• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ادارہ ترقیات کراچی میں پلاٹوں کی جعلی دستاویزات بنانے کی شکایات جاری، ریٹائرڈ افسران اور ملازمین معاملات سلجھانے میں مصروف

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ادارہ ترقیات کراچی میں پلاٹوں کی جعلی دستاویزات بنانے اور غیر قانونی الاٹمنٹ کی شکایات جاری، مختلف اوقات میں بنائی گئ تحقیقاتی کمیٹیوں کی رپورٹس بھی سامنےنہ آسکیں اطلاعات کے مطابق مافیا اب بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف ہے جبکہ محکمہ لینڈ ،ریکوری ،آئی ٹی اوردیگر شعبوں کے ریٹائرڈ ہونے والے بعض افسران اور ملازمین سارا دن کے ڈی اے کے دفاتر میں موجود رہتے ہیں اور شہریوں کی لینڈ سے متعلق فائلوں کے معاملات سلجھانے میں مصروف نظر آتے ہیں چند ماہ قبل سابق وزیر بلدیات سعید غنی کے حکم پر لوکل گورنمنٹ کی جانب سے شہر کے 8بڑے پلاٹوں جس میں کلفٹن بلاک5 کا دوہزار گزر قبے کا پلاٹ بھی شامل تھا ان میں مبینہ جعلسازیوں کے انکشافات پر تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا اور 15روز میں انکوائری مکمل کی جانی تھی تاہم پانچ ماہ سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود اس کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں آسکی ہے اسی طرح موجودہ ڈا ئریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان صدیقی کے حکم پر 10اکتوبر2025ء کو فیڈرل بی ایریا بلاک 7کےایک پلاٹ جس کا رقبہ400 گز ہے اس کی خلاف ضابطہ ٹرانزیکشن پر بنائی گئی 10رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ بھی تاحال منظر عام پر نہیں آسکی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلساز مافیا نے جعلی کاغذات پرکے ڈی اے اسکیم36گلستان جوہر کے متعدد پلاٹس کی ٹرانزیکشن بھی مکمل کرلی ہیں جس میں بلخصوص بلاک6اور بلاک7کے قیمتی پلاٹس شامل ہیں اور ان پلاٹوں کو بھی ٹھکانے لگانے کی کوشش کی جارہی ہےموجودہ صورتحال میں شہری حلقوں اور ادارے کے سینئر افسران نے وزیر بلدیات اور ڈی جی کے ڈی اے سے فوری نوٹس اور تمام پلاٹوں کی ٹرانزیکشن کی اسکروٹنی کا مطالبہ کیا ہے ملازمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب تک ادارے کی زمینوں کے ریکارڈ کو مکمل کمپیوٹر ائز نہیں کیا جاتا مذکورہ گھپلوں پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

ملک بھر سے سے مزید