کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان اور سوڈان کے درمیان 1.5ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ آخری مراحل میں ہے‘دفاعی ذرائع کے مطابق سوڈان کو ہتھیار، جنگی طیارے اور ڈرون فراہم کئے جائیں گے‘پاکستان کے ریٹائرڈائیر مارشل عامر مسعود نے بتایا کہ پاکستان سوڈان کو10قراقرم-8جیٹ، سپر مشاق تربیتی طیارے،2سو ڈرون اور ممکنہ طور پر JF17 تھنڈر لڑاکا طیارے بھی دے گا‘ فنڈز سعودی عرب کی جانب سے فراہم کئے جانے کا امکان ہے۔ایک ذریعہ نے بتایا کہ سعودی عرب نے اس ڈیل میں ثالثی کی ہے‘ برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق پاک فضائیہ کے ایک اعلیٰ سابق عہدیدار اور تین دیگر ذرائع کے مطابق، پاکستان کی جانب سے سوڈان کو ہتھیاروں اور جیٹ طیاروں کی فراہمی کا 1.5ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ جلد طے پانے کا امکان ہے‘اس معاہدے سے سوڈانی فوج کی عسکری صلاحیت میں اضافہ ہوگاجو پیراملٹری فورس RSF کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ایک ذریعہ نے بتایا کہ سعودی عرب نے اس ڈیل میں ثالثی کی ہے۔پاکستانی فوج اور وزارتِ دفاع نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی طرح سوڈانی فوج کے ترجمان نے بھی تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا ۔ معاملے سے باخبر ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کے ساتھ اس معاہدے میں10 قراقرم-8(K-8) ہلکے لڑاکا طیارے ، جاسوسی اور خودکش حملوں کیلئے 200 سے زائد ڈرونز، اور جدید فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔پاک فضائیہ کے معاملات پر نظر رکھنے والے ریٹائرڈ ایئر مارشل عامر مسعود نے اسے ایک "حتمی معاہدہ" قرار دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ K-8 طیاروں کے علاوہ اس میں سپر مشاق تربیتی طیارے اور ممکنہ طور پر چین کے تعاون سے تیار کردہ جے ایف-17 (JF-17) تھنڈر فائٹرز بھی شامل ہیں، تاہم انہوں نے طیاروں کی تعداد یا ترسیل کے شیڈول کی تفصیلات نہیں دیں۔پاکستان کی جانب سے ملنے والی یہ امداد، بالخصوص ڈرونز اور جیٹ طیارے، سوڈانی فوج کو دوبارہ فضائی برتری حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ جنگ کے آغاز میں سوڈانی فوج کو برتری حاصل تھی لیکن آر ایس ایف (RSF) نے ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے کئی علاقے قبضے میں لے کر فوج کی پوزیشن کمزور کر دی ہے۔ ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس ڈیل کی مالی معاونت کون کر رہا ہے، لیکن عامر مسعود کا کہنا ہے کہ فنڈز سعودی عرب کی جانب سے فراہم کئے جانے کا امکان ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب خلیجی خطے میں اپنے حامی ممالک کے لیے پاکستانی فوجی ساز و سامان کی خریداری اور تربیت میں تعاون کر سکتا ہے۔ایک ذریعے نے بتایا کہ سعودی عرب نے اس ڈیل میں ثالثی کی ہے، لیکن ابھی ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ وہ ان ہتھیاروں کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ ایک اور ذریعے کا کہنا تھا کہ سعودی عرب فنڈز فراہم نہیں کر رہا۔ برطانوی نیوزایجنسی پہلے ہی رپورٹ کر چکا ہے کہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان 2 سے 4 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔ عامر مسعود کے مطابق سوڈان کیلئےہتھیاروں کی فراہمی اس وسیع معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے۔یہ معاہدہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی شعبے کے لیے ایک اور بڑی کامیابی ہے۔ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ تنازع میں پاکستانی طیاروں کے استعمال کے بعد سے عالمی سطح پر پاکستانی ہتھیاروں میں دلچسپی بڑھی ہے۔گزشتہ ماہ، پاکستانی حکام نے لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زائد کے اسلحے کا معاہدہ کیا، جو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی فروخت میں سے ایک ہے اور اس میں جے ایف-17 طیارے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، بنگلہ دیش کے ساتھ بھی دفاعی تعاون پر بات چیت جاری ہے۔پاکستان اپنی اس ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت کو طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے ایک اہم انجن کے طور پر دیکھتا ہے۔