محنت کے باوجود ماہانہ بجٹ پورا نہ کر پائے ۔ گھر والوں کی توقعات اور معاشی دباؤ نے انہیں مسلسل ذہنی پریشانی میں رکھا،یہی وجہ تھی کہ بیش تر نوجوان اپنے وطن، والدین اور اپنوں کو چھوڑ کر دیارِ غیر چلے گئے، ان میں ڈاکٹرز، انجینئرزاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کے علاوہ سائنس، زراعت، معاشیات اور آرٹس کے ماہرین کی بھی اکثریت شامل تھی۔

بیورو آف ایمیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے پہلے چھ ماہ میں تین لاکھ 36 ہزار سے زائدنوجوان بہتر روزگار کی خاطر ملک چھوڑ کر جاچکے تھے، جس ملک میں تعلیم یافتہ ہنر مندوں تربیت یافتہ نوجوانوں کی کمی ہوجائے تواسے ’ذہن کا انخلا‘ یا ذہانت کا فرار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

تعلیم کے میدان میں بھی 2025 نوجوانوں کے لیے ایک چیلنجنگ سال تھا۔یونیورسٹیوں کی فیسوں میں اضافہ، اخراجات کا بڑھ جانا اور اسکالرشپس کی محدود دستیابی نے بہت سے طلبہ کو پریشان رکھا، کتابیں، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے اخراجات نے طلبہ کی زندگی مشکل بنا دی۔ 

بہت سے نوجوانوں نے پارٹ ٹائم نوکریاں کیں، تاکہ تعلیم کا خرچ پورا کر سکیں، مگر وقت کی کمی نے پڑھائی پر برا اثر ڈالا۔ نوجوانوں کو اپنی ریس مکمل کرنے کے لیے دو دو محاذوں پر لڑنا پڑا ایک طرف تعلیم، دوسری طرف مالی مشکلات۔ ساتھ ہی یہ احساس بھی گہرا ہوتا گیا کہ صرف ڈگری کافی نہیں، بلکہ عملی مہارت ہی اصل طاقت ہے۔

بعض سماجی اور نجی ادارے، این جی اوز اور تعلیمی تنظیمیں کی کوشش رہی کہ تعلیم اور ہنر کی بحالی ہو، تاکہ نوجوان صرف ڈگریاں نہ لیں بلکہ عملی قابلیت بھی حاصل کریں۔ آن لائن کورسز، skills-based تعلیم اور مختصر دورانیے کی تربیتی ورکشاپس وہ متبادل تھے، جن پر نوجوانوں نے زیادہ انحصار کیا۔ جن طلبہ نے سیکھنے کا عمل جاری رکھا، وہ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہے۔

حکومت پاکستان نے ’’سکلز فار آل‘‘ کے تحت ایک لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کو مفت تربیت فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ ’’اسٹارٹ اپ پاکستان‘‘ کے ذریعے نوجوانوں کو انکیوبیشن اور تربیتی سہولیات دی گئیں۔ مختلف انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ پروگرامز بھی متعارف کروائے۔اگرچہ یہ اقدامات قابلِ تعریف ہیں، مگر ان میں بہتری کی گنجائش موجود ہے کیونکہ اکثر اوقات، سفارش اور سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے تقرریوں اور مواقع میں رکاوٹیں آتی ہیں۔

2025صرف ٹیکنالوجی کا سال نہیں تھا بلکہ مقابلے کا سال بھی تھا،نوجوانوں نے خود کو نئے ڈیجیٹل دور کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ کئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنے ہنر دکھانے اور کمائی کا ذریعہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔ کچھ نے آن لائن بزنس شروع کیے، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، ای کامرس اور کنٹینٹ کریئشن نےانہیں کم از کم ایک راستہ ضرور دیا۔ 

کچھ نے ان مواقع سے فائدہ اٹھایا اور اپنی آمدنی میں اضافہ کیا، جبکہ بہت سے نوجوان مسلسل سیکھنے کی کوشش میں رہے۔ مقابلہ سخت تھا اور کامیابی کا سفر آسان نہیں، لیکن پھر بھی یہ راستہ نوجوانوں کے لیے امید کی ایک کرن ثابت ہوا۔وہ نہ صرف عالمی مارکیٹ میں قدم رکھنے کے قابل ہوا بلکہ تیزی سے مقابلہ بھی کر رہا ہے۔ 

چین سے زرعی ٹیکنالوجی کی تربیت حاصل کرکے آنے والے طلباء کا پہلا گروپ
چین سے زرعی ٹیکنالوجی کی تربیت حاصل کرکے آنے والے طلباء کا پہلا گروپ

اس حوالے سے ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل ترقی محض بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی۔ صوبائی اور ضلعی شہروں، حتیٰ کہ نیم شہری و دیہی علاقوں میں بھی نوجوان گرافک ڈیزائن، ورچوئل اسسٹنس، سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ، اور مواد کی تیاری کے ذریعے عالمی مارکیٹ سے رابطے میں آرہے ہیں۔

2025 میںاقوام متحدہ کے لیے منتخب کردہ موضوع بھی نہایت بروقت اور اہم تھا " Empowering Youth Through "

"AI and Digital Skills" اقوام متحدہ اس موضوع پر مباحثوں، کانفرنسوں اور اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر بیداری پیدا کرنے اور پالیسی سازوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس، سوشل میڈیا انفلوئنسنگ، آن لائن کام، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کی روزمرہ زندگی ہی نہیں بلکہ اُن کی شناخت کو بھی بدل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ 2025 کو نوجوانوں کی ٹیکنالوجی سے مضبوط وابستگی کا سال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

2025 میں نوجوانوں کی فلاح و ترقی کے لیےحکومت کی اہم کوششیں

National Youth Employment Plan

مارچ 2025 میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد نوجوانوں کو مارکیٹ کےمطابق مہارت (skills) اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ اس کے تحت اگلے چار سالوں میں ہر سال تقریباً 2.4 ملین سے 6 ملین نوجوانوں کو تربیت دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔

Skills Impact Bond2025 اس جدید ماڈل نے نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے کےلئے نجی سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا۔اس نظام کے تحت نوجوانوں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ایسے ہنر سکھائے جانے کا فیصلہ ہوا، جس سے پاکستان کے نوجوان با اختیار اور ملکی اقتصادی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر سکیں گے۔اس ماڈل کو "Pay-for-Success" بھی کہا جاتا ہے۔

digital Youth Hub ، “ڈیجیٹل یوتھ حب کا افتتاح 26 مارچ 2025 کو اسلام آباد میں وزیر اعظم نےکیا تھا ، یہ پلیٹ فارم یونیسف اور وزیر اعظم یوتھ پروگرام کی شراکت داری سے تیار کیا گیا، جس کے تحت اب تک 26 لاکھ سے زائد نوجوانوں نے اپنی رجسٹریشن کرائی، جو اس پلیٹ فارم کی غیر معمولی مقبولیت اور اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ کو مختلف ملکی اور بین الاقوامی اسکالر شپس کی معلومات حاصل ہوئیں۔

تربیتی پروگرامز ہنر سیکھنے کے خواہشمند افراد کے لیے مختلف تربیتی پروگرامز دستیاب کیے گئے،ملازمتوں، انٹرنشپس اور کاروباری قرضوں تک رسائی دی گئی ۔طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم کی تفصیلات اور درخواست کے طریقہ کار کی بھی سہولت میسرتھی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا زرعی شعبے کی ترقی کے لیے انقلابی اقدام اُٹھایا،انہوں نے1,000 زرعی گریجویٹس کو چین کی معروف یونیورسٹیوں میں 9 جدید زرعی شعبوں میں 3 سے 6 ماہ کی مفت تربیت کا موقع فراہم کرنے کا اعلان کیا اورپہلے مرحلے میں 300 منتخب گریجویٹس پر مشتمل بیچ 16اپریل 2025 میں چین گیا،جہاں انہوں نے ایگریکلچرل کی تربیت مکمل کی۔

دوسرا گروپ بھی چین میں جامع تربیت مکمل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچ گیا۔انہوں نےجدید اسمارٹ فارمنگ ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کی، اس تاریخی اقدام سے نوجوانوں کی مہارت اور چینی ٹیکنالوجی نے مل کر زرعی ترقی کی نئی داستان رقم کی۔ جو ملک کے زرعی شعبے کی جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ یہ تربیت وزیراعظم کے کیپیسیٹی بلڈنگ پروگرام کے تحت ووہان اور چنگدو کے اداروں میں فراہم کی گئی۔

2025 میں سیاست نے نوجوانوں کے ذہنوں میں امید بھی پیدا کی اور مایوسی بھی۔سوشل میڈیا نوجوانوں کے لیے سیاسی شعور اور رابطے کا بڑا ذریعہ بنا ، وہ اس کے ذریعے سیاست کے ہر اتار چڑھاؤ سے لمحہ بہ لمحہ جڑے رہے، مگر عملی طور پر اُن کی آواز فیصلوں تک نہ پہنچ سکی۔ 

 تبدیلی کی توقع، پھر مایوسی، پھر امیدیہ سارا سال جذبات کی اُتار چڑھاؤ میں گزرا۔ نئی نسل کے لیے نہ تو حالات کو سازگار بنایا گیااور نہ ان کو سیاسی اور معاشی طور پر آگے بڑھنے کے وہ مواقع دیے جو ان کا بنیادی حق تھا۔

2025 میں نوجوانوں کی سماجی حالت کو دیکھیں تو یہ سال ایک پیچیدہ مگر حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک طرف مواقع، نئے تجربات، ٹیکنالوجی اور عالمی رابطے تھے، تو دوسری طرف بے یقینی، معاشی دباؤ، عدم استحکام اور ذہنی تھکاوٹ بھی نوجوانوں کے حصے میں آئی۔ نوجوان اس سال مختلف سمتوں میں دوڑتے رہےکہیں امید کے سائے تھے تو کہیں حالات نے قدم روکے رکھے۔

2025 میں نوجوانوں کی جسمانی صحت مجموعی طور پر ایک غیر متوازن سفر سے گزری۔ ایک طرف جم کلچر، فٹنس وی لاگز، ڈائیٹ پلان اور صحت مند طرزِ زندگی کا رجحان بڑھا تو دوسری طرف فاسٹ فوڈ، انرجی ڈرنکس او ر رات دیر تک جاگنے کی عادت عام رہی، جس کا اثر وزن میں اضافہ، معدے کے مسائل اور تھکاوٹ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ فزیکل ایکٹیویٹی کا تناسب کم رہا، اسکرین ٹائم میں اضافہ جس نے جسمانی رفتار کو سست رکھا۔ 

کمردرد، آنکھوں کی کمزوری، مائگرین جیسے مسائل عام دیکھنے میں آئے۔ نوجوانوں میں ڈپریشن، انزائٹی، تنہائی کا احساس، اور فیوچر فوبیا جیسی کیفیتیں عام رہیں۔ سوشل میڈیا کے تقابلی ماحول نے نوجوانوں کو مشہور ہونے، بہترین زندگی دکھانے، خوبصورت نظر آنے اور دوسروں سے آگے بڑھنے کی دوڑ میں لگائے رکھا۔ مشاورت، کونسلنگ کی آگاہی ضرور بڑھی، مگر اس تک رسائی ہر نوجوان کے لیے آسان نہ تھی۔

2025 میں نوجوانوں میں جرائم کا رجحان پہلے کی نسبت زیادہ نمایاں نظر آیا، جس کی سب سے بڑی وجہ معاشی دباؤ اور بے روزگاری تھی۔ بہت سے نوجوان موبائل چھیننا، چوری، دکانوں میں نقب زنی، موٹر سائیکل لفٹنگ اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث نظر آئے۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے کئی نوجوان شہرت، لائکس اور فالوورز کے چکر میں خطرناک حرکات کرتے ہوئے پکڑے گئے اور کچھ جان کی بازی ہار گئے۔ 

سائبر کرائم کا رجحان بھی پہلے سے زیادہ نمایاں دکھائی دیا۔ انہوں نے آن لائن طریقوں سے پیسہ کمانے کی کوشش میں غلط راستے اختیار کیے، جس میں ہیکنگ، سوشل میڈیا اکاؤنٹ چوری کرنا، آن لائن دھوکہ دہی، جعلی ویب سائٹس بنانا، فیک پروفائلز کے ذریعے بلیک میلنگ، اور ڈیجیٹل فراڈ جیسے جرائم شامل تھے۔

2025 میں نوجوان منشیات میں زیادہ ملوث رہے ، شیشہ کیفے، نشہ آور گولیاں، آئس، ہَش نے انہیں نہ صرف جسمانی طور پر نقصان پہنچایا بلکہ انہیں چوری، فراڈ اور منشیات فروشی میں ملوث کیا تاکہ وہ منشیات خرید سکیں۔ ہاسٹلز، یونیورسٹیز، نجی اکیڈمیز اور حتیٰ کہ آن لائن ڈیلیوری کے ذریعے بھی نشہ آسانی سے دستیاب تھا۔یونیورسٹیوں اور کالجوں میں نشے سے متعلق کیسز زیادہ سامنے آئے۔

اگرچہ 2025 مشکلات سے بھرا ہوا سال تھا، لیکن اس سال نے نوجوانوں کو یہ شعور بھی دیا کہ وہ کیا کر سکتے ہیں، کیسے کر سکتے ہیں۔ کچھ نوجوانوں نے مشکلات سے ہار نہ مانتے ہوئے نئے سفر شروع کیے۔ سب سے بڑھ کر، انہوں نے یہ جان لیا کہ صرف امید نہیں بلکہ عملی کوشش اور مسلسل جدوجہد بھی ضروری ہے۔

موقع اُنہی کو ملتا ہے جو حالات کا مقابلہ کر کے آگے بڑھتے ہیں۔ یہی سوچ تھی کہ بہت سے نوجوانوں نے اپنےملک کا نام روشن کیا۔ نوجوان نسل کی توانائیاں، جذبہ اور جدید سوچ کو درست رہنمائی اور مواقع ملیںتو وہ نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

سال2025 مجموعی طور پر نوجوانوں کے لیےامید، جدوجہد، بحران اور نئے راستوں کی تلاش کا سال تھا۔ نہ مکمل طور پر آسان تھا، نہ ہی مکمل طور پر مشکل۔ نوجوانوں میں ٹیکنالوجی کی سمجھ اور خود انحصاری کا جذبہ پہلے سے زیادہ پنپ کر سامنے آیا۔ 

ضروری یہ ہے کہ حکومت، والدین اور معاشرہ مشترکہ طور پر نوجوانوں کی رہنمائی کریں، انہیں تعلیم، تحقیق، تخلیقی سرگرمیوں اور مثبت مشاغل کے مواقع فراہم کریں، تاکہ آنے والے وقت میں ہمارے ملک کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک ہو۔