لاہور (آصف محمود بٹ) پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ایسوسی ایشن (پنجاب چیپٹر) کے صدر بابر امان بابر نے وفاق اور صوبوں کے درمیان موجودہ سول سروس نظام کا بھرپور اور مدلل دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کی صوبوں میں تعیناتی کا موجودہ نظام نہ صرف آئین کے عین مطابق ہے بلکہ تاریخی، قانونی اور وفاق و صوبوں کے باہمی اتفاقِ رائے پر مبنی ہے۔سروس اسٹرکچر پر نظرثانی سے قبل قومی اتفاقِ رائے ضروری، بغیر مشاورت تبدیلی سے وفاق کمزور ہوگا۔صدر ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اس معاملے پر سیاسی مشاورت، قانون سازی اور عدالتی فیصلوں کے ذریعے پہلے ہی حتمی فیصلہ ہوچکا ہے، اس لیے کسی نئے قومی اتفاق کے بغیر اس ڈھانچے کو دوبارہ چھیڑنا مناسب نہیں۔روزنامہ “جنگ” سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ایسوسی ایشن (پنجاب چیپٹر) کے صدر بابر امان بابر نے کہا کہ یہ نظام برصغیر کی انتظامی تاریخ کا تسلسل ہے جو قیامِ پاکستان کے بعد آئینی ارتقا کے ساتھ آگے بڑھا۔ بابر امان بابر کے مطابق اسی قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر نومبر 1950 میں کابینہ کی قرارداد کے ذریعے سول سروس آف پاکستان قائم کی گئی، جسکے بعد 1954 میں سول سروس آف پاکستان (کمپوزیشن اینڈ کیڈر) رولز بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پی اے ایس اور صوبائی سروسز کے درمیان اسامیوں کی تقسیم کسی زبردستی کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل مشاورت کے بعد طے ہوئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں 2014 میں 1954 کے قواعد میں ترامیم کی گئیں، 2020 میں مزید اصلاحات ہوئیں اور 2021 میں کیڈر ریشنلائزیشن کی گئی، وہ بھی صوبوں سے مشاورت کے ساتھ۔ ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ نظام جامد نہیں بلکہ مشاورتی اور قانونی بنیادوں پر مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔