اسلام آباد (جنگ رپورٹر) پنجاب کی ضلعی عدلیہ کے چند ججوں کے والدین کی جانب سے مبینہ طور پرسپریم جوڈیشل کونسل کوبھجوائی گئی ایک شکایت میں لاہور ہائیکورٹ کے بعض ججوں پر جعلی ڈگریاں رکھنے اور ضلعی عدلیہ کے متعددججوں کوذاتی پسند وناپسند کی بناء پر نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف ججوں کے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی کے الزام میں انکوائری کرکے ان کے عہدوں سے فارغ کرنے کی استدعا کی گئی ہے ،جمعہ کے روزپنجاب کی ضلعی عدلیہ کے چند ججوں کے والدین(جن کے نام شکایت میں ظاہر نہیں کئے گئے ) کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوائی گئی شکایت میں شکایت گزار والدین نے مزکورہ بالا الزامات عائد کرتے ہوئے ججوں کی ڈگریاں چیک کروانے کی استدعا کی ہے ،یاد رہے کہ چند روز بعد لاہور ہائی کورٹ کے متعدد ایڈیشنل ججوں کی مستقلی پر غور کیا جانا ہے۔ 13صفحات پر مشتمل مذکورہ بالا شکایت کی پی ڈی ایف فائل سارا دن عدالتی رپورٹروں کے وٹس ایپ گروپوں میں گردش کرتی رہی ہے۔اس سلسلے میں جب بعض ججوں کے قریبی حلقوں سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ آزاد عدلیہ کے خلاف سازش ہے اور ججوں کو بدنام کرنے اور انہیں بلیک میل کرنے کی بھونڈی کوشش ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قابل ججوں کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں تاکہ آزاد عدلیہ کو دباؤ میں لایا جا سکے۔