کراچی (ذیشان صدیقی/ اسٹاف رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے معروف شاعر احمد فراز کی سالگرہ کے موقع پر ’’فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے‘‘کے عنوان سے نشست کا انعقاد حسینہ معین ہال میں کیاگیا، جہاں سالگرہ کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔اس موقع پر فن و ادب سےوابستہ شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی، نشست کا آغازاحمد فراز کی فنی زندگی پر مبنی شوریل سے کیا گیا، معروف شاعرہ زہرا نگاہ اور صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے شاعر احمد فراز پر تفصیلی گفتگو کی۔ تفصیلات کےمطابق کراچی آرٹس کونسل کی جانب سے معروف شاعر احمد فراز کی سالگرہ کے موقع پر ’’فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے‘‘کے عنوان سے نشست کا انعقاد کیاگیا جس میں معروف شاعرہ زہرا نگاہ اور صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے شاعر احمد فراز پر تفصیلی گفتگو کی۔ زہرا نگاہ کی دلچسپ اندازِ گفتگو سے ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ نشست میں موجود شعراء اور حاضرین نے احمد فراز کے اشعار سناکر محفل کو چار چاند لگادیئے۔ جوائنٹ سیکرٹری آرٹس کونسل و معروف ادیبہ نور الہدیٰ شاہ، پروفیسر سحر انصاری، عنبریں حسیب عنبر، شاہد رسام، ہما میر ، عروسہ علی ، امجد حسین شاہ، اقبال لطیف، شکیل خان، سعدیہ حریم سمیت فن و ادب سے وابستہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ احمد فراز کی سالگرہ کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔نشست کا آغاز شاعر احمد فراز کی فنی زندگی پر مبنی شوریل سے کیاگیا، اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے ابتدائیہ کلمات میں کہاکہ فراز صاحب کے والد فارسی کے معتبر شاعر تھے، احمد فراز 12 جنوری، 1931ء کو کوہاٹ ،خیبر پختونخواہ ،پاکستان میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام سید احمد شاہ تھا، احمد فراز نے جب شاعری شروع کی تو اس وقت ان کا نام احمد شاہ کوہاٹی ہوتا تھا جو بعد میں فیض احمد فیض کے مشورے سے احمد فراز ہو ا، ہندوستان میں رہنے والے ادیبوں کے لیے فارسی نے بہت آسانی کی ، پنجاب کی مٹی میں اردو کی ترویج کی۔