دبئی (عبدالماجد بھٹی) آسٹریلیا کے پاکستانی نژاد ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ شاندار کیریئر کے بعد نم آنکھوں کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ سے رخصت ہوگئے۔ وہ سسٹم کو شکست تو نہ دے سکے لیکن کئی رازوں سے پردہ فاش کرگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیریئر میں کئی بار نسلی امتیاز کا شکار ہوئے، 2020 میں بھی پاکستانی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی وجہ سے اُنہیں ’سست‘ کہا گیا۔ 2023 میں غزہ کے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں بازو پر سیاہ پٹی باندھنے پر بھی آئی سی سی نے اعتراض کیا تھا ۔ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ سے فرسٹ کلاس کرکٹ شروع کرنے والے عثمان خواجہ سڈنی میں ایشز سیرز کا پانچواں اور پنک ٹیسٹ کھیل کر ریٹائر ہو جائیں گے ۔ جمعرات کو اپنی اہلیہ اور دونوں بیٹوں کے ہمراہ 50 منٹ طویل جذباتی پریس کانفرنس میں عثمان خواجہ نے خاموشی توڑ دی ۔ 39 سالہ عثمان خواجہ آسٹریلیا کے پہلے پاکستان میں پیدا ہونے والے اور پہلے مسلمان ٹیسٹ کرکٹر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والا مسلمان ہوں جسے کہا گیا تھا کہ وہ کبھی بھی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کیلئے نہیں کھیلے گا۔ اب میری طرف دیکھو۔ اب بھی ’نسلی دقیانوسی خیالات‘ سے لڑ رہا ہوں۔ پہلے ٹیسٹ سے ایک روز قبل جب گالف کھیلنے گیا اور بعد میں کمر میں تکلیف ہوئی تو مجھ پر تنقید کی گئی۔ ایشز کیلئے میری تیاری پر سوال اُٹھائے گئے۔ کہا گیا کہ میں ٹیم کیلئے سنجیدہ نہیں۔ ٹیسٹ میچ سے ایک دن پہلے گالف کھیلی، یہ خود غرضی ہے۔ سخت ٹریننگ سے کتراتا ہے۔ کھیل سے ایک دن پہلے ٹریننگ نہیں کی۔ سست ہے۔ یہ وہی نسلی تصورات ہیں، جن کے ساتھ میں بڑا ہوا ہوں۔ میں نے سوچا تھا کہ میڈیا اور سابق کھلاڑی آگے بڑھ چکے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ میں آپ کو ان گنت لڑکوں کی تعداد بتا سکتا ہوں، جنھوں نے ایک دن پہلے گالف کھیلی، انجری ہوئی لیکن اُن کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولا۔ اس سے بھی زیادہ نام بتا سکتا ہوں، جنھوں نے ایک رات پہلے 15 بیئر کے گلاس پیے اور انجری کا شکار ہوئے اور کسی نے ایک لفظ نہیں کہا۔ لیکن جب میں انجری کا شکار ہوتا ہوں تو سوال اُٹھائے جاتے ہیں۔ جب کوئی انجری کا شکار ہوتا ہے تو اس سے ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے، جس طرح جوش ہیزل وڈ اور نیتھن لائن کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ اس کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتا، لیکن مجھے ایسا لگا جیسے اس کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت ہے۔ میں اپنے آپ کو عوام کا چیمپئن کہتا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ ہر کوئی مجھ سے پیار کرتا ہے، بلکہ اس لیے میں ایسی بات کرتا ہوں، جن کے بارے میں دوسرے لوگ نہیں کرتے۔ اب یہ کہا جائے گا کہ میں نسلی کارڈ کھیل رہا ہوں۔ لیکن یہ وہ چیزیں ہیں، جو آئے روز ہمارے سامنے ہوتی ہیں۔ لیکن ہم اس پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔