اسلام آباد(اے پی پی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے 15/16 سالہ لڑکے کے قتل کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی سزا ئے موت عمر قید میں بدلنے کے بعد مزید نرمی کرتے ہوئے قتل کو دفعہ 302(b) کے بجائے 302(c) تعزیرات پاکستان کے زمرے میں قرار دے دیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنھور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے شہزاد لیاقت کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ کا فیصلہ جزوی طور پر تبدیل کر دیا۔عدالت کے مطابق واقعہ اچانک جھگڑے کے دوران غصے کی حالت میں پیش آیا جس میں کسی قسم کی پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہیں ہوتی۔