• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، چین، اقوام متحدہ، امریکا صدر مادورو اور اہلیہ کو رہا کرے، روس، تحمل کا مظاہرہ کریں، یورپ، علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے، ایران، اٹلی اور اسرائیل کا خیرمقدم

پیرس، فرانس(اے ایف پی، جنگ نیوز) وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کا باعث بننے والے امریکی فوجی آپریشن نے عالمی برادری میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جس پر واشنگٹن اور کاراکاس کے اتحادیوں اور حریفوں دونوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔چین اور اقوام متحدہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قانون کی خلاف وزی کی گئی ہے،روس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر مادورو اوران کی اہلیہ کو رہا کرے، برازیل نے اپنے ردعمل میں کہا کہ یڈ لائن کراس کی گئی،یورپی یونین نے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، ایران نے اپنے رد عمل میں کہا کہ علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہوئی ہے ،جنوبی افریقا نے بھی حملے کی مذمت کی ہے جبکہ حزب اللہ نےوینزویلا کے خلاف دہشت گردانہ جارحیت اور امریکی بدمعاشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکی جارحیت اور تکبر کے مقابلے میں وینزویلا کے عوام، صدارت اور حکومت کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے ، امریکا کے دیرینہ اتحادیوں اسرائیل اور اٹلی نے حملے کو جائز قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے، برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ حملے میں ملوث نہیں ہے ،فرانس نے بھی حملے کی مذمت کی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق وینزویلا پرحملے کے بعد روس اور ایران جیسے ممالک، جن کے مادورو حکومت کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، نے فوری طور پر اس آپریشن کی مذمت کی، لیکن ان کی تشویش میں فرانس اور یورپی یونین جیسے امریکا کے اتحادی بھی شریک نظر آئے۔روس نے امریکی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ "اپنے موقف پر نظر ثانی کرے اور ایک خود مختار ملک کے قانونی طور پر منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو رہا کرے"۔چین نے کہا کہ "چین کو گہرا دھچکا لگا ہے اور وہ ایک خود مختار ریاست کے خلاف امریکا کے طاقت کے کھلے عام استعمال اور اس کے صدر کے خلاف کارروائی کی شدید مذمت کرتا ہے"۔ایران نے کہا کہ وہ "وینزویلا پر امریکی فوجی حملے اور ملک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتا ہے"۔میکسیکو نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے "علاقائی استحکام شدید خطرے میں پڑ گیا ہے"۔کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے امریکی کارروائی کو لاطینی امریکا کی "خودمختاری پر حملہ" قرار دیا جو انسانی بحران کا باعث بنے گا۔برازیلی صدر لولا ڈی سلوا نے امریکی حملوں کو وینزویلا کی خودمختاری کی "سنگین توہین" قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔وینزویلا کے قریبی اتحادی کیوبا نے اسے "بہادر وینزویلا کے عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی" قرار دیا۔اسپین نے بحران میں ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے "کشیدگی میں کمی اور تحمل" کا مطالبہ کیا۔فرانس نے امریکی آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے بین الاقوامی قانون کو نقصان پہنچایا ہے اور وینزویلا کے بحران کا کوئی بھی حل باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا۔یورپی یونین نے ان پیش رفتوں پر تشویش کا اظہار کیا اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا، اگرچہ اس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مادورو کے پاس "قانونی جواز کی کمی" ہے۔برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ تمام ممالک کو "بین الاقوامی قانون کی پاسداری" کرنی چاہیے اور واضح کیا کہ "برطانیہ اس آپریشن میں کسی بھی طرح شامل نہیں تھا"۔ایک بڑے یورپی ملک اٹلی کی جانب سے امریکی آپریشن کی حمایت کے غیر معمولی اظہار میں، انتہائی دائیں بازو کی اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے دلیل دی کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی "جائز" اور "دفاعی" تھی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس امریکی حملوں پر "شدید فکر مند" ہیں۔ ان کے ترجمان کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ "ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے"۔

اہم خبریں سے مزید